امریکہ افغان اثاثے بحال کرے

June 27, 2022

امریکہ کی مسلط کردہ دو عشروں پر محیط جنگ کے نتیجے میں سنگین انسانی مسائل سے دوچار افغانستان کے 9ارب ڈالر کا امریکی حکومت کی جانب سے منجمد رکھا جانا بلاشبہ کھلی بے انصافی ہے۔اس کی وجہ سے افغانستان اقتصادی و تجارتی سرگرمیوں کے فقدان، زراعت و صنعت کی تباہی،خشک سالی اور قحط جیسی صورت حال کا شکار ہے۔ چین،پاکستان اور چند دیگر ممالک کی طرف سے امداد مہیا کرنے پر حالات میں وقتی بہتری آئی لیکن افغانستان اپنے مسائل پر کماحقہ قابو پانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔انہی حالات میںگزشتہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات افغانستان بدترین زلزلے کی زد میں آ گیاجس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق لگ بھگ دو ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے اور ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کا کام ہنوز جاری ہے۔ان ناگفتہ بہ حالات میں طالبان کاافغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ صد فیصد درست ہے۔ترجمان افغان وزارت خارجہ عبدالقہار بلخی نے کہا ہے کہ پابندیاں ہٹا کر اورافغان اثاثے غیر منجمد کر کے افغانوں کو جینے کا حق دیا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کے حوالے سے امریکی رویہ ابھی تک معاندانہ ہے، طالبان سے مذاکرات کرکے اس نے اپنی افواج تو یہاں سے نکال لیںلیکن طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کیا جبکہ کامیاب مذاکرات کا یہ منطقی تقاضا تھا کہ ان کے نتیجے میں بننے والی حکومت کو بھی تسلیم کیا جاتا لیکن جو بائیڈن انتظامیہ نے معاشی و اقتصادی پابندیاں عائد کر کے افغان اثاثے بھی منجمد کر دیے۔کوئی بھی حکومت بغیر سرمائے کے،ایک تباہ حال ملک کو کیسے چلا سکتی ہے؟عالمی برادری کو اس پر غور کرنا اور امریکہ پر دباو بڑھانا ہوگا کہ امریکہ نہ صرف افغانستان پر عائد پابندیاں ہٹائے بلکہ اس کے اثاثے بھی بحال کرے ورنہ دنیا میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیرنہ ہو پائے گا۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998