سائنسی علوم اور سائنس داں کی پذیرائی

December 14, 2016
 

ڈاکٹر ناصر عباس نیر اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہو گئے ہیں۔ برسوں سرکاری افسروں کی تحویل میں رہنے کے بعد بالآخر اس ادارے کو بھی ایک معقول سربراہ مل گیا ہے۔ ناصر عباس کا تعلق ادب سے ہے۔ وہ اردو ادب کے استاد ہیں، نقاد ہیں اور افسانہ نگار ہیں۔ لیکن ان سے پہلے بھی اس ادارے کے سر براہوں کا تعلق ادب سے ہی رہا ہے۔ اشفاق احمد نے تو نہ صرف اس ادارے کی بنیاد رکھی بلکہ کتابوں کی اشاعت اور ان کی فروخت سے اسے ایک خود کفیل ادارہ بھی بنا دیا۔ آج اس ادارے کی اپنی عمارت ہے۔ اور یہ عمارت سرکاری امداد کے بغیر بنائی گئی ہے۔ ان کے بعد کشور ناہید، ڈاکٹر آغا سہیل، ظفر اقبال اور خالد اقبال یاسر اس کے سربراہ بنے۔ یہ سب بھی ادیب اور شاعر ہی ہیں۔ انہوں نے بھی دنیا بھر میں شائع ہونے والی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرایا۔ اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر طبع زاد کتابیں بھی لکھوائیں۔ اور یہ کتابیں صرف سائنسی علوم پر ہی نہیں تھیں بلکہ غیر سائنسی علوم پر بھی تھیں حتیٰ کہ اس ادارے نے لغات بھی شائع کیں ۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ پہلے یہ ادارہ صرف اردو بورڈ تھا سائنس بورڈ بعد میں بنا۔ سائنس بورڈ بن جانے کے بعد اس کے فرائض میں سائنسی علوم پر ہی کتابیں ترجمہ کرانا اور چھاپنا شامل تھا لیکن ایک عرصے سے یہ کام نہیں ہو رہا تھا۔ یہ ادارہ دوسرے سرکاری اداروں کی طرح دفتری امور تک ہی محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ پرانی کتابیں ہی چھپ رہی تھیں اور فروخت ہو رہی تھیں۔ اب خوشی کی بات یہ ہے کہ ناصر عباس نیر اس کی باگ ڈور سنبھال رہے ہیں۔ ان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ اس ادارے کو واقعی سائنس بورڈ کیسے بناتے ہیں۔ اوردنیا بھر میں سائنسی علوم میں جو تحقیق ہو رہی ہے اور ہر سال نئی سے نئی کتابیں چھپ رہی ہیں وہ انہیں اردو قاری تک کیسے پہنچاتے ہیں۔ سائنس پر مقبول عام کتابیں تو بہت ترجمہ ہو گئیں لیکن اب جو جدید تحقیق ہو رہی ہے اور دنیا بھر کے سائنس داں جو دوسری دنیائوں کی خبر لا رہے ہیں، وہ بھی تو اردو پڑھنے والوں تک پہنچنا چاہئے۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جو سائنسی مضامین پڑھائے جاتے ہیں وہ اگرچہ انگریزی میں ہوتے ہیں، مگر طالب علموں کو سمجھانے کے لئے استاد کو اردو کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے۔ اسے آپ ہمارے تعلیمی نظام کی خامی کہہ لیجئے مگر یہ ہے حقیقت۔ اس لئے اگر سائنس بورڈ اس سلسلے میں اردو ترجمے سے ان کی مدد کر سکے تو سائنس بورڈ کے قیام کا مقصد پورا ہو سکتا ہے۔ ناصر عباس جدید علوم پر گہری نظر رکھتے ہیں اس لئے ان سے توقع ہے کہ اب تک سائنس بورڈ نے جو کام کیا ہے اسے اور آگے بڑھائیں گے۔ اور اردو پڑھنے والوں کو جدید سائنسی تحقیق سے بھی روشناس کرائیں گے۔ اس کے لئے اگر وہ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی اور ڈاکٹر اے ایچ نیر جیسے نامور سائنس دانوں کو اپنے مشیروں میں شامل کر لیں تو اردو سائنس بورڈ کو نئی توانائی حاصل ہو جائے گی۔
اب آئیے حکومت کے اس اقدام پر اسے مبارک باد بھی پیش کر دیں کہ اس نے قائد اعظم یونیورسٹی کے مرکز طبعیات کو ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب کر دیا ہے۔ یوں تو یہ کام بہت دیر سے کیا گیا ہے لیکن بہرحال یہ ایسا کام ہے جس پر حکومت کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اب یہاں اس کا ذکر میں اردو سائنس بورڈ کے بعد اس لئے کر رہا ہوں کہ اس پر ہمارے دوستوں نے پہلے ہی بہت کچھ لکھ دیا ہے۔ تو کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ سائنس کے میدان میں ڈاکٹر عبدالسلام دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان ہیں؟ پاکستان کو دو ہی تو نوبیل انعام ملے ہیں۔ ایک ڈاکٹر عبدالسلام کو اور دوسرا ملالہ یوسف زئی کو۔ یہ دونوں ہی پاکستان میں تعلیم عام کر نے میں پیش پیش رہے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام نوبیل انعام کی رقم سے پاکستان میں عالمی سطح کا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنا چاہتے تھے۔ اب یہ ہماری بدقسمتی کہ ان کی حوصلہ اٖفزائی نہیں کی گئی، اور انہیں مجبوراً یہ ادارہ اٹلی میں بنانا پڑا۔ ملالہ نے حال ہی میں سوات کے شہر شانگلہ میں ایک اسکول کو پورا فرنیچر بنا کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ دنیا بھر میں تعلیم کے فروغ کیلئے بہت کام کر رہی ہیں۔ یہاں میں اس بحث میں شامل نہیں ہونا چاہتا جو ایٹم بم بنانے کے سلسلے میں کی جا رہی ہے۔ میں انہی صفحات میں کئی بار ذکر کر چکا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹم بم بنانے کے سلسلے میں ملتان میں نواب صادق حسین کے گھر جو خفیہ اجلاس کیا تھا، اتفاق سے اس میں، میں اور اے پی پی کے محمد افضل خاں بھی موجود تھے۔ میں، اس لئے کہ اس وقت میں ملتان میں روزنامہ امروز کا ریذیڈنٹ ایڈیٹر تھا اور افضل خاں اے پی پی کے منیجر تھے۔ ڈاکٹر مبشر حسن بھی وہاں تھے۔ اسی محفل میں بھٹو صاحب نے ڈاکٹر منیر احمد خاں کو اٹامک انرجی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا تھا اور پاکستانی سائنس دانوں سے کہا تھا کہ ’’آپ کب تک ٹیک آف پوزیشن کی بات کرتے رہیں گے۔ مجھے ایٹم بم چاہئے‘‘ وہاں پہلی صف میں ڈاکٹر عبدالسلام بیٹھے تھے اور یہ کام ان کے مشورے سے ہی ہو رہا تھا۔ بعد میں ان کے شاگردوں نے ہی اس کام کو آگے بڑھایا۔ پاکستان میں سائنسی علوم کی ترقی سے ڈاکٹر عبدالسلام کو کتنی دلچسپی تھی؟ اس کے لئے ان کا وہ خطبہ پڑھ لیجئے جو انہوں نے فیض صاحب کے انتقال کے بعد ان کے یادگاری لیکچر کے طور پر دیا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ خطبہ فیض گھر میں ضرور موجود ہو گا۔ اس کے بعد ہمارے دوست محمد شریف جنجوعہ کے گھر ایک اجتماع میں بھی ان کی گفتگو کا موضوع سائنس کی تعلیم ہی تھا۔ اگر آج ہم بڑے فخر سے یہ کہتے ہیں کہ پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل ہے جسے نوبیل انعام ملنے کا اعزاز حاصل ہے تو اس کی وجہ ڈاکٹر عبدالسلام اور ملالہ یوسف زئی ہیں۔




.


مکمل خبر پڑھیں