پنجاب میں بلدیاتی انتخابات

January 21, 2022

وزیراعظم عمران خان نے بدھ کے روز پنجاب کے پانچ بڑے شہروں کی ماسٹر پلاننگ سے متعلق اجلاس کے موقع پر ممکنہ میئرز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے صوبے میں 15مئی کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ مرحلہ وار ہونے والے ان انتخابات کا سلسلہ جون تک جاری رہے گا۔ دو ہفتے قبل الیکشن کمیشن حکومت پنجاب سے کہہ چکا ہے کہ اسے انتخابی عمل کے سلسلے میں کسی ٹیکنالوجی بشمول ای وی ایم کے استعمال پر کوئی اعتراض نہیں۔ اس ضمن میں 6جنوری کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس میں حلقہ بندیوں سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ واضح ہو کہ صوبے میں مقامی حکومتوں کی پانچ سالہ مدت 31دسمبر 2021کو ختم ہو چکی ہے جس کے بعد 120دن کے اندر نئے انتخابات کا انعقاد ضروری ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے 2019میں نئی قانون سازی کے بعد بلدیاتی ادارے تحلیل کر کے وہاں ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیے تھے جنہیں بعدازاں سپریم کورٹ کے حکم پر بحال کرنا پڑا تھا اور اب خیبرپختونخوا کی طرح پنجاب میں بھی الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کی روشنی میں 15مئی کے متذکرہ شیڈول کا وزیراعظم کی طرف سے اعلان یقیناً حکومت کا حتمی فیصلہ ہے۔ گورنر پنجاب نے گزشتہ ماہ صوبائی کابینہ سے منظور شدہ لوکل باڈی آرڈی ننس 2021پر دستخط بھی کر دیے ہیں جس کے بعد نئے بلدیاتی نظام کے نفاذ کا عمل مکمل ہو چکا ہے اب انتخابات کا انعقاد باقی ہےجس میں میئر کا انتخاب براہ راست ہوگا۔ یہ الیکشن پی ٹی آئی کے عوامی سطح پر گراس روٹ لیول وژن کے تحت خامیوں سے حتی الوسع پاک ایک ایسے نظام کے تحت کرائے جا رہے ہیں جس کا مطمع نظر قومی آمدنی کے ثمرات کابلا رکاوٹ نچلی سطح تک پہنچنا ہے تاہم بعض سماجی ناہمواریوں کے تناظر میں اسے کامیابی سے مکمل طور پر ہمکنار کرنا پی ٹی آئی حکومت کیلئے ایک چیلنج سے کم نہیں۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998