پلوامہ میں لگاتارر حملے

February 20, 2019
 

اٹھارہ فروری کو پلوامہ میں دوسری بڑی کارروائی ہوئی جس میںآٹھ افراد مارے گئے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے جنوبی علاقے عرصے سے تحریک آزادی کا مرکز رہے ہیں۔ تازہ ترین جھڑپ میں بھارتی فوج کے ایک میجر اور چار فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ جمعرات کو ہونے والے خودکش حملے میں جو کارروائی کی گئی تھی اس کا ماسٹر مائنڈ یا اصل منصوبہ بند بھارتی فوج کے مطابق اٹھارہ فروری کی کارروائی میں جاںبحق ہوا۔

گزشتہ ہفتے کی بڑی کارروائی کے بعد بھارتی فوج نے اس حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے افراد کی تلاش شروع کردی تھی اور ایک اطلاع کے مطابق جب انہوں نے چند افراد کو گھر میں گھیر لیا تو فائرنگ شروع ہوگئی جس میں حریت پسند اور فوجی دونوں طرف کے لوگ گولیوں کی زد میں آگئے۔ اس جوابی کارروائی کے لیے بھارتی فوج نے پورے گائوں کو محاصرے میں لے لیا تھا۔ اس جھڑپ میں بھارتی فوج کے میجر ڈی ایس ڈونڈیال کے لیے کئی ہیڈ کانسٹیبل اور سپاہی بھی مارے گئے جبکہ کئی حملہ آور خود بھارتی فوج کے بیان کے مطابق محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

اس کے علاوہ ہفتے کے روز بھی راجوری میں ایک میجر مارا گیا تھا۔ اس طرح کی کارروائیوں میں اب بھارتی فوج کے میجر یا اس سے اوپر کے عہدوں کے افسران بھی ہلاک ہورہے ہیں جو بھارتی فوج کے لیے بڑی تشویش کا باعث بھی ہے اور اس بات کا اشارہ بھی کہ اب بات صرف سپاہیوں کی ہلاکت تک نہیں ہے، بل کہ بھارتی فوج کے اعلیٰ افسران بھی نشانے پر ہیں۔ اس سے قبل چودہ فروری کو جو کارروائی ہوئی تھی اس میں سری نگر سے جموں جانے والی مرکزی شاہ راہ پر خودکش حملہ آوروں نے ایک بارود سے بھری کار بھارتی نیم فوجی کاروان سے ٹکرادی تھی۔

بھارت کے نیم فوجی دستے جنہیں سی آر پی ایف (CRPF) کہا جاتا ہے، ایک قافلے کی شکل میں جارہے تھے کہ خودکش حملہ ہوا جس میں چالیس سے زیادہ اہل کار مارے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ کسی بھی فوج کے لیے یہ ایک بڑا نقصان ہے خاص طور پر جب کہ یہ اموات دو ملکوں کے درمیان باقاعدہ جنگ میں نہ ہوئی ہوں۔

گزشتہ ہفتے کی کارروائیوں نے اس پورے خطے کو ایک بار پھر شدید قسم کی کشیدگی میں مبتلا کردیا ہے، جس کے بعد بھارت کی کئی ریاستوں میں مقیم کشمیری مسلمان مختلف قسم کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ ان حملوں میں املاک اور کاروں کو آگ بھی لگائی گئی اور کئی کشمیری بھارت کے مختلف شہروں میں اپنے کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

اس پر طرہ یہ کہ اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر جیش محمد نامی جنگ جو گروہ نے قبول کرلی جس سے اس بات کا امکان ختم ہوگیا کہ یہ حملہ کسی اور نے کیا ہوگا اور نہ ہی اس اعتراف کے بعد جیش محمد کی طرف وضاحت آئی کہ یہ حملہ انہوں نے نہیں کیا۔

ویسے تو مقبوضہ کشمیر برسوں سے شدید قسم کی کارروائیوں کا شکار رہا ہے،خاص طور پر جنوبی علاقوں میں اکثر و بیشتر کرفیو نافذ رہتا ہے۔ پچھلے ہفتے بھی کارروائیوں کے نتیجے میں پورا جنوبی کشمیر کرفیو کی زد میں رہا۔اب اس حملے کے بعد کشمیر میں مقامی بی جے پی کے کارکنوں ، چند دیگر مقامی جماعتوں اور گروہوں نے کھلم کھلا پاکستان مخالفت میں احتجاجی تحریک شروع کردی ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہورہاہے اور حالات بہتری کے بجائے مزید خرابی کی طرف جاتے نظر آرہے ہیں۔

حالیہ حملوں کے بعد بھارت اور پاکستان دونوں نے اپنے اپنے ہائی کمشنروں کو دارالحکومت یعنی دہلی اور اسلام آباد واپس بلالیا ہے جن کے ساتھ تازہ ترین صورت حال پر صلاح مشورے کئے جارہے ہیں۔ چودہ فروری کو ہونے والے حملے سے کوئی ڈیڑھ سال پہلے جولائی 2017ء میں ایک بڑے حملے میں حریت پسندوں نے ہندو یاتریوں کو نشانہ بنایا تھا جن میں ہندوئوں کے مقدس مقامات، امرناتھ سے آننت ناگ جانے والے عازمین میں سے سات ہلاک اوردرجنوں زخمی ہوئے تھے۔وہ حملہ کسی فوجی قافلے پر نہیں تھا بلکہ عام ہندو شہری جو اپنے مذہبی سفر پر جارہے تھے انہیں ہلاک کیا گیا تھا۔ اس سے قبل ایک اور بڑے حملے میں اوڑی سیکٹر کے نزدیک ستمبر 2016ء میں بھارتی فوج کے کیمپ پر حملہ کیا گیا تھا، جس میں بیس بھارتی سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔گزشتہ ہفتے (چودہ فروری) کے حملے میں چالیس فوجیوں کی ہلاکت سے قبل اوڑی سیکٹر کا ستمبر 2016ء کا حملہ سب سے شدید حملہ قرار دیا جارہا تھا، مگر حالیہ حملہ گزشتہ تیس برس سے جاری تحریک آزادی کا سب سے بڑا حملہ ہے جس میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد کسی بھی گزشتہ حملے سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

بھارت نے گزشتہ ہفتے کے حملے کے بعد فوری طور پر پاکستان کو اس کا ذمہ دار قرار دے دیا تھا، جس سے پورے بھارت میں پاکستان مخالف جذبات ایک بار پھر بھڑک اٹھے ہیں اور بھارت کی مختلف ریاستوں میں آباد ناصرف کشمیری بلکہ عام مسلمان بھی خود کو مزید غیرمحفوظ سمجھنے لگے ہیں اور ان کا یہ احساس عدم تحفظ غلط بھی نہیں ہے کیوں کہ ہر حملے کے بعد پورا بھارت جذباتی ہوجاتا ہے اور پاکستان سے بدلہ لینے کے مطالبے زور پکڑنے لگتے ہیں۔

اس حملے کے بعد غم و غصے کا اظہار کرنے میں بھارتی فن کار بھی پیچھے نہیں رہے اور ایک طرف بھارتی اداکار امیتابھ بچن نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ دینے کا اعلان کیا ہے اور دوسری طرف معروف اداکارہ کنگنا رناوت نے پاکستان کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دی ہیں۔ کئی اداکاروں نے تو پاکستان مخالف جلسے جلوس میں بھی شرکت کی ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھارت کی اس وقت پانچ لاکھ سے زیادہ فوج مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہے لیکن پھر بھی وہاں کے حالات قابو میں نہیں آرہے ہیں۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ فوجی طاقت کے ذریعے کسی بھی ملک میں حقوق یا آزادی مانگنے والوں کو دبایا اور کچلا نہیں جاسکتا۔ جتنی شدت سے فوج کارروائی کرتی ہے اتنی شدت سے حقوق کے لیے لڑنے والے جوابی کارروائیاں کرتے ہیں،اس طرح ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

اداکاروں کے علاوہ اس حملے کے بعد کرکٹر بھی میدان میں آگئے ہیں مثلاً صوبہ بھارتی پنجاب کے سیاست دان اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے ایک بیان دیا جس میں انہوں نے دانش مندی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ مٹھی بھر لوگوں کی وجہ سے کسی ملک کو یا اس کی آبادی کو مجموعی طور پر قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ بس اس بیان کا دینا تھا کہ سدھو کی شامت آگئی اور انہیں نہ صرف شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا بلکہ بہت سے لوگوں کے مطالبے پر ایک ٹی وی چینل نے انہیں ایک مشہور کامیڈی پروگرام سے بھی الگ کردیا ہے۔

سدھو کے بیان کی خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے کہا ’’دہشت گردی کا کوئی ملک نہیں ہوتا نہ ہی دہشت پسندوں کا کوئی مذہب ہوتا ہے اسی طرح دہشت گرد ذات پات کے مالک بھی نہیں ہوتے۔ وہ صرف دہشت گرد ہوتے ہیں۔‘‘

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس حملے کے بعد چین نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور امریکا نے بھی کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا ہے،یہی حال دنیا کے بہت سے دیگر ممالک کا بھی ہے۔ اس پر بھارت میں مزید بے چینی یا ناخوشی کا اظہار کیا جارہا ہے، کیوں کہ عام طور پر بھارت میں توقع کی جاتی ہے کہ کسی بھی بڑے حملے کے بعد دنیا بھر سے فوری طور پر اس حملے کی مذمت اور بھارت سے اظہار ہم دردی کیا جائے خاص طور پر دنیا کے دو بڑے اور طاقت ور ممالک امریکا اور چین،جن کے بیانات خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار گلوبل ٹائمز نے بھی تقریباً خاموشی کا مظاہرہ کیا ہے اور بہ مشکل ایک چھوٹی سی خبر شائع کی ہے جس میں تفصیلات سے گریز کیا گیا ہے ، صرف حملے کی خبر دی گئی ہے۔ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا نے بھی اس خبر پر سردمہری کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اب دنیا بھر میں کشمیر کے مسئلے پر بھارت سے ہم دردی کم ہوتی معلوم ہوتی ہے اور نہ صرف اس خطے کے ممالک بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں لیکن بھارت اور پاکستان ہی اس مسئلے کو حل کرسکتے ہیں۔ جب امریکا طالبان کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرسکتا ہے تو بھارتی حکومت حریت پسندوں سے کیوں مذاکرات نہیں کرسکتی۔

یہ خطہ پچھلے ستر سال سے تو کشیدگی کا شکار ہے ہی، مگر گزشتہ تیس سال سے اس کشیدگی میں زیادہ تواتر سے اضافہ ہورہا ہے، جس کے لیے دونوں ممالک کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بزور طاقت نہ بھارت کشمیر کو اپنے قابو میں رکھ سکتا ہے اور نہ پاکستان لڑکر پورا کشمیر ختم کرسکتاہے۔ دونوں ممالک جتنی جلدی یہ حقیقت تسلیم کرلیں اتنا اچھا ہے، اس مسئلے کا حل صرف پرامن گفت و شنید کے ذریعے ہی ممکن ہے۔