Advertisement

قائدِ اعظم: تدبر اور تدبیر کا حسین امتزاج

September 10, 2019
 

خواجہ رضی حیدر

(سابق ڈائریکٹر قائداعظم اکیڈمی)

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح تدبّر اور فراست کا مجسّمہ تھے۔ آپ کا کوئی عمل حکمت سے خالی نہیں ہوتا تھا۔ آپ جو اقدام کرتے اُس پر پہلے اچھی طرح غور و فکر کر لیتے تھے، اس کے بعد اسے عملی صورت دیا کرتے تھے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران متعدد مراحل پر آپ نے فیصلے میں تاخیر کا مظاہرہ کیا جس سے جزوی طور پر مسلمانوں میں مایوسی پیدا ہوئی، لیکن جب آپ نے فیصلے کا اعلان کیا تو ہر شخص نے آپ کے تدبراور فراست کی داد دی۔ خصوصاََ 1928ء میں نہرو رپورٹ کے موقعےپر آپ کی طویل خاموشی تشویش کا باعث تھی۔ اکتوبر 1928ء میں انگلستان سےواپسی پرجب اخباری نمائندوں آپ سے اس رپورٹ پر اظہارِ خیال کے لیے کہا تو آپ نے رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ابھی مجھے اس رپورٹ کے تفصیلی مطالعے کا وقت نہیں ملا ہے۔ لیکن آپ نے اس موقعے پر مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ پریشان نہ ہوں اور متحد رہیں، کیوں کہ مسائل حل ہونے کا وقت قریب آگیا ہے۔ پھر31دسمبر 1928ء کو کلکتہ کے مقام پرکُل جماعتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے آئینی اور قانونی طور پر نہرو رپورٹ کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں اور واضح طور پر کنونشن سے کہا:

’’نہر و رپورٹ کو جناح کی تائید کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی تائید کی ضرورت ہے۔ اگر اقلیتوں کا مسئلہ آپ نے آج حل نہیں کیا تو لازماََ اسے کل حل کرنا پڑے گا۔ ہندو اور مسلمان اسی ملک کے باشندے ہیں۔ اگر ان کے درمیان باہمی اختلافات ہیں بھی تو ان اختلافات کی وجہ سے دشمنی اور عداوت مول نہ لیجیے۔ اگر وہ باہم اتفاق اور یگانگت پیدا کرنے سے معذور ہیں تو کم از کم اتنا تو کریں کہ دشمنوں کی مانند ایک دوسرے کا سر پھوڑ کر نہیں بلکہ دوستوں کی طرح آپس میں مصافحہ کر کے جدا ہوں۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کو متحد اورمتفق دیکھنا میری زندگی کی ایک بڑی آرزو ہے۔ اس اتحاد کے راستے میں کسی منطق، نا انصافی اور کسی کشمکش کو حائل نہ ہونے دیجیے‘‘۔

قائد اعظم کی اس درد مندانہ اپیل کے باوجود کانگریس کی ہندو قیادت نے قائد اعظم کی ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے نہرو رپورٹ کی، جس میں مسلمانوں کے آئینی حقوق کو نظر انداز کردیا گیا تھا، منظوری دے دی۔

مسلمانوں کے مسائل اور مطالبات کے سلسلے میں ہندو قیادت کا رویہ ہمیشہ ہٹ دھرمی اور نا انصافی پر مبنی رہا جس کی بناپر مسلمانوں کے ہاں یہ خیال تقویت پکڑتا چلا گیا کہا نہیں اپنے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے ایک علیحدہ مسلم ریاست تشکیل دینا پڑے گی۔کُل جماعتی کنونشن سے واپسی پر قائد اعظم نے اپنے ایک دوست سے فرمایا: ’’آج ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا اس طرح جدا ہو رہے ہیں کہ وہ آئندہ کبھی باہم متحد نہیں ہوں گے‘‘۔

قائد اعظم کا یہ تجزیہ ایک پیشن گوئی ثابت ہوا اور مارچ 1940ء میں مسلمانانِ ہند نے ایک علیحدہ مسلم ریاست کا مطالبہ نہ صرف پیش کیا بلکہ اس مطالبے کی منظوری کے لیے من حیث القوم خود کو وقف کر دیا۔ قائد اعظم نے اپنے تجربے کی روشنی میں ہمیشہ کانگریس کو ایک ہندوجماعت قرار دیا، اور کانگریس بھی برابر اپنے ہندو جماعت ہونے کا ثبوت فراہم کرتی رہی۔ قائد اعظم نے اسی مطالعے کی روشنی میں جون 1940ء میں وائسرائے ہند سے واضح طور پر کہا کہ آئندہ جو بھی دستوری خاکہ مرتب کیا جائے اُس میں دو خود مختار آزاد ریاستوں کا اصول شامل کیا جائے‘‘۔

اسی اصول کی بنیاد پر قائد اعظم نے ما رچ 1946میں وزیراعظم برطانیہ کو ایک خط میں لکھا : ’’ہندوستان کے مسلمان ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کا قیام چاہتے ہیں اور یہی ہندوستان کے مسئلے کا واحد حل ہے‘‘۔

بانی پاکستان،قائد اعظم محمد علی جناح نے حصولِ پاکستان کے لیے ہندوستان کے مسلمانوں کی مرحلہ وار سیاسی تربیت کی۔ اگر ہم آپ کی 1937ء سے1947ء تک کی سیاسی زندگی کو دیکھیں تو آپ کی تقاریر و بیانات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہوئی نظر آئے گی کہ قائد اعظم کے ذہن میں ابتدا ہی سے مسلمانوں کی آخری منزل تھی۔ 1934ء میں آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیمِ نو کی اور مسلمانوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ متحد ہوں جائیں اور کسی حتمی لائحہ عمل کے لیے تیار رہیں۔ فروری 1936ء میں آپ نے لاہور میں ایک تقریر کے دوران مسلمانوں سے کہا: ’’میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ سکون اور امن سے رہیں اور میری کوششوں میں مجھ سے تعاون کریں تا کہ میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ آپ کی خدمت کرسکوں‘‘۔

1937ء میں آپ نے فرمایا:’’اس وقت پورے ہندوستان میں مسلم یکجہتی کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ قومی اصولوں پر یقین رکھتی ہے اس لیے وہ اجتماعی جدوجہد کے ذریعے مسلم حقوق کا تحفظ چاہتی ہے‘‘۔ فروری 1940ء میں آپ نے اینگلو اورینٹل کالج، دہلی میں ایک تقریر کے دوران فرمایا:’’جب میں یہ محسوس کروں گا کہ مسلمان جدوجہد کے لیے آمادہ ہو گئے ہیں تو پھر میں ان کو آگے بڑھنے کا حکم دوں گا‘‘۔ کسی پر بھی انحصار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہم کو اپنی قوت پر انحصار کرنا ہے‘‘۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی مسلسل حوصلہ افزائی اور سیاسی تربیت کے نتیجے میں مسلمانوں نے23مارچ 1940ء کو ایک علیحدہ خود مختار مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا۔ بعد میں یہ مطالبہ’’مطالبہ پاکستان‘‘ کے نام سے معروف ہوا اور اسے منظور کرانے کے لیے مسلمان ایک قوم کی حیثیت سے جدوجہد میں مصروف ہوگئے۔3نومبر 1940ء کو قائد اعظم نے ممبئی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’مجھے امید ہے کہ مسلمان یہ بات ذہن نشین کرلیں گے کہ وہ اقلیت نہیں ہیں، وہ ایک قوم ہیں اور اس لحاظ سے ہمارا ایک علاقہ اور ایک علیحدہ ملک ہونا چاہیے‘‘۔ دسمبر 1940ء میں ممبئی ہی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:’’کسی بھی فرقے یا قوم کی طاقت کا انحصار تین چیزوں پر ہوتا ہے: تعلیم، ترقی یافتہ تجارت اورشجاعت۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان اوصاف سے خود کو لیس کرلیں‘‘۔ 3 جنوری 1941ء کو آپ نے فرمایا:’’میں نے آج تک پاکستان کے خلاف کوئی ٹھوس دلیل نہیں سنی۔ میں کہتا ہوں کہ پاکستان کے قیام سے ہندوستان کی فضا اور صورت حال مزید بہتر ہوجائے گی‘‘۔ مارچ 1941 ء میں کان پور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’پاکستان کا قیام بہت ضروری ہے۔ اس بات پر جس قدر اصرار کیا جائے وہ کم ہے‘‘۔جنوری 1942 ء میں کلکتہ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’گزشتہ دو صدیوں کے دوران مسلمانوں نے بہت کچھ کھویا اور سختیاں برداشت کیں۔ لیکن اب کھوئی ہوئی چیزوں کو واپس لینے کا وقت آگیا ہے۔ وقت ہمارے دعوے کی صداقت کا ثبوت دے گا‘‘۔

تحریکِ پاکستان کی عظیم ترین جدوجہد میں کام یابی کے بعد پاکستان کا حصول جہاں بانیِ پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت اور اعلیٰ سیاسی بصیرت کا نتیجہ تھا وہیں اس بے مثال قومی یکجہتی کا بھی مظہر تھا جس کی تعلیم قائد اعظم اپنی قوم کو مسلسل دیا کرتے تھے۔ آپ نے بار بار مسلمانوں سے فرمایا کہ ہماری نجات ہمارے مکمل اتحاد، باہمی اتفاق اور نظم و ضبط میں ہے، ہم امنِ عالم کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ پاکستان کی خارجہ حکمت عملی تمام اقوام کے لیے بہت دوستانہ ہوگی۔ دنیا کی کوئی طاقت کسی منظّم قوم کے درست فیصلے کی مزاحمت نہیں کرسکتی۔ 30اکتوبر1947ءکوآپ نے یونیورسٹی اسٹیڈیم لاہور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’کوئی قوم ابتلاء اور ایثارکے بغیر آزادی حاصل نہیں کرسکتی۔ ہم شدید دشواریوں اور ناگفتہ بہ مصائب میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہم خوف اور اذیت کے تاریک ایام سے گزرے ہیں، لیکن میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اتحاد، حوصلے، خود اعتمادی اور اللہ کی تائید سے کام یابی ہمارے قدم چومے گی‘‘۔

قائد اعظم محمد علی جناح ہر مشکل مرحلے پر اپنی قوم کا حوصلہ بڑھاتے رہے، اس کے اندر عزم اور یکجہتی کی روح پھونکتے رہے، کیوں کہ آپ کا ایمان تھا کہ ہم جس قدر عظیم قربانیاں دیں گے اُسی قدر بہتر عمل اور کردار کا مظاہرہ کریں گے۔ 24اکتوبر1947ء کو آپ نے اپنے ایک پیغام میں فرمایا:’’آپ سب کے لیے میرا پیغام امید، حوصلے اور اعتماد کا پیغام ہے۔ آئیے، ہم باقاعدہ اور منظّم طریقے سے اپنے تمام وسائل مجتمع کریں اور درپیش سنگین مسائل کا ایسے عزم اور نظم و ضبط سے مقابلہ کریں جو ایک عظیم قوم کا وتیرہ ہوتا ہے‘‘۔

30 اکتوبر1947ء کو ریڈیو پاکستان لاہور سے قائد اعظم نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا:’’ایک متحد قوم کو جس کے پاس ایک عظیم تہذیب اور تاریخ ہے، کسی سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کام، کام اور کام کریں۔ آپ یقیناََ کام یاب ہوں گے۔ اپنا نصب العین یعنی اتحاد، ایمان اور تنظیم کبھی فراموش نہ کیجیے‘‘۔

8 نومبر1947 ء کو قائد اعظم نے ایک بیان میں فرمایا:’’میں چاہتا ہوں کہ باوجود اُن خطرات کے جو ہمیں درپیش ہیں، آپ سب کامل اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ کام کریں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم پاکستان کا وقار پہلے سے زیادہ بلند رکھتے ہوئے اور اسلام کی عظیم روایات اور قومی پرچم کو بلند کیے ہوئے ان خطرات کے درمیان سے کام یابی کے ساتھ گزر جائیں گے‘‘۔

بانیِ پاکستان،قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی جدوجہد، آپ کا عزمِ صمیم، آپ کی دردمندی اور آپ کے تدبر و حکمت کے پیش نظر اکثر سیاسی رہنماؤں اور دانش وروں نے یہ بات کہی ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح بیسویں صدی کی ملتِ اسلامیہ اور خصوصاََ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک انعام تھے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جب کسی قوم کی تقدیر بدلنا ہو اوراسے دیگر اقوام کے مقابلے میں سربلندی و سرفرازی کے مقام پر پہنچانا ہو تو وہ اُس قوم میں ایسے باکمال اور بلند مرتبت انسان پیدا کرتا ہے جو اپنی جرات و ہمت، تدبر و خلوص اور اصابتِ رائے سے اُس کی تقدیر بدل دیتے ہیں اور وہ قوم زندہ اقوام میں ایسا مقام حاصل کرلیتی ہے جس پر دنیا رشک کرتی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح بھی ایک ایسے ہی خاندان سے تھے جنہوں نے مایوسی اور ناامیدی کی فضا میں عزم و حوصلے کا چراغ جلایا اور اپنی لیاقت و ہمت، معاملہ فہمی، استقامت اور استقلال سے ایک ایسی مملکت وجود میں لانے کا عظیم کام انجام دیا جو آج بھی بین الاقوامی امور میں اہم وجود رکھتی ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کے نزدیک پاکستان کا قیام ملتِ اسلامیہ کی نشاۃ الثانیہ کی سمت میں اوّلین قدم تھا۔ وہ قیامِ پاکستان کے بعد پورے عالم اسلام کو متحدو منظّم کر کے اس کی عظمتِ رفتہ بحال کرنا چاہتے تھے جیسا کہ قائد اعظم کی تقاریر، بیانات اور مختلف تحریروں سے ثابت ہے۔ آپ نے پاکستان کی پہلی سال گرہ کے موقعےپر 14 اگست 1948ء کو قوم کے نام اپنے پیغام میں فرمایا :’’یاد رکھیے کہ قیام پاکستان ایسی حقیقت ہے جس کی تاریخِ عالم میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ تاریخِ عالم کی عظیم ترین مسلم مملکتوں میں اس کا شمار ہے اور وقت کے ساتھ اسے اپنا شان دار کردار ادا کرنا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم دیانت داری، خلوص اوربے غرضی سے پاکستان کی خدمت کرتے رہیں۔ مجھے اپنی قوم پر اعتماد ہے کہ وہ ہر موقعے پر خود کو اسلامی تاریخ، عظمت اور روایات کا امین ثابت کرے گی‘‘۔

آج قیام پاکستان کو ستّر برس سے زاید کا عرصہ گزر چکا ہے،اس دوران ہم نے قائد اعظم کی ہدایت اور خواہش کے مطابق قومی اور بین الاقوامی امور میں کیا وہی کردار ادا کیا ہے جس کی قائد اعظم ہم سے توقع رکھتے تھے؟ اس سوال پر ہمیں بہ حیثیت قوم ضرور غور کرنا چاہیے۔

قائداعظم اورسماجی انصاف

سماجی انصاف کے ضمن میں قائداعظم کے خیالات میں اشکال کی ذرا سی بھی گنجایش موجود نہیں ہے۔

تحریکِ پاکستان کی مختلف تعبیرات میں سے ایک تعبیر یہ بھی ہے کہ اس کی پشت پر مسلمان سرمایہ دار یا مسلم بورژوا طبقے کے مفادات کارفرما تھے۔ Hanna Papanek نے ایک تحقیقی مقالے میں بمبئی، گجرات اور کلکتہ کے مسلم بورژوا طبقے کے حقیقی عزائم پر سے پردہ اٹھایا ہے جس کا خیال تھا کہ قیامِ پاکستان کے بعد وہ ہندوستان میں اپنے تجارتی و صنعتی مراکز بہ د ستور قائم رکھے گا، جب کہ پاکستان تو تمام تر اس کے لیے فرشِ راہ ہوگا۔

قائداعظم مسلم سرمایہ داروں کو ساتھ لے کر چلنے پر مجبور تھے کہ مسلم لیگ کو فنڈز کی ضرورت تھی، مگر وہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی ہوسِ زر سے ناواقف نہیں تھے۔ چناں چہ 1943 ہی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ دہلی میں انہوں نے تنبیہ کردی تھی :

’’پاکستان میں عوامی حکومت ہوگی اور یہاں میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کردوں جو ایک ظالمانہ اور قبیح نظام کے وسیلے سے پھل پھول رہے ہیں اور اس بات نے انہیں اتنا خود غرض بنا دیا ہے کہ ان کے ساتھ عقل کی کوئی بات کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ عوام کی لوٹ کھسوٹ ان کے خون میں شامل ہوگئی ہے۔ انہوں نے اسلام کے سبق بھلا دیے ہیں۔ حرص اور خودغرضی نے ان لوگوں کو اس بات پر قائل کر رکھا ہے کہ دوسروں کے مفادات کو اپنے مفادات کے تابع بنا کر موٹے ہوتے جائیں۔ میں گائوں میں گیا ہوں‘ وہاں لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ہمارے عوام ہیں جنہیں دن میں ایک وقت کی روٹی نصیب نہیں۔ کیا یہی تہذیب ہے؟ کیا یہی پاکستان کا مقصود ہے؟ … اگر پاکستان کا یہی تصور ہے تو میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔۔۔‘‘

عدل عمرانی اور ایک عام مسلمان کی اقتصادی بہبود کے بارے میں قائداعظم کے یہ خیالات اپنی تشریح آپ ہیں۔ آج بھی یہ اتنے ہی برمحل ہیں جتنے اب سے نصف صدی قبل تھے۔

مسلمانوں کے سیاسی و جمہوری حقوق کی پاس داری

قائداعظم کی زندگی کے مشن میں جو دوسرا اہم ترین مقصد کارفرما تھا وہ برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی و جمہوری حقوق کی پاس داری تھی۔ ایک وسیع حلقے کے نزدیک قائداعظم کی جمہوریت پسندی ہی محلِ نظر ہے۔ مثلاً کانگریسی مصنّفین کی یہ عمومی رائے ہے کہ جناح جمہوریت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ نہیں کرسکے اور جب ہندوستان کی آزادی کا مرحلہ آیا تو انہوں نے اس خیال کے پیشِ نظر کہ اب ہندو اکثریت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اقتدار میں آجائے گی، مسلمانوں کے لیے علیحدہ مملکت کا مطالبہ کردیا۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ1940اور1947کے درمیان بہ ظاہر خود قائداعظم نے غیر منقسم ہندوستان کے پس منظر میں جمہوریت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ قائداعظم کے اس دور کے موقف کی تشریح اور ان کے جمہوریت کے بارے میں مکمل طرزِ فکر کا جائزہ لینے سے پہلے ایک مرتبہ پھر اس بات کو دہرانے کی ضرورت ہے کہ ایک خاص وقت میں دیے گئے قائد اعظم کے دلائل کو ان کا آخری مدعا تصور کرنا ایک زبردست خلط مبحث کو جنم دے سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم اول تا آخر جمہوریت کے قائل تھے۔ ان کی تعلیم برطانیہ میں ہوئی تھی جہاں انھوں نے گلیڈ اسٹون (Gladstone) اور جان مارلے (John Morley) جیسے لبرل راہ نمائوں کے خیالات سے غیرمعمولی اثرات قبول کیے تھے۔ قائداعظم اپنی سیاسی زندگی میں تقریباً 35 سال تک ہندوستان کی امپیریل لیجسلیٹیو کونسل کے رکن رہے۔ اس دوران انہوں نے بارہا شہری آزادیوں اور قانون کی بالادستی کے لیے آواز اٹھائی۔انہوں نے پریس سے متعلق اس مسودۂ قانون (Press Bill) کی سخت مذمت کی جس کے ذریعے حکومت نے آزادیٔ اظہار پر پابندی لگانے کے اختیارات حاصل کرلیے تھے۔1919میں رولٹ ایکٹ کی آمد پر انہوں نے امپیریل لیجسلیٹو اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ ایسا کرتے وقت انہوں نے جمہوریت سے نہیں بلکہ برطانوی حکومت سے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ سِول لبرٹیز پر ان کے ایمان کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ غدر پارٹی کے انقلابی، بھگت سنگھ کے لیے بھی ان ہی حقوق کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں جو انگریزوں کو حاصل تھے۔

ہم پُرامن رہنا چاہتے ہیں

17 اگست 1947کو قائدنے پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کی افتتاحی تقریب کے موقعے پر قوم کے نام اپنے ایک پیغام میں فرمایا ’’ ہم پُر امن رہناچاہتے ہیں اور اپنے قریبی ہم سایوں اور ساری دنیا سے مخلصانہ اور دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے ۔ ہم اقوام متحدہ کے منشور کے حامی ہیں اور امنِ عالم اورعالمی خوش حالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے ۔‘‘

پاکستان کا مقدمہ اور بیرسٹر محمد علی جناح

آزادی انسان کا بنیادی حق بھی ہے اور فطری ضرورت بھی۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ہر انسان آزاد پیدا ہوتا ہے۔ ہمارے عظیم قائد کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف ایک غلام قوم کو غاصب انگریزوں سے آزادی دِلائی بلکہ ان کے لیے ایک آزاد اور خود مختار ملک بھی قائم کرکے دِکھایا ۔لیکن اس کٹھن اور مشکل کام کے لیے انہیں کتنی محنت اور کوشش کرنی پڑی، یہ ایک طویل داستان ہے۔قائد اعظمؒ ایک بااصول انسان اور سچے، کھرے، مخلص اور بے باک سیاست دان تھے۔ انہیں اپنے دین سے عقیدت، تاریخ سے واقفیت اور قوم سے محبت تھی۔ وہ ہرقسم کی حرص و ہوس اور ذاتی غرض اور مفاد سے پاک تھے۔ وہ ہر بات کہنے سے پہلے اس پر خوب اچھی طرح غور و فکر کرتے ،پھر کہیں بولتے اور جو بات کہتے پھر اس پر اٹل رہتے۔ پاکستان کے مخالفوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، ہزار مشکلات اور رُکاوٹیں پیدا کیں لیکن قائدِ اعظمؒ کی بلند ہمت اور عظیم شخصیت کے آگے ان کی ایک نہ چل سکی اور آخرکار پاکستان بن کر رہا۔

ہم ایک قوم ہیں

محمد علی جناح نے1941سے 1947تک ابو الکلام آزاد، گاندھی جی، جواہرلال نہرو، سرتیج بہادر سپرو، راجندر پرشاد، راج گوپال اچاریہ، خضرحیات وغیرہ سے خط و کتابت اور مذاکرات کیے ۔لیکن ہندو مسلم مسئلہ اپنی جگہ برقرار رہا۔ راج گوپال اچاریہ نے 1944میں مسلم لیگ اور کانگریس کی مفاہمت کے لیے ایک فارمولا مرتب کیا۔ اگرچہ اس فارمولے کی شرائط مطالبۂ پاکستان کی روح کے منافی تھیں، لیکن جناح نے ان شرائط پر ستمبر 1944 میں گاندھی سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی۔ مذاکرات کے دوران گاندھی نے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ جناح سے کانگریس کی جانب سے نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں ملاقات کررہے ہیں۔ گاندھی نے یہ بھی کہا کہ وہ جناح کا یہ خیال تسلیم کرنے کوتیار نہیں ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان اپنی ذاتی حیثیت میں ایک علیٰحدہ قوم ہونے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ دونوں صورتیں قائداعظم محمد علی جناح کے لیے قابل قبول نہیں تھیں۔

اگرچہ قائداعظم آل انڈیا مسلم لیگ کے ستائیسویں سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور، 1940 میں دو قومی نظریے کی وضاحت کرچکے تھے، لیکن انہوں نے اس مرحلے پر گاندھی کو 17ستمبر 1944کو ایک خط میں واضح طور پر لکھا: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ قومیت کی ہر تعریف اور معیار کی روسے ہندوستان میں مسلمان اور ہندو دو بڑی قومیں ہیں ۔ہماری قوم دس کروڑ مسلمانوں پر مشتمل ہے اور یہ کہ ہم ایسی قوم ہیں جو اپنے خاص تہذیب و تمدن، زبان و اَدب، فنون و تعمیرات، اسم و اصطلاحات، معیارِ قدر و تناسب، تشریعی قوانین، ضوابطِ اخلاق، رسم و رواج، نظامِ تقویم، تاریخ و روایات اور رجحانات و عزائم رکھتی ہے۔ غرض یہ کہ ہمارا ایک خاص نظریۂ حیات ہے اور زندگی کے متعلق ہم ایک ممتاز تصوّر رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے تمام اُصولوں کے مطابق ہم ایک قوم ہیں۔‘‘


مکمل خبر پڑھیں