سوشل سائینسز ...آج کی اہم ضرورت

March 11, 2018
 

نجم الحسن عطا

عالمی اور ملکی سطح پر یہ بحث رہی ہے کہ سوشل سائنسز کے بغیر تعلیمی نظام اچھے انسان پیدا نہیں کرسکتا۔ عصر حاضر میں اس وقت تعلیمی نظام کا انحصار STEMپر ہے باالفاظ دیگر سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی ہی تعلیم حاصل کرنے کی کلید ہے۔ حکومت کی طرف سے بھی انہیں موضوعات پر زیادہ سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔

اس میںکوئی شک کا شائبہ تک نہیںکہ خالص سائنس کے موضوعات بہت اہمیت کے حامل ہیں لیکن اس کا قطعاً مطلب نہیںکہ آپ سوشل سائنسز کو سرے سے بھول جائیں دنیا میں تمام دانشوروں اور فلاسفروں کا تعلق سوشل سائنسز ہی سے ہے دراصل سوشل سائنسز کا آغاز اگر اس کی بنیادی افادیت سے کریںتو یہ عیاںہوتا ہے کہ سماجی اور بنیادی دیکھ بھال اور انصاف کے نظام کا سوشل سائنسز سے گہرا تعلق ہے آج کمرشل دور میںبھی دیکھیں تو تمام کاروبار کے رحجانات بھی سوشل سائنسز کے بغیر ترقی نہیںکرسکتے۔

فلاسفی نے سائنس کو راستہ دکھایا ہے۔ مختصراً اگر ہم سوشل سائنس کی تعریف کریںتو اس کا مرکزی خیال معاشروں کا مطالعہ ہے اور افراد کے آپس میں تعلقات میںہم آہنگی اور تضادات دونوں پر بحث کرتی ہے سوشل سائنس کا دائرہ علم بہت وسیع ہے معاشیات، پولیٹکل سائنس، سوشیالوجی، تاریک ارکیالوجی یعنی آثار قدیمہ کا مطالعہ اور علم انسان بھی اس میںشامل ہے۔

تمام بزنس اسکولوں میں زیادہ تر نصابی ذریعہ سوشل سائنس ہی ہے۔ خالص سائنس اگر مادیت ہے تو سوشل سائنس اس کی روح ہے۔ اگر تعلیمی نظام میںتوازن لانا ہے تو سوشل سائنسز کی ترقی کے لیے زیادہ بجٹ درکار ہے سوشل سائنسز میں موسیقی ، مصوری، شاعری بھی شامل ہے۔

حالانکہ تینوںفنون کی پشت پر ریاضی، فزکس اور جیومیٹری ہے سوشیالوجی کے بغیر سماجی ترقی اور ثقافت کا فروغ ممکن نہیں صرف اکنامک معاشرہ روبوٹ پیدا کرتا ہے چنانچہ دنیا بھر کے اسکالرز خالص سائنس کے ساتھ ساتھ سوشل سائنسز پر زور دے رہے ہیں۔

حقیقت میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی سوشل سائنسز کا نام لیا جاتا ہے تو اس کا یہ تصور ابھرتا ہے کہ سماجی ورکر یاکسی پروفیسر کی بات ہورہی ہے۔ تعلیم میں اس قسم کے رویے کو غلط فہمی سمجھا جاتا ہے اور یہ فکری مغالطہ ان لوگوںنے پیدا کیا ہے جو دنیا کو متحرک نہیںدیکھنا چاہتے۔

دنیا بھر امن کے لیے بھی سوشل سائنسز بنیادی کردار ادا کرتی ہے یہ زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتی ہیںتہذیبوں کا ارتقا سوشل سائنسز کے بغیر ممکن نہیںہے دو صدیوں میںعلم نفسیات نے ذہن کے کئی روزن روشن کردئیے ہیں۔

فلاسفی نے سائنس کو راستہ دکھایا ہے۔ مختصراً اگر ہم سوشل سائنس کی تعریف کریںتو اس کا مرکزی خیال معاشروں کا مطالعہ ہے اور افراد کے آپس میں تعلقات میںہم آہنگی اور تضادات دونوں پر بحث کرتی ہے سوشل سائنس کا دائرہ علم بہت وسیع ہے معاشیات، پولیٹکل سائنس، سوشیالوجی، تاریخ ارکیالوجی یعنی آثار قدیمہ کا مطالعہ اور علم انسان بھی اس میںشامل ہے۔

فلاسفی اس کا جزو حقیقی ہے اگر ہم سوشل سائنسز کو STEMسے موازانہ کریںتو سوشل سائنس اندر کی دنیا کو روشنی سے منورکرتی ہے اور دانائی یہ بتاتی ہے کہ کس طرح سائنس اور اختراعات کو معیار زندگی بلند کرنے کے لیے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ بعض ماہرین سوشل سائنس کو سائنس کی سائنس کہتے ہیں۔ خاص طورپر سوشل سائنس دان پوری طرح کائنات کے بارے میں تجزیہ پیش کرتے ہیں ان کی پیش گوئیاں ہی سائنس کا راستہ بنیںاس ضمن میںبہت سے تجزیے درست ثابت ہوئے۔

اگر ہم سوشل سائنس کی تعریف کریںتو اس کا مرکزی خیال معاشروں کا مطالعہ ہے اور افراد کے آپس میں تعلقات میںہم آہنگی اور تضادات دونوں پر بحث کرتی ہے سوشل سائنس کا دائرہ علم بہت وسیع ہے معاشیات، پولیٹکل سائنس، سوشیالوجی، تاریخ ارکیالوجی یعنی آثار قدیمہ کا مطالعہ اور علم انسان بھی اس میںشامل ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو معاشرے کی ذہنی سطح کو اوپر لے جاتے ہیں اکثر لوگ کہتے ہیں کہ علامہ اقبال سمجھ نہیںآتے اس میں علامہ اقبال کا قصور نہیں ہے یہ ہمارا تعلیمی نظام ایسا ہے کہ ہم علامہ اقبال سمجھ نہیںپاتے یہی بات فیض احمد فیض کے لیے کی جاتی ہے اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہمارا تعلیمی نظام بالکل ناقص ہے سوشل سائنسٹسٹ دنیا کے بڑے بڑے مسائل کو حل کرتے ہیں۔

مثلاً آج کے دہشت گردی کا مسئلہ اس کا حل اسلحہ کو استعمال کرنے سے نہیںہے یہاںدانش مندی کی ضرورت ہے متبادل انرجی کا مسلہ ہو یا سائبر سیکورٹی ہو ان کے معاشرے پر شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ان کا حل صرف سوشل سائنس دانوںکے پاس ہے۔ اگر اسلحہ ساز ان کی نہ سنیںتو الگ ایک ایسے نظام کی بات ہے جو ساری دنیا پر مسلط ہو۔ ایک بات قابل غور یہ بھی ہے کہ وبائی بیماریاںپھیل جائیں تو سوشل سائنس اس کے نجات کے راستے بتاتے ہیں۔

ڈرگز سے دنیا تباہ ہورہی ہے اس کے خلاف تحریری اورعملی مزاحمت بھی سوشل سائنٹسٹ کرتا ہے ڈرگز سے معاشروںاور نوجوانوں کو کیا نقصان ہورہا ہے اس کی مزاحمت بھی سوشل سائنس دان کررہےہیں۔ ڈاکٹروں کو یہ علم ہونا چاہے کہ سوشل سائنس دان ہی دانش سے لوگوںکو قائل کرسکتے ہیں کہ ہاتھ صاف رکھنا یا معاشرے کو آلائشوں اور سالڈویسٹ سے دور رکھنے کے کیا طریقہ ہائے کار ہیں۔ انسانوں کے طرز عمل پر اسکالرز اور دانشوروں کے اثرات مثبت انداز میںمرتب ہوتےہیں۔

کسی بیماری کسی حادثے مثلاً سیلاب کے دنوںمیں انسانی جانوں کو بچانے کے سول سوسائٹی اور سماجی کارکن حکومت سے مطالبہ کرتے ہیںکہ ان مسائل کو کس طرحاور کتنی جلدی حل کرنا ہے ایک زمانے میںسوشل سائنس دان سیاسی پارٹیوں میں ہوتے تھے وہ ایک نظریے کے تحت عام آدمی کے لیے تبدیلی کی بات کرتے تھے لیکن آج ایسا نہیںہے اگر کوئی ریاست ناکام ہوجاتی ہے تو یہ سوشل سائنس دان ہی بتاتے ہیںکہ ریاست کو کیسے ’’ری بلڈ‘‘ کیا جاسکتا ہے۔

سوشل سائنس دان تمام ملکوں میں کینسر کی نجات کے لیے کیا کرنا چاہیے منافع کو کتنا رکھنا چاہیے تاکہ انسانی دکھ کم ہوں۔ اسی لیے برطانیہ میںسوشل سائنس دان نینشل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ مل کر کینسر کو دور کرنے کے طریقہ ہائے کار پر مباحثہ کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان افواج ہو یا برطانیہ کی وہ پولیٹکل سائنسٹسٹوں کے ساتھ گفتگو جاری رکھتے ہیںتاکہ ڈپلومیسی میںکس طرحکام کیا جائے۔

سوشیالوجسٹ، میڈیکل ریسرچ کونسل کے ساتھ مل کر سوچتے ہیںکہ کس طرحجن لوگوںکی نیند اڑ جاتی ہے ان کی نیند پوری کی جائے۔ اس کے لیے نفسیات دانوںکی ضرورت ہوتی ہے۔ یونیورسٹیوں میںتھنک ٹینک بنائے جاتے ہیں اب تو سیاسی پارٹیاںبھی تھینک ٹینک بناتی ہیں۔ بڑی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ برطانیہ میںہوم آفس انجنینروں ، آٹو مینوفیکچررز کو اکٹھا کرتا ہے اور سوشل سائنس دانوںسے مشورہ لیا جاتا ہے کہ گاڑیاں چوریاں نہ ہوں اس بارے میںوہ اپنی آرا دیتے ہیں۔

کرمنالوجسٹ جو جرائم کی تعلیم سے لیس ہوتے ہیں کہ کس طرح کی کاریںبنائیںجائیں تاکہ زیادہ کاریںچوری نہ ہوں۔ تھینک ٹینک بناتے ہیںپبلک پالیسیوں کو کیسے پیش کیا جائے، پروپیگنڈہ کیسے جائے۔ ہائر ایجوکیشن کے خدوخال کیا ہونے چاہیں، فلاحی ریاست کیسے بنتی ہے، دولت کی منصفانہ تقسیم کیسے کی جاتی ہے کرنسی کی قدر کو کیسے مستحکم کیا جائےاس کے برعکس STEMکا کام یہ ہے کہ معاشرے کی ضرورت کیا ہےاور کس طرح اسے پورا کیا جائے دانشور کہتے ہیں کہ STEMاور سوشل سائنس کے مکس ہی سے دنیا چل سکتی ہے۔

باہر کے ملکوںمیںسوشل سائنسز کو پڑھایا جاتا ہے اس وقت دنیا میں بڑے بڑے نام ہیںجو سوشل سائٹسٹ میںجن میں نوم چمکی ، جوزف اسٹک گلنٹز، نائومی کلائن، اردن دھتی رائے، قبل ازین کارل مارکس، روسو علامہ اقبال، ابن خلدون ، ابن رشد، ابن عربی، یاں پال ساترےہے ان سب کی رائے ہے کہ خالص سائنس پر زور دینے سے دھرتی پر رہنے والوںکو زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔


مکمل خبر پڑھیں