بااختیار مقامی حکومتیں ناگزیر

November 28, 2022

فاروق طارق کے کسانوں کے حقوق کے لئے احتجاج سے لاہورکی سڑکیں ایک عرصہ سے واقف ہیں۔وہ خوب وائرل ہوئی ایک وڈیو کے مطابق چند روز پہلے مصر کے شہر شرم الشیخ میں بھی پاکستان میں ہونے والی ماحولیاتی تباہی سے مرنے والوں سے اظہار یک جہتی کے لئے بے ساختہ زمین پرلیٹ گئے۔یہاں اقوام متحدہ کے پالیسی اجلاس کوپ 27 میں ایک سماجی تحریک کے مشاہدہ کار کے طور پر شریک ، پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے اس 67 سالہ عہدے دار کا کہنا تھا کہ سیلاب اور تباہ کن بارشوں کی وجہ سے یہ سال پاکستان کے لئے بدترین رہا ہے۔

پاکستان کی تحریک پرمصر کے اسی سیاحتی مقام پرغریب اور ترقی پذیر ممالک کو اس ماحولیاتی نقصان کے بدلے معاوضہ دینے پر اتفاق ہوا ہے جو امیر اورترقی یافتہ ممالک میں فاسل فیول کے استعمال اور کاربن کے اخراج کے ذریعے عالمی حدت اور اس کے نتیجے میں سیلاب، ہیٹ ویو اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ جیسی آفات کے باعث انہیں اٹھانا پڑتا ہے۔

ان ترقی پذیر ملکوں میں سے ہی ایک پاکستان نے نہ صرف 200 ملکوں کے اس اجلاس میں تباہی اور اس کے خمیازے پربحث کروائی بلکہ ترقی یافتہ ممالک کو 33 برس بعد ایک فنڈ قائم کرنے پر بھی آمادہ کرنے میں کامیاب رہا۔پاکستان کی وزیر برائے ماحولیات شیری رحمان کا کہنا ہے کہ اب اس فنڈ کے دسمبر 2023 تک فعال ہونے کے لئےضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ماہرین کا مگر یہ کہنا ہے کہ اس فنڈ کے فعال ہونے میں کم از کم دو یا تین سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ضروری نہیں کہ پاکستان اسی فنڈ کا منتظر رہے اور مقامی طورپرماحولیاتی تبدیلی اوراس کے خطرات سے نمٹنے کے لئے پیش بینی اور پیش بندی نہ کرے۔اب یہ آفات کبھی کبھار نہیں بلکہ باربارآرہی ہیں۔ ہماری منصوبہ بندی مگر خطرات سے بچنے کے لئے وسیع اقدامات کرنے کی بجائے آفت آنے کے بعد ہونے والے نقصانات کے ازالے پر زیادہ مرکوزہوتی ہے۔اس سال گرمی کی لہر اور تباہ کن سیلاب یہ باور کروا دیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات پاکستان کے ترقیاتی عزائم اور غربت کو کم کرنے کی صلاحیت کو شدید زک پہنچا سکتی ہیں۔ ان آفات کی وجہ سے 1,700 سے زیادہ اموات ہوئیں اور 80 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے۔ انفراسٹرکچر، اثاثوں، فصلوں اور مویشیوں کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ تخمینہ 30 بلین ڈالر سے زیادہ کے نقصان کا ہے۔

ورلڈ بینک کی کنٹری کلائمیٹ اینڈ ڈویلپمنٹ رپورٹ برائے پاکستان کے مطابق ملک کو پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیوں اوردیگرعوامل پر خاطر خواہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والی آفات، ماحولیاتی انحطاط اور فضائی آلودگی کے مشترکہ خطرات سے 2050 تک پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں کم از کم 18 سے 20 فیصد تک کمی کا امکان ہے۔ اس سے معاشی ترقی اور غربت میں کمی پر پیش رفت رُک جائے گی۔ ضروری ہے کہ پانی کے انتظام، زراعت، شہری انفراسٹرکچر، میونسپل سروسز اور ہاؤسنگ جیسے شعبوں میں بالخصوص نجی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ موافقت کو بہتر بنانے اور زیادہ اخراجات سے بچنے کے لئے زرعی خوراک کا نظام تبدیل کیا جائے۔ زرعی خوراک کے نظام سے سب سے زیادہ لوگ، خاص طورپرغریب گھرانے، منسلک ہیں ۔ اس نظام کی پیداواری صلاحیت زمین کی تنزلی، کیمیائی مادوں اور پانی کے زیادہ استعمال، اور تحقیق کی کمی کی وجہ سے انحطاط پذیر ہے۔ اس پیداوار میں 2050 تک مزید 50 فیصد کمی کا خدشہ ہے۔ دیہی آمدنی کو تقویت دینے اور خوراک اور پانی کے تحفظ کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے، پاکستان کو ماحول دوست ،زراعت اور مویشیوں کے نظام کو فروغ دینےاور ماحولیاتی نظام کی بحالی کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی شہری آبادی، جو پہلے ہی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے بہت زیادہ متاثر ہے، 2020 میں 37 فیصد سے بڑھ کر 2050 میں 60 فیصد ہو جائے گی۔ شہروں کو مزید قابل رہائش بنانے کے ہدف کے ساتھ، زمین کے مربوط استعمال اور میونسپل سروسز اور ماحول دوست توانائی اور ذرائع نقل و حمل کے لئے فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ایسا تب ہی ہوسکتا ہے جب مالی وسائل کے لئے خود پر منحصر مضبوط مقامی حکومتیں قائم ہوں۔

عالمی حدت میں پاکستان کا حصہ اہم نہیں، لیکن یہ ماحول موافق اقدامات ملک کے باسیوں کو صحت مند ماحول اور انھیں مفید تعلیم، خوراک اوروسائل فراہم کریں گے، یہ ملک کی مالی صحت بھی قابل رشک بنائیں گے، گویا بہت فائد ہ مند ہوں گے اور ترقی بھی پائیدار ہوگی۔