Advertisement

’چاند سی دلہن تو آگئی‘ گھر لاتے ہی اس میں خرابیاں کیوں نظر آنے لگیں

August 28, 2019
 

عمارہ شکور

امی! دلہن کتنی پیاری لگ رہی تھی نا؟

ہاں بھئی ! مسز احمد نے بھی تو چاند سی دلہن ڈھونڈنے میں دن رات ایک کیا ہواتھا ۔ لڑکی لمبی ، پڑھی لکھی بڑے گھر والی ہو اورخوب صورتی تو ہرایک کو ہی چاہیے ہوتی ہے۔ چلو ان کی محنت رنگ لے آئی، اس پر لاکھوں کاجوڑا ، جیولری اور ہزاروں کا میک اپ، کھانا بھی بہت اچھا تھا ، ابو نے بھی لقمہ دیا ۔ ولیمے سے واپسی پر یہ سب تبصرے گاڑی میں بیٹھتے ہی شروع ہوگئے تھے۔

شگفتہ بیگم کی آنکھ صبح دیر سے کھلی ،گھڑی پر نظر ڈالی توساڑھے دس بج رہے تھے ۔گھبرا کر اٹھیں، زرینہ ماسی ابھی تک نہیں آئی ، شادی ان کے گھر پرہے اور چھٹیاں ہمارے گھر کی کر رہی ہے ۔اس نے تو میرا سارا کام خراب کر دیا ہے ۔ وہ غصے سے بڑ بڑائیں، اب آئے ذرا یہ میں اس کی ٹھیک ٹھاک کلاس لیتی ہوں۔ دراصل زرینہ مسز احمد کے گھر پر بھی کام کرتی ہے ۔ اس کی راہ تکتے تکتے دوپہر ہوگئی تب تک شگفتہ بیگم ضروری کام خود ہی سمیٹ چکی تھیں کہ تھکے قدموں اور رونی صورت لئے زرینہ وارد ہوئی ۔ ہاں بھئی فرصت مل گئی ؟ شادی ان کے گھر اور سزا ہمیں مل رہی ہے؟باجی نے اتنا کام کرایا کہ میرا تو حشرہی نکل گیا اور اضافی پیسے دیتے ہوئے ان کی جان جاتی ہے۔ دکھاوے کے لئے توان کے پاس لاکھوں ہیں لیکن غریب کو دینےکے لئے نہیں ہے ۔ باجی ہم بھی انسان ہیں چلو جانے دو ۔ شگفتہ بیگم کوترس آہی گیا اور انہوں نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے اسے تسلی دی ۔ دو مہینے بھی نہ گزرے ہوں گے کہ ایک دن زرینہ خبر لائیں کہ باجی ان کے گھر سا س بہو میں خوب لڑائیاں ہورہی ہیں۔ ارے بھئی !جہاں چار برتن ہوتے ہیں وہاں کھٹ پٹ تو ہوتی ہے ابھی نئی آئی ہے کچھ وقت تو لگے گا ایک دوسرے کو سمجھنے میں۔ ہاں باجی !آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں لیکن دلہن کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ پورا دن کمرے سے نہیں نکلتی سارے دن فون پر لگی رہتی ہے ، یہ باہر بیٹھی کڑھتی، بڑبراتی رہتی ہیں اور اگر وہ باہر نکلتی بھی ہے تو یہ طنز بھرے جملوں کاوار کردیتی ہیں، وہ بھی دلیرانہ مقابلہ کرتی ہے اور پھر اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے۔ مجھے تو یہ دال گلتی نظر نہیں آرہی ارے بھئی !اول فول مت کہو۔ ابھی تو انہوں نے اتنے چائو سے بیٹے کاگھر بسایا ہے ۔پیسہ پانی کی طرح بہایا ہے۔ ایک تو میں حیران ہوں کہ چاند جیسی بہوؤں میں اتنی جلدی گرہن کیوں لگ جاتا ہے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ساس صاحبہ ضرورت سے زیادہ امیدیں باندھ لیتی ہیں اور جب وہ پوری نہیں ہوتیں تو برداشت نہیں کرپاتیں۔ ، طنز کے تیر آنے والی کا دل چیرتے رہتے ہیں وہاں تو برداشت کا مادّہ بالکل بھی نہیں ہوتا، اس لئے جوابی کارروائی معاملہ مزید الجھا دیتی ہے۔ آنے والی بہوؤں کے لئے ’’ خاموشی ‘‘ بہترین ہتھیار ہے لیکن وہ استعمال کریں تب نا ۔ والدین لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں لیکن یہ پڑھی لکھی لڑکیاں نہ جانے خود کو کیا سمجھنے لگتی ہیں کہ ناشوہر انہیں کچھ کہہ سکے نا ساس کی کوئی بات گوارہ ہوتی ہے۔ دیر سے اٹھنا، گھر اور اس کے تما م معاملات سے لاتعلق رہنا ، اپنے کمرے میں ہی دنیا بسانا اور چوبیس گھنٹے سوشل میڈیا سے منسلک رہنا ، شوہر کے آتے ہی گھر سے باہر نکل جانا یہ ساری وجوہات ہیں جو چاند جیسی بہو میں بہت جلد گرہن لگادیتی ہیں۔

کچھ قصور ساسوں کابھی ہے کہ وہ نئی بہو کو تھوڑا وقت تودیں، آہستہ آہستہ وہ آپ کے ڈھب پر آجائے گی لیکن وہ اپنے بیٹے کی محبت کو تقسیم ہوتا نہیں دیکھ پاتیں اور حسد کی آگ میں جلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ بہو کا موازنہ خود سے شروع کردیتی ہیں ’’ ہم تو یہ کرتے تھے ‘‘ ’’ ہم تو وہ کرتے ہیں ‘‘ ’’ ہم توایسے تھے ‘‘ یہ سنا سنا کر انہیں کہیں کا نہیں چھوڑتیں۔

اس ساری صورتحال کواگر ان کا بیٹا ہینڈل نہیں کر پاتا توگھر ٹوٹ جاتے ہیں۔ بیٹے کو چاہیے کہ بیوی کا دل بھی خوش کرے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ماں کے دل کو بھی ٹھیس نہ پہنچائے۔ بیوی کو سمجھا دے ’’ یہ میری ماں ہیں ، جیسی بھی ہیں ان کی ہر صحیح بات تو صحیح ہے ہی غلط بھی صحیح ہے، کیوں کہ ماں،ماں ہوتی ہے ’’ یہ بات اگر پیار سے سمجھا دی جائے اور اگلی سمجھ لے توایک مضبوط گھرانے کی بنیاد ڈالی جاسکتی ہے۔

ایک ’’شک‘‘ کی بیماری شادی شدہ زندگی میں دیمک کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس سے حتی الامکان بچنا چاہیے اور اس گاڑی میں پیڑول کا کردار ادا کرنے والی چیز ہے۔ ’’ قربانی‘‘ ہر محبت قربانی مانگتی ہے۔ ہرایک کادل جیتا جاسکتا ہے اگر اپنے دل کو سمجھانا آگیا تو یہ وقتی قربانیاں بہت ساری آنے والی خوشیوں کے لئے سرمایہ اور خزانہ ثابت ہوتی ہیں۔ لیکن یہ بات سمجھ کر عمل کرنا ضروری ہے۔ آزمائش شرط ہے۔

اس رشتے کو بچانے کے لئے اور اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ایک اور چیز کا قلع قمع کرنا بہت ضروری ہے۔ وہ ہے ’’ آپ کی ناک ‘‘ اس کے چکر میں نہ جانے کتنے گھر اجڑ چکے ہیں۔ ہم ہر رشتے میں وصول کرناچاہتے ہیں اور دیتے ہوئے ہماری جان جاتی ہے۔ یہ چیز بھی بڑی بری ہے۔


مکمل خبر پڑھیں