کراچی کو ویسے ہی جاگتا ہوا شہر کہا جاتا ہے، مگر ماہِ رمضان میں اس شہر کی رونقیں اور سرگرمیاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ افطار کے بعد سے سحری تک نوجوان مختلف سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں اور کھیلوں کے مقابلے ان سرگرمیوں کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔
ایسی ہی ایک دلکش اور پُرجوش سرگرمی کراچی کے ضیاالدین پارک میں دیکھنے کو ملی جہاں دو روزہ راکا والی بال ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا جس میں مقابلے کے ساتھ ساتھ کراچی کی زندہ دل ثقافت کا بھی جشن مناہا کیا گیا۔
ایونٹ کی آرگنائزر آمنہ رشید خان کے مطابق راکا والی بال ٹورنامنٹ کا آغاز چند دوستوں کے درمیان ایک گھریلو سطح کے مقابلے سے ہوا تھا جس میں صرف چھ ٹیمیں شامل تھیں، تاہم وقت کے ساتھ یہ ایونٹ بڑھتا گیا اور اب اس میں چالیس سے زائد ٹیمیں شریک ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ٹورنامنٹ کا مقصد صرف کھیل کا مقابلہ نہیں بلکہ لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے اور خوشگوار ماحول میں وقت گزارنے کا موقع فراہم کرنا بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایونٹ کے دوران میلے جیسا سماں نظر آتا ہے۔
ٹورنامنٹ میں 40 سے زائد ٹیموں نے حصہ لیا جن میں مختلف عمر کے مرد و خواتین کھلاڑی شامل تھے۔ اس ایونٹ کی خاص بات یہ تھی کہ یہ مکمل طور پر امیچر ٹورنامنٹ تھا جس میں پروفیشنل کھلاڑیوں کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔
مقابلوں کو مزید متوازن بنانے کے لیے ٹیموں کو ان کے کھیل کے معیار کے مطابق تین مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا تھا جن میں کلرز، تھرلرز اور چلرز شامل تھیں۔ چلرز کیٹیگری نسبتاً کم تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل تھی، جبکہ تھرلرز میں درمیانے درجے کی ٹیمیں شامل تھیں۔
کم تجربہ کار پلیئرز پر مشتمل چلرز کی کیٹیگری میں مرتضیٰ لاکڈا کی ٹیم نے کامیابی حاصل کی جبکہ تھرلرز کا ٹائٹل حاتم آفتاب کی ٹیم کے نام رہا ۔
سب سے اعلیٰ درجے کی کیٹیگری کلرز تھی جس میں مہارت رکھنے والے کھلاڑی شریک ہوئے اور اس کیٹیگری کا ٹائٹل علی رحمن کی ٹیم نے اپنے نام کیا۔
فاتح ٹیم کے کپتان علی رحمٰن کا کہنا تھا کہ اس بار مقابلہ خاصا سخت تھا کیونکہ کلرز کی کیٹیگری میں کئی مضبوط ٹیمیں شریک تھیں۔ ان کے مطابق ان کی ٹیم نے سخت مقابلوں کے بعد فائنل جیتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹائٹل جیتنے کی خوشی اپنی جگہ لیکن اس سے بڑھ کر خوشی اس شاندار ٹورنامنٹ کا حصہ بننے کی ہے۔
اس ایونٹ میں شریک کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس ٹورنامنٹ کو بھرپور انداز میں انجوائے کیا۔ ان کے مطابق کراچی میں رمضان کے دوران کھیلوں کی سرگرمیاں صرف کرکٹ تک محدود نہیں بلکہ دیگر کھیلوں میں بھی شاندار مقابلے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے ایونٹس سے نئے ٹیلنٹ کو سامنے آنے کا موقع بھی ملتا ہے۔
راکا والی بال ٹورنامنٹ کے دوران پارک میں ایک جشن کا سماں تھا جس نے بچوں کو بھی اس کھیل کی طرف متوجہ کیا۔ ایونٹ میں موجود 13 سالہ مداح احمد شہبازکر نے بتایا کہ والی بال صرف بڑوں کا کھیل نہیں بلکہ بچے بھی اس میں حصہ لے سکتے ہیں، اور انہیں یہاں یہ دیکھ کر حوصلہ ملا کہ کم عمر کھلاڑی بھی بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔
کراچی کی رمضان راتوں میں سجا یہ والی بال میلہ ایک بار پھر یہ پیغام دیتا نظر آیا کہ اس شہر میں کھیل صرف جیت اور ہار تک محدود نہیں بلکہ یہ شہر کی دھڑکن کا حصہ ہیں، اور ایسے فیسٹیول طرز کے ٹورنامنٹس ہی مستقبل کے کھلاڑیوں کے لیے پہلی سیڑھی ثابت ہوتے ہیں۔