ماش کی کاشت...جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ پیداوار

June 15, 2018
 

نوید عصمت کاہلوں

ماش موسم خریف میں کاشت کی جانے والی اہم فصل ہے۔ ماش کا 80 فیصد رقبہ زیادہ بارش والے بارانی علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔ ماش کا 88 فیصد رقبہ ڈیرہ غازی خان، لیہ، بھکر، نارووال، سیالکوٹ، راولپنڈی اور گجرات میں کاشت کیا جاتا ہے۔ لیکن اس فصل کی فی ایکڑ پیداوار اب بھی بہت کم ہے۔ پیداوار میں اس کمی کے اسباب فصل کی تاخیر سے کاشت ، جدید پیداواری ٹیکنالوجی کا عدم استعمال، فصل کی بے ہنگم بڑھوتری، کیڑوں اور بیماریوں کا حملہ جڑی بوٹیوں کی بہتات اور برداشت میں تاخیر ہے۔ ماش 97، چکوال ماش، عروج 2011 اور این اے آر سی ماش 3 ترقی زیادہ اقسام ہیں۔ خریف کی دالوں کیلئے درمیانی قسم کی زرخیز زمین جس میں پانی کھڑا نہ ہو زیادہ موزوں ثابت ہوئی ہے۔ زمین کا سیم اور تھور سے پاک ہونا نہایت ضروری ہے۔ زمین کی تیاری کیلئے ایک مٹی پلٹنے والا ہل اور دو تین عام ہل اور سہاگہ چلانا چاہئے۔ زمین کا ہموار ہونا نہایت ضروری ہے تا کہ فصل کو پانی یکساں لگے۔ موسم خریف میں ماش کی کاشت وسط جون سے وسط جولائی تک کی جاسکتی ہے البتہ جون کا دوسرا پندھرواڑہ کاشت کے لئے زیادہ موزوں ہے۔ کھیت میں پودوں کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کے لئے بیج کی سفارش کردہ مقدار استعمال کرنی چاہئے اور بیج صاف ستھرا، صحت مند اور بہتر اگائو کا حامل ہونا چاہئے۔ ماش کے لئے بیج کی مقدار زیادہ بارش والے علاقوں کیلئے 8کلو گرام فی ایکڑ اور دیگر علاقوں کیلئے 10 کلو گرام فی ایکڑ استعمال کرنی چاہئے۔ بیج کو جراثیمی ٹیکہ لگا کر کاشت کرنے سے پودے کی ہوا سے نائٹروجن حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور پیداوار زیادہ حاصل ہو تی ہے۔ بیج کو ٹیکہ لگانے کے لئے ایک گلاس (250 ملی لٹر) میں 50 گرام گڑ، چینی یا شکر ملا کر شربت کی صورت میں 10 کلو گرام بیج پر چھڑکیں اس میں ٹیکہ کے پیکٹ پر درج مطلوبہ مقدار ملا کر ہاتھ سے بیج اور ٹیکہ کو اچھی طرح ملائیں تاکہ ٹیکہ یکساں طور پر بیج کو لگ جائے۔ بیج کو سایہ دار جگہ پر خشک کریں اور پھر جلدی کاشت کریں ورنہ وقت گزرنے کے ساتھ ٹیکے کی افادیت بتدریج کم ہو جاتی ہے۔ ٹیکہ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد اور نیاب (NIAB) ؍ نجبی(NIBGE) جھنگ روڈ فیصل آباد سے دستیاب ہے۔ دالوں کو نائٹروجن کھاد کی کم ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ ہوا سے نائٹروجن حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جو ٹیکہ لگانے سے مزید بڑھ جاتی ہے۔ البتہ فاسفورس والی کھاد کے استعمال سے ان کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک بوری ڈی اے پی ، آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا آدھی بوری یوریا کے ساتھ ایک بوری ٹرپل سپر فاسفیٹ ، آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا دو بوری سپر فاسفیٹ اور آدھی بوری یوریا ، آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ کھاد فی ایکڑ بوائی کے وقت استعمال کریں۔ ماش کی کاشت تر و تر میں کرنی چاہئے تاکہ اگائو بہتر ہو بوائی آٹو میٹک ڈرل یا سنگل روکاٹن ڈرل یا پھر ہل کے ساتھ پور باندھ کر بھی کی جاسکتی ہے۔ اگر یہ ممکن نہ ہوتو بوائی ہل کے سیاڑوں میں کیرا سے بھی کی جاسکتی ہے۔ بیج دو یا اڑھائی انچ گہرا وتر میں جانا چاہئے۔ قطاروں کا فاصلہ ایک فٹ اور پودے سے پودے کا فاصلہ 3 تا 4 انچ ہونا چاہئے۔ فصل کو پہلا پانی اگائو کے تین ہفتہ بعد دوسرا پانی پھول آنے پر اور پھر ایک یا دو پانی حسب ضرورت 2 تا 3 ہفتے بعد پھلیاں بنتے وقت دیں۔ جڑی بوٹیوں کی وجہ سے ماش کی پیداوار میں 25 سے 55 فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔ ماش کی فصل کو نقصان پہنچانے والی جڑی بوٹیاں اٹ سٹ، مدانہ، کھبل، سوانکی، چلائی، باتھو ہزار دانی وغیرہ ہیں اور ان کی تلفی کے لئے مناسب اقدامات کرنا ضروری ہیں۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے ضروری ہے کہ کھیت کو خالی نہ چھوڑا جائے۔ اس مقصد کے لئے مناسب وقفوں سے ہل چلانا چاہئے تاکہ جڑی بوٹیاں اگنے کے فوراً بعد تلف ہو جائیں اور ان کا بیج کھیت میں نہ گرے۔ وقت پر ہل چلانے سے 50 سے 80 فیصد تک جڑی بوٹیوں کی تلفی ہوجاتی ہے۔ اگر کھیت میں جڑی بوٹیاں مارنے والی دوا سپرے نہ کی گئی ہو اور جڑی بوٹیاں موجود ہوں تو گوڈی کر کے جڑی بوٹیاں تلف کریں۔ عام طور پر دو بارگوڈی کرنے سے جڑی بوٹیاں تلف ہوجاتی ہیں۔ پہلی گوڈی بوائی کے 25 تا 30 دن کے اندر کریں دوسری گوڈی پہلی آبپاشی کے 35 تا 45 دن کے اندر کریں کیونکہ فصل میں پھول آنے سے پہلے پہلے فصل جڑی بوٹیوں سے پاک ہونی چاہئے ورنہ پیداوار متاثر ہوگی۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے بوائی کے فوراً بعد یا تیاری کے دوران پینڈی میتھالین (Pendimethaline) بحساب ڈیڑھ لٹر فی ایکڑ سپرے کریں یا ٹرائی فلورا لین (Trifluraline) زمین کی تیاری کے دوران سپرے کریں۔ ماش کے کیڑوں میں ٹوکہ، چور کیڑا، سفید مکھی، سبز تیلا، تھرپس، ٹاڈ کی سنڈی، لشکری سنڈی اور دیمک شامل ہیں۔ ماش کی بیماریوں میں موزیک یعنی پتوں کا پیلا پن، سفید دھبوں والی بیماری اور جڑ کا سڑن شامل ہیں۔ فصل کی تاخیر سے برداشت کرنے سے پھلیاں اور دانے جھڑنے سے پیداوار کا نقصان ہوتا ہے۔ 80 تا 90 فیصد پھلیاں پکنے پر صبح سویرے کٹائی کرنی چاہئے۔ چھوٹی چھوٹی ڈھیریوں میں چند دن کے لئے خشک کر نے کے بعد گہائی کرنی چاہئے فصل زیادہ ہو تو مونگ کا تھریشر استعمال کرنا چاہئے تاکہ فصل جلد سنبھالی جا سکے اور پیداوار کا نقصان نہ ہو۔ جنس کو خشک اور صاف کر کے سٹور میں محفوظ کریں۔ سٹور میں عموماً سٹور کا کیڑا (ڈھورا) زیا دہ نقصان کر تا ہے۔ سٹور کو کیڑوں سے پاک کرنے کے لئے سات کلو گرام خشک لکڑی فی ہزار مکعب فٹ جلائیں (درجہ حرارت 66 درجہ سینٹی گریڈ) اور سٹور کو 48 گھنٹے تک بند رکھیں یا ڈیلٹا میتھرین بحساب ایک لٹر زہر 100 لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔ پرانی استعمال شدہ بوریوں کو اسی نسبت سے زہر ملے ہوئے محلول میں ڈبو کر خشک کریں یا بوریوں کو دونوں طرف سے سپرے کریں اگر سٹور میں سپرے نہ کر سکیں تو پرانے سٹور میں ذخیرہ کرنے سے پہلے ایلومینیم فاسفائیڈ کی 40 تا 50گولیاں فی ہزار مکعب فٹ استعمال کریں اور سٹور کو فوراً ہوا بند سیل کردیں اور پندرہ دن تک بند رکھنے کے بعد کھولیں۔


مکمل خبر پڑھیں