Advertisement

مستقبل کے سپنے آنکھوں میں سمائے نوجوان

June 08, 2019
 

محمد بلال الطاف، کراچی

نوجوان کسی بھی ملک کی ترقی میں ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی افرادی قوت ترقی کے پہیہ کو رواں دواں رکھتی ہے۔ ان کا پڑھا لکھا اور فنی تعلیم و تربیت کا حامل ہونا مسابقت کے اس دور میں ملک کو کہیں اونچا مقام مہیا کرتا ہے۔ اسی لئے تو دنیا بھر میں نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کی ہر ممکن سعی کی جاتی ہے اور ایسی پالیسیوں کی تشکیل اور اقدامات کیے جاتے ہیں، جو نوجوانوں کے لئے زیادہ سے زیادہ تعمیری شرکت کا باعث بنیں، چاہے صنعت وحرفت کا شعبہ ہو، زراعت و لائیو اسٹاک کا، صحت و تعلیم ہو یا روزگار، سائنس و ٹیکنالوجی، امن اور سیاست کا شعبہ ہو، سب میں نوجوانوں کی عملی شرکت کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

ملک کے لئے نوجوانوں کے اس اثاثہ کی اہمیت اور بھی دوچند ہے، کیونکہ اس وقت دنیا میں نوجوانوں کی پانچویں بڑی تعداد کا حامل ملک ’’پاکستان‘‘ ہے۔ اقوام متحدہ 15 سے24 سال کے افراد کو بین الاقوامی طور پر نوجوانوں کی آبادی کا گروپ قرار دیتا ہے، جب کہ پاکستان دولت ِمشترکہ کے متعین کردہ نوجوانوں کے 15 سے 29 سال کے افراد کو نوجوانوں کی آبادی کا گروپ تصور کرتا ہے۔ حقیقتاً ملکی آبادی میں نوجوانوں کے تناسب کے حوالے سے پاکستان اقوام متحدہ کی مقرر کردہ نوجوانوں کی آبادی کے گروپ کے مطابق دنیا میں 15 ویں نمبر پر ہے، جب کہ ملک کی 21.5 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ دولتِ مشترکہ کی تعریف کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی مجموعی آبادی میں نوجوانوں کی آبادی کا تناسب 30.7 فیصد ہے اور پاکستان اس تناسب کے حوالے سے دنیا بھر میں 16 ویں نمبر پر ہے۔ لیکن ملک میں نوجوانوں کی تعداد اور آبادی میں اُن کے تناسب کے حوالے سے اکثر حقیقت کے برعکس اعداد و شمار کا سہارا لیا جاتا ہے اور کہنے والے بڑی آسانی سے ملک کی آدھی آبادی یا کبھی تو اُس سے بھی زائد کو نوجوانوں کی آبادی قرار دے دیتے ہیں یا پھر نوجوانوں کے گروپ کا تعین اپنے طور پر کرکے اُن کی آبادی میں رد و بدل کرتے رہتے ہیں اور اکثر ایسا ان فورمز پر بھی دیکھنے میں آتا ہے جہاں اس طرح کی غلطی کی امید نہیں کی جاسکتی۔

ملک کی آبادی کا تبدیل ہوتا ہوا یہ ’’Demographic Profile ‘‘ اس بات کا متقاضی ہے کہ نوجوانوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور اُن کی صلاحیتوں سے بھر پور استفادہ کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ لیکن ماضی قریب تک اس اثاثہ سے فیض یاب ہونے سے کسی حد تک چشم پوشی اختیار کی جاتی رہی۔ لیکن جیسے ہی ملک میں ووٹر کی کم ازکم عمر کو 18 سال کیا گیا۔ ملک کے سیاسی منظر نامے میں نوجوانوں نے یکدم اہمیت حاصل کرنا شروع کردی۔ ان کی ترقی کے حوالے سے اقدامات اور پالیسیاں ملک کی سیاسی جماعتوں کے منشوروں میں ماضی کے مقابلے میں زیادہ جگہ پانے لگیں۔ حکومتی سطح پر نوجوانوں کے لئے زیادہ اقدامات کیے جانے لگے۔ دسمبر2008 ء میں پاکستان کی قومی یوتھ پالیسی سامنے آئی۔ نوجوانوں کے لئے انٹرن شپ پروگرام کا آغاز، سکلز ڈویلپمنٹ پروگرامز، لیپ ٹاپ سکیم، صوبوں کی سطح پر یوتھ فیسٹیول اور اب وزیر اعظم کا یوتھ پروگرام نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ اور اُن میں اضافہ کے لئے کئے جانے والے اقدامات کا سفر ہے۔ اکثر سیاسی جماعتوں نے اس حقیقت کا جلد ہی ادرا ک کرلیا ہے کہ اب نوجوان ووٹرز ہی اقتدار کے ایوانوں تک اُن کی رسائی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

گزشتہ عام انتخابات کی ووٹر فہرستوں میں ملک کے18 سے 25 سال کی عمر کے تقریباً 55 فیصد نوجوانوں اور18 سے 30 سال کی عمر کے تقریباً 62 فیصد نوجوانوں کی بطور ووٹر رجسٹریشن موجود تھی، جس نے سیاسی میدان میں ہل چل پیدا کردی۔ اگر یہ اندراج 100 فیصد کے لگ بھگ ہو جائے اور نوجوان اپنے حق ِ رائے دہی کا مکمل استعمال کریں تو پھر ملک کی کوئی بھی سیاسی قوت نوجوانوں کو مطمئن کئے بغیر اقتدار کے ایوانوں تک واضح اکثریت میں نہیں پہنچ پائے گی۔

نوجوانوں کا ووٹنگ لسٹوں میں100 فیصد اندراج اور انہیں اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال کے لئے قائل کرنے کے سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور میڈیا کو اپنا بھرپور کردار ایک الیکشن سے دوسرے الیکشن تک متواتر جاری رکھنا ہوگا، تاکہ انتخابی عمل میں نوجوانوں کی بطور نمائندہ اور ووٹر دونوں طرح سے شرکت بہتر قیادت کو سامنے لانے کے حوالے سے اپنا اہم کردار پوری طرح ادا کر سکے۔

اپنی سیاسی اور افرادی قوت کی اہمیت کے باوجود ملک کے نوجوان ابھی بھی گونا گوں مسائل کا شکار ہیں۔ پاکستان اپنی افرادی قوت کے اس اثاثہ کو معاشی اثاثوں میں بدلنے کامتمنی تو ہے ہی لیکن ابھی اسے نوجوانوں کی فلاح وبہبود کے حوالے سے بہت سفر طے کرنا ہے اور یہ سفر معاشرے سے معاش تک پھیلا ہوا ہے۔

سماجی ناہمواریاں، دہشت گردی، امن وامان کی ابتر صورتحال، توانائی کا بحران، انسانی حقوق کی پامالی، مفت اور معیاری تعلیم کے مواقعوں کی کمی، کیرئیر کونسلنگ کا نہ ہونا اور سب سے بڑھ کر نوجوانوں کی رائے کو اہمیت نہ دینے جیسے عوامل نوجوانوں کے سماجی سطح پر مسائل کا پیش خیمہ بن رہے ہیں، جو آگے چل کر ان کے معاشی مسائل پر منتج ہو رہے ہیں اور اُن کے لئے روزگار کے مواقع محدود اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو رہے ہیں۔ کیونکہ لیبر مارکیٹ میں کامیابی سے داخل ہونے کے لئے نوجوانوں کی تعلیم اور ٹریننگ بہت ضروری ہے، جبکہ پاکستان میں یونیسیف کی رپورٹ دی اسٹیٹ آف دی ورلڈ چلڈرن کے مطابق 15 سے24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں خواندگی کی شرح لڑکوں میں79 فیصد اور لڑکیوں میں 61 فیصد ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی ادارہ محنت کی گلوبل ایمپلائیمنٹ ٹرینڈز فار یوتھ نامی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 66.4 فیصد نوجوان خواتین اور 10.9 فیصد نوجوان مرد بے روزگار اور غیر تعلیم یافتہ ہیں، المیہ یہ ہے کہ یہ نوجوان مرد و خواتین کسی قسم کا ہنر نہیں سیکھ رہے۔ ایسی صورتحال میں جب ملک کے معمار کی ایک بڑی تعداد ناخواندہ اور فنی تربیت سے نا آشنا ہوگی تو پھر آبادی کے اس بڑے حصے کو معاشی بہتری کے لیے استعمال کرنا کیوں کر اور کیسے ممکن ہوگا؟ دوسری طرف ملک میں توانائی کا بحران روزگار کے مواقعوں کو مجموعی طور پر محدود اور غیر یقینی صورتحال کا شکار بنائے ہوئے ہے۔ جس کی وجہ سے نسل نو کی نمایاں تعداد بے روزگار ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کی ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق’’ پاکستانی نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 7.7 فیصد ہے‘‘۔ یہ امر قابل تشویش ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی نوجوانوں کی بڑی تعداد کم پیداواری، عارضی اور اس طرح کے دیگر نوکریوں میں اُلجھی ہوئی ہے، جو اُن کی توقعات کو پورا نہیں کرتیں اور نہ ہی اُن کے لئے ایسے مواقع پیدا کرتی ہیں، جو انہیں بہتر، مستقل اور زیادہ اجرت کی حامل عہدے دلاسکیں۔ اس کے علاوہ ملک میں نوجوانوں کے لئے مناسب روزگار کے مواقعوں کی کمی کے مختلف منفی نتائج اسٹریٹ کرائمز، چوریوں، اغواء برائے تاوان، دہشت گردی، تخریب کاری اور منشیات فروشی اور اس کے استعمال کے واقعات کی صورت میں سامنے آ رہی ہیں۔ اس لئے بہتر مستقبل کے سپنے آنکھوں میں سجائے نوجوانوں کی دیہات سے شہروں اور ایک ملک سے دوسرے ملک منتقلی کا عمل جاری ہے۔ جسے ہم ’’ Brain Drain ‘‘کہتے ہیں، جس کی کچھ جھلک نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز کے مطابق اس وقت پاکستان کے 15 سے24 سال کی عمر کے نوجونواں کا 37.66 فیصد شہروں میں آباد ہے۔ 1998ء میںیہ تناسب30.47 فیصد ہوا کرتا تھا۔ 1998ء سے تا حال ہمارے شہروں میں 15 سے 24 سال کے نوجوانوں کی تعداد میں 65.87 فیصد اضافہ ہوا جب کہ اسی عرصہ کے دوران ملک کے دیہی علاقوں میں نوجوانوں کی آبادی میں20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

نوجوانوں کا ایک اور توجہ طلب مسئلہ یہ ہے کہ، نوجوانوں لڑکیوں کو آگے بڑھنے سے صرف اس لیے روکا جائے کہ انہیں شادی کرکے گھر بسانہ ہے، یہ ہمارا ایک عمومی طرزعمل بن چکا ہے۔ کیونکہ بیشتر قابل اور لائق بچیوں کی شادی کم عمری میں ہی کر دی جاتی ہے اور پھرکم عمری میں ماں بننا بچیوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ اُن کی جسمانی اور ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کے مطابق پاکستان میں 15 سے 19 سال کی لڑکیوں میں سے 14 فیصد شادی کے بندھن میں بندھ جاتی ہیں۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ کم عمری کی شادی لڑکیوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ پاکستان میں اس کی شدت کا اندازہ پاکستان ڈیمو گرافک اینڈ ہیلتھ سروے 2006-07 کے ان حقائق سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں20 سال سے کم عمر مائوں میں زچگی کے دوران شرح اموات 242 فی لاکھ کیسز تھے۔

ملک میں نوجوانوں کے معاشی مسائل کو حل کرنے اور معیاری تعلیمی سہولیات تک اُن کی رسائی کو یقینی بنانے کے حوالے سے وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے ذریعے کوششوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ لیکن قومی، صوبائی اور مقامی ترقی کے عمل میں نوجوانوں کی رائے کو شامل کرنے جیسے اقدامات پر ابھی کام ہونا باقی ہے۔ اس حوالے سے قومی یوتھ پالیسی میں وزیر اعظم کی سربراہی میں نیشنل یوتھ کونسل کے علاوہ سنٹرل یوتھ کونسل اور سٹی یوتھ کونسل کے قیام کا ذکر تو موجود ہے لیکن ابھی ان کی کوئی ظاہری صورت سامنے نہیں آئی۔ اگرچہ یوتھ پارلیمنٹ کی صورت میں ملک میں نوجوانوں کا ایک فورم موجود ہے۔ لیکن اس فورم کو قومی فیصلہ سازی کے عمل کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ قومی اور علاقائی امور میں نوجوانوں کی رائے کو بھی شامل کیا جا سکے۔

ان سماجی اور معاشی مسائل ، بہتر و پرسکون زندگی کا خواب آج پاکستان کے نوجوانوں کی اکثریت کو بیرونِ ملک قسمت آزمائی کی ترغیب دے رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں مقامی علاقوں اور ملکی سطح پر Human Capital Flight یعنی Brain Drain کا عمل جاری ہے۔ اگرچہ نوجوانوں کی ہجرت سے معاشرے پر مثبت اور منفی دونوں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لیکن ہمیں ملک کے وسع تر مفاد میں اپنے Brain کو ملک سے Drain ہونے سے روکنا ہے تاکہ نسل نو پاکستانی معاشرہ میں اپنا بھر پور تعمیری کردار ادا کرسکیں۔


مکمل خبر پڑھیں