سالارِاعظم سے سیاسی قیادت کی امیدیں !

November 27, 2022

’’موصوف صوم و صلوٰۃ کے پابند، صبح کی سیر کے شوقین اور جمہوریت کے بجائے خلافت میں یقین رکھتے ہیں!‘‘یہ وہ جملہ ہے جو ایک بڑے کالم نگار پر ایک محقق نے اپنے تھیسس میں داغ کر ایک اعلیٰ ڈگری کے حصول کا اعزاز پایا۔ پس یہ ثابت ہوا ’’چاہنے والے‘‘ تحقیق میں بھی الفت کا سماں سانچ لیتے ہیں اور صداقت کو بالائے طاق رکھ کر بھول جاتے ہیں کہ علمی بحث اور فلمی بحث میں معمولی سا فرق بھی زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ اِسی کالم نگار دوست کا ایک دن 'صبح ایک بجے فون آ رہا تھا تو انہوں نے پہلے جاگ جانے والے دوست کو کہا کہ، فون لے لیں اور بتا دیجئے کہ میں تھوڑی دیر تک فون کروں گا۔ یہ دوست مگربار ہا شب بیداریوں کے باوجود موصوف سے بس اتنا ہی آشنا تھا جتنے الیکٹ ایبل اور سلیکٹ ایبل جمہوریت سے۔ فون کان کو لگاتے ہی کہہ دیا، موصوف آپ کو ابھی کال کرتے ہیں وہ نماز پڑھ رہے ہیں۔ سینکڑوں میل دور سے فون کرنے والے اور زندگی میں صرف ایک آدھ بار ملنے والے کالر نے کہا، سرکار ! بات کرائیں نہ کرائیں لیکن مطلوب و مقصود پر 'الزام تو نہ لگائیں۔ دور والا اپنے آپ کو محض فقیر گردانتا ہے اور یہ قربت والا بھی تھیسس والے کی بطورِ محقق دریافت معروف ہے۔ وہ جو کبھی ملا نہ تھا اس کا موصوف کو محض تھیسس کا عکس اور شکریہ کا خط ہی ملا تھا، تاہم یہ ادراک بھی ہوا کہ، اسے کہتے ہیں سیاسیات اور جرنلزم پر تحقیق ۔۔۔ پھر کہتے ہیں جمہوریت پروان نہیں چڑھتی اور صحافت پَلے نہیں پڑتی!فقیر جو کہانی آج سپردِ قلم کرنے کے درپے ہے اِس کہانی کو بس اتنا ہی 'جانتا ہے جتنا وہ مذکورہ بالا تھیسس کرکے استاد لگ جانے والا۔ اس کی مجبوری ڈگری تھی اور میری مجبوری حالیہ 'انقلابی صورت حال پر ایک موثر کالم۔ تو عرض کیا ہے، میں جناب عاصم منیر کے آرمی چیف بننے پر سابق وزیراعظم عمران خان اور جنابِ صدر ڈاکٹر عارف علوی کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ ان لوگوں کے عزم، قربانی، جدوجہد اور جمہوریت پسندی کے سبب آرمی چیف کا معاملہ احسن انداز میں تکمیل پاگیا۔ جنرل عاصم منیر کی چیف والی سمری سے قبل صدر عارف علوی کا داتا کی نگری کا دورہ بھی ایک محنت طلب کام تھا۔ راقم شاداں و فرحاں ہے کہ سربراہ مملکت جہاں ایک متین اور ذہین لیڈر ہیں وہاں عارفانہ طبیعت کی حقیقت اور سعادت سے بھی مالا مال ہیں۔ ورنہ وہ چاہتے تو آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملہ میں دو چار دن سمری کو بار بار پڑھنے کے تناظر میں ڈیڈ لاک کے منتظر لوگوں کی حسرت کو مختصر جلا بھی بخش سکتے تھے۔

چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری؟ ہماری قوم نے چاہت کا سبق آئین اور قانون کے سبق سے بھی زیادہ پکا رکھا ہے، اس لئے کچھ لوگ اکثر ڈرے ڈرے اور سہمے سہمے رہتے ہیں کہ چاہت میں کوئی حد ہی نہ پار ہو جائے، کہ آئینی عہدوں کو ہم آئین سے بھی زیادہ چاہنے لگ جاتے ہیں، اور 'محبت میں خدشات کا عالم نہ ہو بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟ یہی وجہ ہے کہ جمہوری دل دھڑکنے کا سبب یاد رہتا ہے!

فقیر کا تھیسس یہ کہتا ہے کہ، اب ہر دوسرے تیسرے کالم میں جناب عمران خان کو مبارکباد دینے اور خراج تحسین پیش کرنے کے دریچے کھلے رہیں گے کہ وہ اتنے اچھے وزیراعظم نہ تھے جتنے اچھے اپوزیشن لیڈر ہیں کیونکہ اپوزیشن لیڈر پر مقبولیت اور وزیراعظم پر کارکردگی سجتی ہے۔ جس خوبصورت اور ہردلعزیز انداز میں وہ حکومتی قبلہ درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں اِس انداز سے وہ سربراہ حکومت ہوتے ہوئے قاصر تھے۔ ویسے تو ہمارے ہاں یہ صداقتِ عامہ ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس (اس بات کا تعلق جمہوریت سے ہرگز نہیں)۔ اس کا ادراک عمران خان کو پہلے بھی تھا مگر اب یہ ادراک یقیناً فولادی ہوچکا جس کا ملک و ملت کو فائدہ ہوگا، اور عمرانی سیاست کو بھی۔ بہرحال عمران صاحب سے خان اعظم کا اعزاز کوئی نہیں چھین سکتا ، گویا وزیراعظم ، سالار اعظم اور خان اعظم کو اپنے اپنے مقام پر ریاست اور جمہوریت کا باہمی رشتہ مستحکم کرنے کیلئے داخلہ و خارجہ و دفاعی تاریخ ساز کردار ادا کرنا ہو گا، کسی تاریخ کے مرتب ہونے میں ایک تحریک بہرحال کار فرما ہوتی ہے جس کیلئے حسنِ ظن ہمیشہ بےقرار رہتا ہے۔

سالار اعظم کی تعیناتی سے قبل کہانی بڑی پرتجسس تھی، جب سسپنس ہوگا تو کہانی میں دم بھی ہوگا بہرحال ایک کہانی احسن انداز میں مکمل ہوئی ، پڑوس میں مصالحے دار تبصروں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، عالمی سطح پر جنگ ہنسائی نہ ہوئی۔ جو بھی کہئے یا جیسے بھی ایک گیم اوور ہونے اور ایک کہانی کے جنم لینے کے وقار اور افتخار سے مثبت سوچ اور موڑ ملا ہے پس کہانی کی ابتدا بگاڑ کو پیچھے چھوڑ کر بناؤ تراشے گی جس کی جمہوریت ، معیشت، اصلاحات و تعلیمات کو اشد ضرورت ہے۔ دلِ ناداں بہرحال چاہتا ہے کہ جس کے انجام سے قوم کے پندارِ انا پر ضرب آئے وہ آغاز کبھی نہ ہو۔ جنرل عاصم منیر 17 ویں سپہ سالار ہیں اور پروفیشنل سولجر ، خواہش ہے تو محض اتنی کہ وطن عزیز کو ان سب قابلِ ستائش بڑوں کے سبب ایک ڈیموکریٹک پیراڈائم شفٹ مل جائے اور گلشن کا کاروبار ایک تاریخی دوام پائے۔ گمان غالب ہے کہ عمران خان نے بطورِ اپوزیشن لیڈر اور حکمران بہت کچھ سیکھ لیا ہوگا، بھلے ہی وہ اپنا احتجاج اور سپہ سالار سے خط و کتابت بھی جاری رکھیں تاہم وہ جو رشین دورے اور امریکن مخالفت کے حوالے سے انہوں نے خود پھر سے معاملات کے ’’رجوع‘‘ کا سوچا ہے، گر سوچ کا یہ سفر بحیثیت اسٹیٹس مین جاری رہا تو یقیناً جوہری توانائی ، موٹر ویز، سی پیک اور 18 ویں ترمیم سے مزید سیاسی و سماجی اور اقتصادی و ترقیاتی در وا ہوں گے۔ لیکن سیاسیات، اقتصادیات، ابلاغیات اور اصلاحات کے علاوہ سائنس و ٹیکنالوجی کے محقق کو پلیجرزم، تُکے اور فاصلاتی تحقیق کے بجائے حقیقت کی قربتوں میں بسیرا کرنا ہوگا، محض ڈگری نہیں جمہوریت کی پِیڈِگری درکار ہے، جو تیرگی میں دیکھنے کیلئے چشم بینا رکھے، اور 'چاہت میں حد سے نہ گزرے۔