Advertisement

فلاحی ریاستوں میں آمدن کا بڑا حصہ ٹیکس دیکر بنیادی سہولتیں ملتی ہیں

September 10, 2019
 

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) وزیراعظم عمران خان کی طرف سے پاکستان کو ایک مثالی فلاحی ریاست بنانے کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک ادارے اپنے حصے کا کام اور عوام اپنے حصے کا ٹیکس ادا نہیں کرتے اور بدلے میں حکومت عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کرتی۔ دنیا بھر کی فلاحی ریاستوں کے رہائشی اپنی آمدن کا بڑا حصہ ٹیکس کی مد میں ادا کر کے ہی تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور رہائش سمیت دیگر بنیادی سہولتیں حاصل کرتے ہیں، 58لاکھ کی آبادی کے فلاحی ملک ڈنمارک کے لوگوں نے 2017میں 145بلین امریکی ڈالر ٹیکس ادا کیا جو بالواسطہ اور بلاواسطہ تھا، یہ سب کچھ صرف اس لئے ممکن ہوا کہ ڈینش لوگوں کو یقین ہے کہ ہم سے لیا گیا ٹیکس ہماری ہی فلاحی وبہبود پر خرچ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار محکمہ ٹیکس ڈنمارک کے سربراہ میٹتھیس کسلنگ ہیرس نے اسلام آباد ڈینش ایمبیسی کے زیراہتمام پروگرام کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2018کے ایک سروے کے مطابق اپنی آمدن کا چالیس سے پینتالیس فیصد ٹیکس ادا کرنے والے 63فیصد ڈینش لوگوں نے ٹیکس کے موجودہ نظام پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ 29فیصد کی رائے میں ٹیکس زیادہ لیا جا رہا ہے۔ ٹیکس کی ادائیگی پر اطمینان کا اظہار کرنے والوں کو یقین ہے کہ ان سے لی جانے والی رقم چوری ہونے کی بجائے محفوظ ہاتھوں میں ہے اور یہ رقم ہمارا معیار زندگی بہتر بنانے پر ہی خرچ ہوتی ہے لہذا جس ملک کے لوگوں کو یہ یقین ہو جائے گا ان سے لی جانے والے رقم انہی پر خرچ ہوگی ہوگی تو وہ ٹیکس دینے میں اجتناب نہیں برتیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ خوشحال لوگوں سے ٹیکس لیکر غریب اور نادار لوگوں جن میں بیروزگار بھی شامل ہیں پر زیادہ خرچ کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ڈینش حکومت سائیکل سواری کی حوصلہ افزائی کرنے کیلئے گاڑیوں پر 25فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے علاوہ 150فیصد ڈیوٹی بھی وصول کرتی ہے جس کا مقصد گاڑیوں کی حوصلہ شکنی ہے کیونکہ سائیکل کی نسبت سڑک پر گاڑیاں زیادہ جگہ لیتی ہیں ان کے علاوہ گاڑیاں کم ہونے سے آلودگی سے نجات ملے گی ماحول صاف اور حادثات میں کمی واقع ہوگی، ایک سوال کے حوالے میں انہوں نے کہا کہ ڈنمارک کے 80فیصد لوگ چرچ ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں یہ رقم چرچز کی تعمیر وترقی پر ہی خرچ ہوتی ہے، محکمہ ٹیکس کے ایک اور ذمہ دار افسر کرسٹین برینڈز نے پاکستان میں ٹیکس نظام کے حوالے سے سوال پر کہا کہ یہ بہت دلچسپ سوال ہے پاکستان آج جہاں ہے سو سال پہلے کبھی ڈنمارک بھی یہیں کھڑا تھا مگر بعدازاں لوگوں کو جوں جوں حکومت کی طرف سے اعتماد حاصل ہوتا رہا اور انہیں بنیادی سہولتیں ملتی چلی گئیں تو انہوں نے بھی خوشی سے ٹیکس دینا شروع کر دیا آج ڈنمارک کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والوں میں ہوتا ہے۔ جب پاکستانی حکومت بھی ٹیکس دہندگان کو تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کر کے ان کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیابی ہوگئی تو یقیناًلوگ ٹیکس بھی خوشی سے دیں گے۔


مکمل خبر پڑھیں