مری میں اسکول ٹیچر کو زندہ جلانے کی پولیس کو کوئی شہادت نہیں ملی
| |
Home Page
بدھ 03 شوال المکرم 1438ھ 28 جون 2017ء
June 30, 2016 | 12:00 am
مری میں اسکول ٹیچر کو زندہ جلانے کی پولیس کو کوئی شہادت نہیں ملی

Todays Print

اسلام آباد (رپورٹ…وسیم عباسی) مری میں 19 سالہ اسکول ٹیچر کو جلائے جانے کا ڈراپ سین شاید ویسا نہ ہو جو میڈیا میں سامنے آیا ہے۔ایک اعلیٰ سطح پولیس ٹیم نے اپنی تحقیقات مکمل کرلی ہے اور اپنی تحقیقات میں اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ابتدائی دعوئوں کے برخلاف اسے قتل نہیں بلکہ خودکشی کا واقعہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ پولیس کو کوئی ایک شہادت بھی نہیں ملی جس کی بنیاد پر قتل کی واردات قرار دیاجاسکے۔ ذرائع کے مطابق پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ آئندہ دو دنوں میں وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کردی جائے گی۔ تحقیقات میں ماریہ صداقت کی جانب سے خودسوزی کے امکان کی جانب اشارہ کیا گیا ہے جس کا اسکول کے پرنسپل ماسٹر شوکت کے بیٹے ہارون سے تنازع ہوگیا تھا۔ شوکت اس مقدمے میں مرکزی ملزم اور اڈیالہ جیل میں قید ہے۔ ماریہ کو 80فیصد جھلسنے پر 31 مئی کو پمز لایا گیا تھا، جہاں وہ ایک دن بعد ہی زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔ اپنی موت سے قبل پولیس کو دیئے گئے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ اور اس کی ذہنی معذور بہن گھر پر تھے جب شوکت بمعہ میاں ارشد، رفعت محمود اور دیگر تین نامعلوم افراد کے ساتھ ان کے گھر آیا اور شوکت کے بیٹے ہارون کے ساتھ شادی سے انکار پر اسے مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگادی۔مری پولیس نے مقدمہ درج کرکے شوکت اور اس کے بیٹے ہارون کو گرفتار کرلیا۔ بعدازاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ہدایات پر لاہور سے پولیس کی اعلیٰ سطح ٹیم کو معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ڈی آئی جی ابوبکر خدابخش کی سربراہی میں 4سینئر پولیس افسران پر مشتمل ٹیم نے تحقیقات کی لیکن ایسی کوئی شہادت نہیں ملی کہ ملزمان وقوعہ پر موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق متوفیہ کے خاندان نے بھی پولیس کو ذاتی موبائل فون دینے سے انکار کردیا۔ پولیس تحقیقات کے مطابق ماریہ کے شوکت کے شادی شدہ بیٹے ہارون سے تعلقات تھے جس کا کہنا ہے کہ شادی سے انکار کی صورت میں ماریہ نے ہارون کو خودکشی کرلینے کی دھمکی دی تھی۔ ہارون نے اس حوالے سے موبائل فون پرگفتگو کی شہادت بھی پیش کی تاہم رابطہ کرنے پر ماریہ کے والد صداقت عباسی نے کہا کہ ان کی بیٹی کوئی پرائیوٹ فون استعمال نہیں کرتی تھی اور پولیس کو بستر مرگ پر ماریہ کے بیان کی روشنی میں تحقیقات کرنی چاہئے۔ صداقت عباسی نے کہاکہ جب وہ ایک جنازے میں شرکت کے بعد گھر آئے تو میں نے ماریہ کو آگ  کی لپیٹ میں دیکھا۔ ان کی سالی جو وہاں موجود تھی، اس نے بتایا کہ شوکت چار دیگر افراد کے ساتھ آیا اور مٹی کا تیل چھڑک کر ماریہ کو آگ لگادی۔ صداقت نے الزام عائد کی اکہ پولیس اپنی تحقیقات میں تفصیلات نہیں بتا رہی ہے۔شوکت کے ساتھ مالی تنازع کے حوالے سے صداقت نے کہا کہ دونوں نے 5سال قبل مشترکہ کاروبار شروع کیا تھا لیکن ساری سرمایہ کاری ضائع گئی اور ان پر شوکت کا کوئی پیسہ نہیں نکلتا۔ سپریم کورٹ کی حقائق جاننے والی ٹیم کی رکن تہمینہ محب االلہ نے ماریہ کے گھر کا دورہ کیا اور  ان کا کہنا ہے کہ علاقے کے کسی بھی مکین نے ایسا واقعہ ہونے کی تصدیق نہیں کی۔ تاہم ماریہ کی والدہ نے بتایا کہ ان کی چھوٹی بیٹی جو ذہنی معذور ہے، اس نے واقعہ دیکھا اور کہتی ہے رہی کہ باہر نہ جائو، وہ تمہیں جلادیں گے۔ تہمینہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان کی ٹیم اپنی رپورٹ  دینے سے قبل ملزمان سے رابطہ کرے گی۔ رابطہ کرنے پر پولیس کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی ابوبکر خدابخش نے بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ کو حتمی شکل دی جارہی ہے اور آئندہ دو دنوں میں پیش کردی جائےگی۔تاہم انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔