Advertisement

یہ جناح کا پاکستان نہیں

August 11, 2019
 

میزبان:محمد اکرم خان

ایڈیٹر، جنگ فورم، کراچی

رپورٹ:طلعت عمران

علامہ محمد احسان صدیقی
چیئرمین، انٹر فیتھ کمیشن
فار پیس اینڈ ہارمنی

پاکستان صرف مسلمانوں کا نہیں، بلکہ یہاں مقیم غیر مسلموں کا بھی ملک ہے، مردم شماری کے فارم سے پارسی کمیونٹی کا کالم نکالنے پر آواز بلند کی، لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہندو میرج بل کی منظوری خوش آیند ہے، غیر مسلموں کے حوالے سے وزیر اعظم خان کی تقریر حوصلہ افزا ہے، شکوک و شبہات اور تفرقات ختم کرنے کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے

علامہ محمد احسان صدیقی

روز میٹھانی
ہیومن رائٹس کمیشن
آف پاکستان

مذہب کی جبراً تبدیلی ہندو کمیونٹی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، ہندو میرج بل پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، غیر مسلموں کے لیے لفظ ’’اقلیت‘‘استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، ’’نیشنل مائنوریٹی ڈے‘‘ کو ’’نیشنل ایکوئلیٹی ڈے‘‘ قرار دیا جائے، قائد اعظم کی 11اگست 1947ء کی تقریر سن کر ہمارے آبائو اجداد نے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا، 19جون 2014ء کا عدالتی فیصلہ اس تقریر کی عکاسی کرتا ہے، لہٰذا اس پر عمل کیا جائے

روز میٹھانی

سردار رمیش سنگھ
چیئرمین، سکھ کاؤنسل

پاکستان میں کم و بیش 40ہزار سکھ آباد ہیں، صرف پاکستان میں سکھ میرج بل منظور ہوا، باقی تینوں صوبوں میں بھی اس سلسلے میں قانون سازی کی جائے، پارلیمنٹ میں سکھ کمیونٹی کی نمایندگی نہیں، قومی و صوبائی اسمبلیوں میں سکھوں اور پارسیوں کے لیے بھی نشستیں مختص کی جائیں، کرتار پور راہداری کھول کر وزیر اعظم اور آرمی چیف نے دنیا بھر میں موجود سکھوں کے دل جیت لیے، عدالتِ عظمیٰ کے غیر مسلم پاکستانیوں سے متعلق فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے

سردار رمیش سنگھ

تشنا پٹیل
پارسی کمیونٹی

پارسی کمیونٹی نے بڑے خلوص سے کراچی کی خدمت کی، جب ہم اس شہر کو اجڑتا اور اپنی شناخت کو معدوم ہوتا دیکھتے ہیں، تو بہت دکھ ہوتا ہے، مردم شماری کے فارم میں پارسی کمیونٹی کا کالم شامل نہ کرنا افسوس ناک ہے، گزشتہ 10برس میں پارسیوں کی کثیر تعداد بیرونِ ملک منتقل ہونے پر مجبور ہوئی، پارسی کمیونٹی کی تعداد 25ہزار سے کم ہو کر ایک ہزار رہ گئی، اگر عمران خان ملک میں مکمل امن قائم قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو خوف کی وجہ سے وطن چھوڑنے والے پارسی وطن واپس آجائیں گے

تشنا پٹیل

خالد امین
چانسلر ،انڈس
یونی ورسٹی

ہماری یونی ورسٹی غیر مسلم طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی پیکیج متعارف کروا رہی ہے،تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہونے چاہئیں، پاکستان مسلمان اپنے ہم وطن غیر مسلموں کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں کبھی بھی عدم تحفظ کا احساس نہیں ہونے دیں گے

خالد امین


پاسٹر امجد فاروق
کرسچین کمیونٹی

قیامِ پاکستان میں غیر مسلموں نے اہم کردار ادا کیا، پاک فوج کے لیے خدمات انجام دینے والے سیسل چوہدری کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کوئی پروگرام منعقد نہیں کیا جاتا اور نہ غیر مسلم ہیروز کو یاد رکھا جاتا ہے، سیاسی پلیٹ فارمز پر بھی ہمیں نظر انداز کیا جا رہا ہے، غیر مسلموں کا دہرے حق کا ووٹ دیا جائے، اندرون سندھ ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کیا جا رہا ہے

پاسٹر امجد فاروق

ڈاکٹر گوبند ہیرانی
بہائی کمیونٹی

پاکستان میں بہائی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے 25ہزار افراد مقیم ہیں، ضلع تھر پارکر میں ہندو کمیونٹی کو تبدیلیٔ مذہب جیسے مسئلے کا سامنا ہے، لیکن اس میں دونوں فریق ہی قصور وار ہوتے ہیں، ’’نیشنل مائنوریٹی ڈے‘‘ پر قائد اعظم کی 11اگست 1947ء کی تقریر کو اجاگر کیا جائے

ڈاکٹر گوبندہیرانی

گزشتہ دنوں ’’غیر مسلم پاکستانی، حقوق اور حقائق‘‘ کے موضوع پرانڈس یونی ورسٹی میں جنگ فورم منعقد کیا گیا، جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ غیر مسلم پاکستانیوں کو پاکستانی آئین کے مطابق کون کون سے حقوق حاصل ہیں اور ان حقوق کی کہاں کہاں خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ان کے بنیادی حقوق سلب کیے جانے کے واقعات میں کتنی ہے اور اس سلسلے میں انہیں کن مسائل کا سامنا ہے۔ اسی طرح اندرون سندھ غیر مسلم خواتین کی جبراً تبدیلیٔ مذہب کی خبریں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ جاننے کی کوشش بھی کی گئی کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہیں کتنی محفوظ ہیں۔ نیز، انہیں کس قدر مذہبی و سماجی آزادی حاصل ہے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں میں کتنی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ فورم میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور ہندو کمیونٹی کے نمایندے، روز میٹھانی، چیئرمین انٹر فیتھ کمیشن فار پیس اینڈ ہارمنی، علامہ محمد احسان صدیقی ، پارسی کمیونٹی کی نمایندہ، تشنا پٹیل ، سکھ کائونسل کے چیئرمین، سردار رمیش سنگھ ،مسیحی برادری کے نمایندوں،پاسٹر امجد فاروق، بہائی کمیونٹی کے ترجمان،ڈاکٹر گوبند ہیرانی اور انڈس یونی ورسٹی کے چانسلر، خالد امین نے اظہارِ خیال کیا۔ اس موقعے پر ہونے والی گفتگو ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔

انڈس یونی ورسٹی میں ’’ غیر مسلم پاکستانی، حقوق اور حقائق‘‘ کے موضوع پر منعقدہ جنگ فورم کا منظر اور شرکا کا گروپ فوٹو،ایڈیٹر جنگ فورم ، کراچی محمد اکرم خان میزبانی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں

جنگ :پاکستان میں غیر مسلموں کی کیا صورتِ حال ہے؟

علامہ محمد احسان صدیقی :پاکستان ایک عظیم مملکت اور ہماری دھرتی ماں ہے۔ یہ ملک صرف مسلمانوں کا نہیں، بلکہ یہاں مقیم غیر مسلموں کا بھی ہے، کیوں کہ آئینِ پاکستان نے شہری کے طور پر سب کو مساوی حقوق دیے ہیں۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے بڑی خوشی محسوس رہی ہے کہ پاکستان میں غیر مسلموں کو مذہبی و سماجی آزادی حاصل ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتیاں عروج پر ہیں اور لائن آف کنٹرول کے آس پاس کی شہری آبادیوں پر کلسٹر بم برسائے جا رہے ہیں۔ لہٰذا، ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ دینِ اسلام بھی ہمیں امن و آشتی کا درس دیتا ہے۔ ہمارے مذہب میں پڑوسیوں کے حقوق پر بہت زور دیا گیا ہے اور پڑوسی کوئی غیر مسلم بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان ہم سب کا ملک ہے اور ہمیں مل جل کر اسے عظیم سے عظیم تر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

جنگ :بلاشبہ اسلام سمیت ہر مذہب اخلاقیات کا درس دیتا ہے، لیکن کیا ہمارے معاشرے میں ان تعلیمات پر عمل ہو رہا ہے۔ پاکستان میں غیر مسلموں بالخصوص پارسی کمیونٹی کی آبادی بہ تدریج کم ہوتی جا رہی ہے، تو کیا یہ خود کو محفوظ کرتے ہیں۔ کیا انہیں اپنی عبادت گاہوں میں جانے کی آزادی حاصل ہے؟

علامہ محمد احسان صدیقی :اگر ہم حقوق کی بات کریں، تو یہاں غیر مسلموں کے ساتھ مسلمانوں کے حقوق بھی غصب کیے جا رہے ہیں۔ البتہ گزشتہ دنوں میرج بل پر کام ہوا، تو مجھے اس پر خوشی ہوئی۔ جب بھی اس ملک میں غیر مسلموں کے ساتھ زیادتی ہوئی، تو ہم نے اس کے خلاف آواز بلند کی۔ نیز، مختلف مذاہب کے رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں۔ ہم نے کبھی پاکستانی غیر مسلموں کا یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ تنہا ہیں، بلکہ مشکل وقت بھی پوری مسلم کمیونٹی ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔

جنگ: کیا پاکستانی غیر مسلموں کو ان کے آئینی حقوق حاصل ہیں اور اس سلسلے میں حقائق کیا بتاتے ہیں؟

روز میٹھانی :یہ ایک نہایت اہم موضوع ہے۔ البتہ اس پر بات کرنے سے قبل میں پاکستان کی پوری ہندو برادری کی طرف سے لائن آف کنٹرول کے ارد گرد رہنے والے عام شہریوں پر بھارتی حملوں اور کلسٹر بم کے استعمال کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی ہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارتی جارحیت کا فوری نوٹس لیں۔ میں علامہ صاحب کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ پاکستان میں اکثریت کو بھی اس کے بنیادی حقوق حاصل نہیں، لیکن کسی بھی ملک میں اقلیت زیادہ غیر محفوظ اور کمزور ہوتی ہے، جب کہ اقلیتی خواتین کی بے دست و پائی مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 8سے تک 28تک کی رُو سے تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں، لیکن اسی آئین کے مطابق کوئی غیر مسلم پاکستان کا صدر اور وزیر اعظم بھی نہیں بن سکتا۔ لہٰذا، ریاست کو اس پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ اب جہاں تک ہندو میرج بل کی بات ہے، تو ایک تاریخی کارنامہ ہے، کیوں کہ ہندو کمیونٹی کئی دہائیوں سے اس کی منتظر تھی۔ پہلے ہندوئوں کی شادیاں رجسٹرڈ نہیں ہوتی تھیں۔ یعنی میں اپنی شریکِ حیات کو قانونی طور پر اپنی بیوی ثابت نہیں کر سکتا تھا۔ اس مقصد کے لیے ہم کبھی کسی پنچایت یا کبھی کسی یونین کائونسل سے پرمٹ لے لیتے تھے، لیکن یہ اس مسئلے کا مستقل حل نہیں تھا۔ وفاق بالخصوص صوبہ سندھ میں اس حوالے سے ہونے والی جامع قانون سازی ایک تاریخی قانون سازی ہے، جس پر ہمیں خوشی ہوئی۔ تاہم، ان قوانین کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ گزشتہ برس مئی میں سندھ اسمبلی میں یہ ترامیم منظور ہوئیں، لیکن ابھی تک ان پر عمل درآمد شروع نہیں ہوا۔ 11اگست کو’’ نیشنل مائنوریٹی ڈے ‘‘قرار دیا گیا ہے، لیکن غیر مسلموں کے لیے مائنوریٹی یا اقلیت کا لفظ استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ لہٰذا، میں جنگ فورم کے ذریعے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ اسے نیشنل ایکوئلیٹی ڈے قرار دیا جائے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی 11اگست 1947ء کی تقریر بھی یہی تقاضاکرتی ہے۔ یہ تقریر سن کر ہی ہمارے آبائو اجداد نے بھارت منتقل ہونے کے بہ جائے پاکستان ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پاکستان میں غیر مسلموں کو مشکلات درپیش ہیں، لیکن تمام پاکستانیوں کو مل کر ان پر قابو پانا ہو گا۔ علامہ محمد احسان صدیقی جیسے افراد ہماری دھرتی کا اثاثہ ہے اور ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ہمیں ایسے لوگوں کو اشد ضرورت ہے کہ جو ہمیشہ امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کی بات کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ جب ہمارے مسلمان بھائی غیر مسلموں کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، تو یہ زیادہ وزن رکھتی ہے۔

جنگ: ’’ نیشنل ایکوئلٹی ڈے‘‘ پر آپ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کیا مطالبہ کرتے ہیں؟

روز میٹھانی :میں جنگ فورم کے توسط سے یہ مطالبہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس روز پاکستانی غیر مسلم کمیونٹی کی ملک کے لیے خدمات کو اجاگر کیا جائے۔ گزشتہ دنوں لاہور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ نصب کیا گیا، تو اس قسم کے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر مختلف علاقوں اور سڑکوں کو غیر مسلم ہیروز سے منسوب کیا جائے۔ نیز، تعلیمی نصاب میں تمام مذاہب کا ذکر کیا جائے، تاکہ طلبہ کو تمام ہر مذہب کے تہواروں کے بارے میں معلومات ہوں۔ اس سے ملک میں امن اور ہم آہنگی کی فضا قائم ہو گی۔

جنگ :کیا حقِ رائے دہی اور سیاست میں نمایندگی پر بھی پاکستانی غیر مسلموں کو کچھ مسائل درپیش ہیں؟

روز میٹھانی :جوائنٹ الیکٹورل سسٹم کا نفاذ خوش آیند ہے، جب کہ اس سے قبل غیر مسلم الگ ووٹ دیتے تھے اور اس عمل نے ہمیں دیوار سے لگا دیا تھا۔2002ء میں جوائنٹ الیکٹورل سسٹم آیا، تو اس کے نتیجے میں ہمارے حقِ نمایندگی کو تقویت ملی۔ اب ہم اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دے سکتے ہیں اور یوں حلقے کے ایم این اے اور ایم پی اے کو بھی علم ہوتا ہے کہ یہ میرے ووٹرز ہیں، تو وہ ہمارا خیال رکھتا ہے۔ جہاں تک سیاسی جماعتوں میں غیر مسلموں کی نمایندگی کی بات ہے، تو زیادہ تر غیر مسلم امیدواروں کا تعلق امیر طبقے سے ہوتا ہے، جب کہ متوسط اور غریب طبقے سے وابستگی رکھنے والے غیر مسلموں کو سیاسی جماعتیں اہمیت نہیں دیتیں۔ لہٰذا، تمام سیاسی جماعتوں کو نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے غیر مسلموں کو بھی ٹکٹ دینا چاہیے۔ ہم صرف مخصوص نشستوں پر منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں نہیں جانا چاہتے، بلکہ براہِ راست بھی منتخب ہونا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں سیاسی جماعتیں ان حلقوں کا ٹکٹ ہمیں دے سکتی ہیں، جہاں ان کا ووٹ بینک بہت زیادہ ہو۔ یوں غیر مسلم مرکزی دھارے میں شامل ہوں گے۔

جنگ: ملک میں غیر مسلموں کی مجموعی صورتِ حال کیسی ہے؟

روز میٹھانی: آج سے چند برس قبل غیر مسلم کمیونٹی خود کو کسی حد تک غیر محفوظ تصور کرتی تھی، لیکن 19جون 2014ء کے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے میں دی جانے والی ہدایات خاصی حوصلہ افزا ہیں۔ اپنے اس فیصلے میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس تصدق حسین جیلانی نے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو مؤثر سیکوریٹی فراہم کرنے کا حکم دیا۔ اسی طرح اس فیصلے میں تعلیمی نصاب پر نظرِ ثانی کی ہدایت بھی دی گئی ۔ غیر مسلموں کے لیے ملازمتوں میں مختص 5فی صد کوٹے پر عمل درآمد کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ اگر 19جون 2014ء کے عدالتی فیصلے پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد ہو جائے، تو یہ قائد اعظم کی 11اگست 1947ء کی تقریر کی روح کے عین مطابق ہو گا۔

جنگ :کسی زمانے میں پارسی کمیونٹی کراچی کی شناخت ہوا کرتی تھی اور شہر کے لیے اس کی خدمات بھی ناقابلِ فراموش ہیں، لیکن اب اس شہر میں پارسیوں کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

تشنا پٹیل :آپ نے بالکل درست کہا۔ اب تو کراچی کے شہری پارسیوں سے واقفیت ہی نہیں رکھتے اور نہ ہی ان کے ماضی اور تہذیب وتمدن کے بارے میں جانتے ہیں، حالاں کہ کراچی شہر کےپہلے میئر ایک پارسی تھے۔ ایک طرح سے انہوں نے اس شہر کو گود لے لیا تھا۔ ان کے دور میں شہر کی سڑکوں کی روزانہ دھلائی ہوتی تھی اوروہ اس وقت تک نہیں سوتے تھے کہ جب تک پورے شہر کا گشت نہ کر لیں۔ ان کے علاوہ پارسی کمیونٹی کے کئی دوسرے افراد نے بھی اس شہر کی ترقی و خوش حالی میں اپنا کردار ادا کیا۔ ماما پارسی اسکول، این ای ڈی یونی ورسٹی، لیڈی ڈیفرن اسپتال اور شہر کے مختلف علاقوں میں قائم میٹرنٹی ہومز اور ہوٹلز اس کی چند مثالیں ہیں۔ علاوہ ازیں، اردشِیر کاوس جی کی اس شہر کے لیے خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ایک صاف گو انسان تھے اور لوگ ان کی بہت عزت کیا کرتے تھے۔ ہم نے بڑے خلوص کے ساتھ اس شہر کی خدمت کی ہے، لیکن جب ہم اسے پستی کی جانب گامزن ہوتا اور اپنی شناخت کو معدوم ہوتا دیکھتے ہیں، تو ہمیں بہت دکھ محسوس ہوتا ہے۔ ہمارے اس کرب میں اس وقت مزید اضافہ ہوا کہ جب ہم نے مردم شماری کے فارم میں پارسی کمیونٹی کے کالم کو غائب پایا۔ پارسی کمیونٹی کو Othersکے کالم میں ڈالا گیا ہے۔ پھر گزشتہ 10برسوں میں شہر میں بد امنی کی وجہ سے ہماری کمیونٹی کے بہت سے افراد پاکستان سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اس سلسلے میں پارسی کمیونٹی کی مرکزی شخصیت آواری صاحب نے ہمیں سہولت فراہم کی۔ انہوں نے ہماری کینیڈا میں سکونت کے لیے فوری اقدامات کیے۔ ان میں بیش تر اچھے اداروں میں خدمات انجام دینے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شامل تھے۔ پھر ہماری آبادی میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں کمیونٹی سے باہر شادی کی روایت نہیں اور نہ ہی ایک جوڑا دو سے زاید بچے پیدا کر سکتا ہے۔

جنگ :پارسیوں کی بیرونِ ملک منتقلی کے بنیادی اسباب کیا تھے؟

تشنا پٹیل :ان دنوں دہشت گردی کے واقعات بہت زیادہ رونما ہو رہے تھے اور وہ خود کو غیر محفوظ سمجھتے تھے۔

جنگ :لیکن ان واقعات کو ہدف کوئی ایک مخصوص کمیونٹی تو نہیں تھی؟

تشنا پٹیل :آپ کی بات درست ہے، لیکن دوسرے شہریوں کے مقابلے میں پارسی کمیونٹی کے افراد خود کو زیادہ غیر محفوظ تصور کرتے تھے۔

جنگ: قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک ملک میں پارسی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد میں کتنی کمی واقع ہوئی؟

تشنا پٹیل:تب 25ہزار کے لگ بھگ ہوں گے اور ایک ہزار بھی نہیں رہے۔

جنگ :مردم شماری کے فارم سے پارسی کمیونٹی کا کالم نکالنے پر آپ نے آواز بلند نہیں کی؟

علامہ محمد احسان صدیقی :ہم نے سردار رمیش سنگھ اور روز میٹھانی کے ساتھ مل کر پارسی کمیونٹی سے امیتازی سلوک کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ اس سلسلے میں میڈیا میں ٹاک شوز بھی ہوئے تھے، لیکن فی الوقت ہماری شنوائی نہیں ہوئی۔ اگرچہ ابھی تک قائد اعظم کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا، لیکن بہ تدریج مثبت تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں۔ اس ضمن میں وزیرِ اعظم عمران خان کی ایوانِ صدر میں تقریر بھی حوصلہ افزا ہے۔ ہم پر امید ہیں کہ ایک روز ہمارا پاکستان جناح کا پاکستان بن جائے گا۔

روز میٹھانی :علامہ صاحب نے یہاں عمران خان کی تقریر کا حوالہ دیا۔ انہوں نے اس موقعے پر کہا کہ مذہب کی جبری تبدیلی غیر اسلامی ہے۔ ہمیں وزیر اعظم کے اس بیان پر خوشی ہوئی۔ ان دنوں اندرون سندھ ہندوئوں کو تبدیلیٔ مذہب پر مجبور کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ 2016ء میںنند کمار بوکھلانی نے سندھ اسمبلی میں مذہب کی جبری تبدیلی پر ایک بل پیش کیا تھا، جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا، لیکن بعد میں اسے واپس لے لیا گیا۔ میں جنگ فورم کے ذریعے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ اس بل پر بھی توجہ دی جائے، کیوں کہ یہ ہندو کمیونٹی کا ایک اہم مسئلہ ہے اور اسے قانون سازی کے ذریعے حل کیا جائے۔

جنگ :اس وقت پاکستان میں غیر مسلموں کو تمام شعبہ ہائے زندگی میں کیا مسائل درپیش ہیں؟

خالد امین :ہماری یونی ورسٹی نے غیر مسلم طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک خصوصی پیکیج متعارف کروایا ہے۔ ہمیں 50کروڑ روپے کی گرانٹ موصول ہوئی ہے اور اسے میرٹ پر تقسیم کیا جائے گا۔ ہم سب پاکستانی ہیں اور ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہو گا اور تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ ہماری یونی ورسٹی کسی بھی معاملے میں تفریق نہیں کرتی اور یہ ہونی بھی نہیں چاہیے۔ پاکستانی مسلمان اپنے ہم وطن غیر مسلموں کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں کبھی بھی عدم تحفظ کا احساس نہیں ہونے دیں گے۔

پاسٹر امجد فاروق :پاکستان کی تخلیق میں غیر مسلموں نے اہم کردار ادا کیا۔ تعلیم و صحت کے شعبے کے علاوہ دفاعی میدان میں بھی ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ بد قسمتی سے پاک فوج کے لیے خدمات انجام دینے والے سیسل چوہدری کے نام پر کوئی پروگرام منعقد نہیں کیا جاتا اور نہ ہی انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ 14اگست، 23مارچ اور 6ستمبر سمیت دیگر اہم دنوں اور تہواروں پر ہندوئوں، عیسائیوں، سکھوں اور دوسرے غیر مسلم ہیروز کو یاد نہیں رکھا جاتا۔ اسی طرح سیاسی پلیٹ فارم پر بھی ہمیں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ میں غیر مسلموں کے لیے نشستیں مخصوص کر دی گئی ہیں اور ان نشستوں پر منتخب ہونے والے غیر مسلم امیدوار اپنی کمیونٹی کے بہ جائے اپنی سیاسی جماعت کے حق میں بولتے ہیں۔ میں جنگ فورم کے ذریعے یہ التجا یا درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح ماضی میں غیر مسلموں کے الگ انتخابات ہوتے تھے اور وہ الگ سے اپنے امیدواروں کا انتخاب کیا کرتے تھے، جو اسمبلیوں میں اپنی کمیونٹی کے حقوق کے لیے آواز بلند کیا کرتے تھے، وہی سلسلہ بحال کیا جائے یا پھر غیر مسلموں کو دہرے ووٹ کا حق دیا جائے۔ یعنی ہم اپنے نمایندے بھی خود منتخب کریں اور دوسرے نمایندوں کو بھی ووٹ دے سکیں، تاکہ وہ پارلیمنٹ میں ہمارے مسائل پر آواز بلند کریں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے منتخب کردہ غیر مسلم ارکان صرف اپنی پارٹی کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں۔ ہمیں مذہب کی جبری تبدیلی پر بھی اعتراض ہے۔ اندرونِ سندھ ہماری ہندو بیٹیوں کو زبردستی مسلمان کیا جا رہا ہے، جب کہ پنجاب میں مسیحی برادری کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

جنگ: کیا اس کے تدارک کے لیے کوئی قانون سازی کی جا رہی ہے؟

پاسٹر امجد فاروق :اس سلسلے میں کوششیں تو ہو رہی ہیں، لیکن ابھی تک نتائج نظر نہیں آئے۔ ہمیں قائد اعظم کا پاکستان چاہیے، جہاں ہمیں مساوی حقوق ملیں۔

جنگ: مذہبی آبادی کے حوالے سے کیا صورتِ حال ہے؟

پاسٹر امجد فاروق :سندھ میں تو ہمیں پوری مذہبی آزادی حاصل ہے۔ ہم بلا خوف اپنے گرجا گھروں میں جاتے اور عبادت کرتے ہیں۔ نیز، یہاں ہمارے بڑے بڑے مذہبی اجتماعات بھی منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ البتہ پنجاب میں کچھ گھٹن ہے۔

ڈاکٹر گوبند ہیرانی :میرا تعلق بہائی کمیونٹی ہے اور پورے پاکستان میں محض 20سے 25ہزار بہائی رہتے ہیں۔ ہم ہر ایماندار آدمی کو بہائی کہتے ہیں اور ہمارے ہاں کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے فرد سے شادی کی اجازت ہے۔ میرا تعلق ضلع تھر پارکر سے ہے، جب کہ ہماری کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ چوں کہ ہم انسانیت پر یقین رکھتے ہیں اور اگر بہائی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد اپنا مذہب تبدیل کرتا ہے، تو اس پر اعتراض نہیں کیا جاتا۔ ہمارے ہاں اسے فرد کا ذاتی معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ البتہ ضلع تھر پارکر میں ہندو کمیونٹی کو تبدیلیٔ مذہب کے مسئلے کا سامنا ہے، لیکن اس میں دونوں فریقین ہی قصور وار ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے عبادت گاہوں میں جانے اور مذہبی رسوم کی ادائیگی کے حوالے سے مکمل آزادی حاصل ہے۔

علامہ محمد احسان صدیقی :اس سلسلے میں میری رکن صوبائی اسمبلی منگلا شرما سے بات ہوئی تھی، تو انہوں نے کہا کہ مسلمان ہندو لڑکیوں سے زبردستی مذہب تبدیل کرواتے ہیں۔ میری اس ضمن میں میاں مٹھو صاحب سے بات ہوئی، تو انہوں نے بتایا کہ ہندو لڑکیاں مسلمان لڑکوں سے محبت کے چکر میں گھر سے بھاگتی ہیں۔ پھر جب انہیں شادی کرنی ہوتی ہے، تو لا محالہ مسلمان ہونا پڑتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک ماروی نامی لڑکی کا کیس سامنے آیا تھا۔ اس نے عدالت میں آ کر بتایا کہ میں نے اپنی خوشی و رضا کے ساتھ اسلام قبول کیا اور مجھے ہندو کمیونٹی سے خطرہ ہے۔

جنگ :لیکن صرف نوجوان لڑکیاں ہی مسلمان کیوں ہوتی ہیں؟

علامہ محمد احسان صدیقی :اسلام دینِ حق ہے اور اسے کوئی بھی قبول کر سکتا ہے اور اس میں عمر کی کوئی قید نہیں۔

جنگ :لیکن اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے؟

علامہ محمد احسان صدیقی :ان شکوک و شبہات کو ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔

روز میٹھانی :ہندو لڑکیوں کے مسلمان ہونے میں محبت کی شادیوں کا بھی عمل دخل ہے، لیکن زیادہ تر واقعات میں جبراً مذہب تبدیل کروایا جاتا ہے۔ اسی طرح سندھ میں بچوں کی شادیاں روکنے کا بھی قانون موجود ہے، لیکن بد قسمتی سے اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ اس قانون کی رو سے 18برس سے کم عمر میں شادی نہیں کی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے بعض لڑکیوں نے پنجاب جا کر شادیاں کی۔ مذہب کی جبری تبدیلی کے ضمن میں پیش کیے گئے بل میں، جسے واپس لے لیا گیا، یہ بات شامل تھی۔ لہٰذا، اس بل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

جنگ :اقوامِ متحدہ بھی یہی کہتی ہے کہ 18برس تک کی عمر تک بچہ اپنے والدین کے مذہب پر کار بند رہے گا۔

پاسٹر لیاقت رابنس: قیامِ پاکستان میں غیر مسلموں کا کردار مسلمانوں سے کم نہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کے حق میں پہلا ووٹ ایک مسیحی، چوہدری چند لال نے کاسٹ کیا تھا۔ ان کا تعلق پنجاب کے ایک گائوں سے تھا۔ گائوں، دیہات میں اب بھی غیر مسلموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان سے نفرت کی جاتی ہے۔ تاہم، فروغِ تعلیم کی وجہ سے اب لوگوں میں شعور پیدا ہو رہا ہے۔ اگرچہ اب حکومت غیر مسلموں کو تحفظ دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، لیکن پھر بھی بعض اوقات غیر مسلموں کا نازیبا رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تشنا پٹیل :اگر لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے کی بات کی جائے، تو دوسرے مذاہب کی طرح مسلمان گھرانوں کی لڑکیاں بھی گھروں سے بھاگ رہی ہیں، لیکن ان واقعات کی تشہیر نہیں کی جاتی۔ ان واقعات کے اسباب میں اسمارٹ فون کا غیر ضروری استعمال، تعلیم کی کمی اور غربت شامل ہیں۔ لڑکیوں کا گھر سے بھاگنا اور ان کی کم عمری میں شادیاں ایک نہایت غلط رجحان ہے۔ ہمیں اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔

علامہ محمد احسان صدیقی :جب سڑکوں پر ’’ میرا جسم، میری مرضی‘‘ جیسے نعرے لگائے جا رہے ہیں، تو پھر انہیں اپنی مرضی سے شادی کی اجازت بھی دیں۔ پاکستان غیر مسلموں کے لیے جنت ہے۔ ہمیں بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرنا ہو گی اور رواداری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ ہمیں ایک دوسرے سے محبت کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور تبھی ہم پاکستان کو ایک عظیم ملک بنا سکتے ہیں۔

سردار رمیش سنگھ :پاکستان میں تقریباً 40ہزار سکھ آباد ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ سکھ میرج ایکٹ ہے۔ پنجاب میں سکھ میرج ایکٹ منظور ہو چکا ہے اور اس سلسلے میں قانون بھی بن چکا ہے، لیکن باقی تین صوبوں، سندھ، کے پی کے اور بلوچستان میں یہ قانون منظور نہیں ہو سکا۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ غیر مسلموں کی مخصوص نشستوں پر پارلیمنٹ میں جانے والے غیر مسلم ارکان اپنی کمیونٹی کے بہ جائے اپنی جماعتوں اور رشتے داروں، قرابت داروں کی نمایندگی کرتے ہیں۔ نتیجتاً، غیر مسلموں کے حق میں قانون سازی نہیں ہو پاتی۔ پارلیمنٹ کا حصہ بننے والے امیر ہندو اپنے جیسے امیر ہندوئوں کے لیے تو آواز بلند کرتے ہیں، لیکن نچلے طبقے کے ہندوئوں کے حق میں کوئی نہیں بولتا۔

جنگ: کیا آپ نے اس جانب حکومت کو متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے؟

سردار رمیش سنگھ: ہم نے بڑی کوشش کی اور اسی کے نتیجے میں پنجاب میں سکھ میرج ایکٹ پاس ہو چکا ہے۔ جب سندھ میں ہندو میرج ایکٹ بنا، تو اس وقت ارکان اسمبلی نے سکھ برادری سے کوئی تجاویز لیں اور نہ سندھ حکومت نے ہمیں بلا کر کچھ پوچھا۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں اس حوالے سے قانون سازی نہیں ہو سکی۔ ایسی صورت میں پاکستان کا سکھ کہاں جائے۔ اس کے علاوہ دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں سکھ کمیونٹی کی کوئی نمایندگی نہیں ہے۔ ماضی میں قومی اور تمام صوبائی اسمبلیوں میں سکھوں اور پارسیوں کے لیے ایک، ایک نشست مختص ہوا کرتی تھی، لیکن اب ان کی کہیں بھی نمایندگی نہیں ہے۔ پارسی کمیونٹی کے اسفن یار بھنڈارا ایم این رہے، لیکن وہ کمیونٹی کے بہ جائے پارٹی کی بنیاد پر رکن پارلیمان بنےتھے۔ سکھ برادری کی آبادی کے اعتبار سے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ان کی کم از کم ایک نشست تو ہونی چاہیے تھی، تاکہ وہ پارلیمنٹ میں ہماری نمایندگی کرتے اور قانون سازی بھی ہوتی۔ میں یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ کرتار پور راہداری کھول کر وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف اور حکومتِ وقت نے دنیا بھر میں موجود سکھوں کے دل جیت لیے۔ کرتار پور ہمارے لیے ایک نہایت مقدس مقام ہے۔ سکھ مت کے بانی بابا گورو نانک کا جنم استھان بھی پاکستان ہی کے علاقے ننکانہ صاحب میں موجود ہے، جب کہ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری 18برس کرتار پور میں اسی مقام پر گزارے تھے اور پھر یہیں ان کا انتقال ہوا۔ چوں کہ بابا گورو نانک سے وابستہ نصف سے زاید مقامات پاکستان میں واقع ہیں، لہٰذا دنیا بھر کے سکھ پاکستان سے خصوصی محبت کرتے ہیں۔ جب نومبر میں کرتار پور راہداری کا باقاعدہ افتتاح ہو گا، تو دنیا بھر میں پاکستان کے حوالے سے اچھا پیغام جائے گا۔

محمد اسحٰق :میں تشنا پٹیل صاحبہ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا پاکستان میں باقی رہ جانے والے پارسیوں کی نقل مکانی روکنے کے لیے کوئی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

تشنا پٹیل: کراچی ہمارا شہر ہے اور ہم نے اس شہر کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ نیز، پارسی کمیونٹی کے ساتھ کبھی بھی اس شہر میں کوئی ناخوشگوار واقعہ بھی پیش نہیں آیا۔ کبھی اس پر خود کش حملہ نہیں ہوا اور نہ ہی پارسیوں کو اغوا کیا گیا، لیکن ہمارے بڑے ہمیں محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا، وہ حالات کے پیشِ نظر پہلے ہی سے حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے پارسی کمیونٹی کے افراد بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں، لیکن اگر وزیر اعظم عمران خان ہمیں ایسا ماحول فراہم کرنے میں کام یاب ہو جاتے ہیں کہ جس میں ہم خود کو محفوظ تصور کریں اور پھلے پھولیں، تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ خوف کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑنے والے پارسی خاندان وطن واپس آ جائیں گے۔ وہ لوگ بیرون ملک خوش نہیں ہیں اور ان کا دل پاکستان میں ہے۔

جنگ :’’نیشنل مائینوریٹی ڈے‘‘ پر کیا پیغام دیں گے؟

تشنا پٹیل :قائد اعظم غیر مسلموں کے لیے جو پاکستان چاہتے تھے، ہمیں وہ پاکستان چاہیے۔ ہم وزیر اعظم عمران خان اور تمام وزراء سے یہ درخواست کریں گے کہ نئے پاکستان میں غیر مسلموں کو مساوی حقوق ملنے چاہئیں۔

ڈاکٹر گوبندہیرانی: اس موقعے پر قائد اعظم کی 11اگست 1947ء کی تقریر کو اجاگر کیا جانا چاہیے اور اس ملک میں موجود غیر مسلموں کو مساوی حقوق دیے جانے چاہئیں۔

روز میٹھانی: جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ 2014ء میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس تصدق حسین جیلانی کی طرف سے دیا گیا فیصلہ قائد اعظم کے فرمان کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر اس فیصلے پر صحیح معنوں میں عمل درآمد کیا جائے، تو ہمارے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

سردار رمیش سنگھ: میں اس موقعے پر یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم مل کر ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کریں، جس کا قائد اعظم نے اپنی 11اگست 1947ء کی تقریر میں ذکر کیا تھا اور مل کر پاکستان کی خدمت کریں۔ میں روز میٹھانی صاحب کی اس بات سے ایک سو فیصد اتفاق کرتا ہوں کہ سابق چیف جسٹس، جسٹس تصدق جیلانی کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اس فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے غیر مسلم کمیونٹی کے مسائل حل نہیں ہو پاتے۔

خالد امین: ہم سب کو غیر مسلم پاکستانیوں کو اس بات کی یقین دہانی کروانی ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نیز، ہمیں انہیں مساوی حقوق دینے ہیں۔

علامہ محمد احسان صدیقی: انتہا پسند مذہبی عناصر اس ملک کے امن کے دشمن ہیں۔ وہ بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کو سبو تاژ کر کے ہمارے اندر تفرقات پیدا کرنا اور ہمیں ایک دوسرے سے لڑانا چاہتے ہیں۔ ہمیں بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام نچلی سطح تک بھی پہنچانا چاہیے، تاکہ ہم سب مل کر اس ملک کی بقا، سلامتی اور ترقی کے لیے کام کر سکیں۔

’’ایک ریاست کے باشندے اور مساوی باشندے‘‘
بانیٔ پاکستان کی11اگست1947ء کی تاریخی تقریرکے اہم نکات

’’ اگر ہمیں پاکستان کی اس عظیم الشان ریاست کو خوشحال بنانا ہے، تو ہمیں اپنی تمام تر توجہ لوگوں کی فلاح و بہبود کی جانب مبذول کرنا چاہیے۔خصوصاً عوام اور غریب لوگوں کی جانب۔ اگر آپ نے تعاون اور اشتراک کے جذبے سے کام کیا ،تو تھوڑے ہی عرصے میں اکثریت اور اقلیت، صوبہ پرستی اور فرقہ بندی اور دوسرے تعصبات کی زنجیریں ٹوٹ جائیں گی۔ہندوستان کی آزادی کے سلسلے میں اصل رکاوٹ یہی تھی۔ اگر یہ نہ ہوتی، تو ہم کبھی کے آزاد ہو گئے ہوتے۔ اگر یہ آلائشیں نہ ہوتیں تو چالیس کروڑ افراد کو کوئی زیادہ دیر تک غلام نہ رکھ سکتا تھا۔یورپ خود کو مہذب کہتا ہے لیکن وہاں پروٹسٹنٹ اور رومن کیتھولک خوب لڑتے ہیں۔ وہاں کی بعض ریاستوں میں آج بھی افتراق موجود ہے، مگر ہماری ریاست کسی تمیز کے بغیر قائم ہو رہی ہے۔ یہاں ایک فرقے یا دوسرے فرقے میں کوئی تمیز نہ ہوگی۔ ہم اس بنیادی اصول کے تحت کام شروع کر رہے ہیں کہ ہم ایک ریاست کے باشندے اور مساوی باشندے ہیں ۔ آپ آزاد ہے۔ آپ اس لیے آزاد ہیں کہ اپنے مندروں میں جائیں ۔آپ آزاد ہیں کہ اپنی مسجدوں میں جائیں یا پاکستان کی حدود میں اپنی کسی عبادت گاہ میں جائیں۔ آپ کا تعلق کسی مذہب کسی عقیدے یا کسی ذات سے ہو، اس کا مملکت کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں یہ بات بطور نصب العین اپنے سامنے رکھنی چاہیے اور آپ یہ دیکھیں گے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو، ہندو نہ رہے گا اور مسلمان، مسلمان نہ رہے گا۔ مذہبی مفہوم میں نہیں، کیوں کہ یہ ہر شخص کا ذاتی عقیدہ ہے ،بلکہ سیاسی مفہوم میں اس مملکت میں اس مملکت کے ایک شہری کی حیثیت سے۔‘‘


مکمل خبر پڑھیں