• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرانس میں تیز رفتاری سے فیراری چلانے والا شخص بظاہر کنگال اور بیروزگار نکلا

حال ہی میں فرانسیسی پولیس نے ایک سرخ فیراری کار تیز رفتاری سے چلانے والے ایک شخص کو روکا لیکن وہ یہ جان کر حیران رہ گئے کہ ڈرائیور ایک بےگھر اور نادار تھا اور وہ سرکاری امداد پر گزارا کر رہا تھا۔ جبکہ وہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر مالیت کی فیراری کار چلا رہا تھا۔

فرانس کے علاقے ووکلیز میں ٹریفک پولیس نے ایک چمکدار سرخ فیراری فورٹوفینو تقریباً 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلاتے ہوئے روکا، تو انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ کار ڈرائیور بےگھر ہوگا اور نادار ہوگا۔

پوچھ گچھ کے دوران بظاہر اچھے اور عمدہ لباس میں ملبوس اس شخص نے افسران کو بتایا کہ اس کے پاس نہ کوئی ملازمت ہے، نہ کوئی اثاثہ اور نہ ہی کوئی ذریعہ آمدنی ہے۔

پولیس حیران تھی کہ 2 لاکھ یورو مالیت کی اسپورٹس کار ایک بےگھر شخص کے زیر استعمال ہو، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، تاہم پولیس کی جانب سے مختصر تفتیش سے معلوم ہوا کہ فیراری کار چلانے والا شخص کئی برسوں سے سرکاری ویلفیئر سے ملنے والی آمدنی پر گزارا کر رہا ہے۔

جب گاڑی کے بارے میں اس سے پوچھا گیا کہ تو ڈرائیور نے کہا کہ یہ اس کی والدہ کی ہے لیکن ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ گاڑی ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی کے نام رجسٹرڈ تھی جسے یہ، اس کی والدہ اور اس کے دو بہن بھائی چلاتے تھے۔ بعد ازاں تفتیش سے انکشاف ہوا کہ حکومتی فنڈز ہتھیانے اور آمدنی ظاہر نہ کر کے ٹیکس سے بچنے کے لیے ایک پیچیدہ منصوبہ بنایا گیا تھا۔

اسی وجہ سے یہ شخص اور اس کا خاندان پُرتعیش زندگی گزار رہا تھا، لیکن سرکاری ریکارڈ میں یہ بےروزگار اور دیوالیہ تھے، جس کی وجہ سے انھیں سرکاری مالی امداد مل رہی تھی جبکہ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کی آمدنی کو نہ تو ظاہر کیا گیا اور نہ ہی اس پر ٹیکس ادا کیا گیا۔

مجموعی طور پر دھوکہ بازوں نے سماجی مراعات کی مد میں کم از کم 1.8 ملین یورو کا غبن کیا، اس کے علاوہ 1.6 ملین یورو (1.9 ملین ڈالر) سے ان ڈکلیئرڈ آمدنی بھی حاصل کی۔ بعدازاں پولیس نے ان تمام افراد کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا۔

دلچسپ و عجیب سے مزید