Advertisement

گُڈ گورننس کیلئے وزیراعلیٰ بزدار کو انتظامہ پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہوگی

October 03, 2019
 

وزیراعظم عمران خاں امریکہ کا کامیاب دورہ مکمل کرنے کے بعد فاتحانہ انداز میں وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کے اجلاس میں جس دلیرانہ انداز میں ’’اسلام‘‘ اور مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ لڑا وہ اپنی مثال آپ ہے ۔

عمران خان نے اپنی تقریر میں نہ صرف بڑی طاقتوں کے اسلام کے بارے دوہرے معیار کو اجاگر کرکے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا ہے بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی سرکارکے فاشسٹ چہرے سے پردہ اٹھا کر اقوام عالم کی آنکھیں کھول دی ہیں اس سے انہیں ملک کے اندر اور عالمی سطح پر بڑی پذیرائی ملی ہے جیسے وہ امت مسلمہ کے نئے لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں ۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک سال سے زائد کے دور اقتدار میں بیرونی محاذ پر بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ان کی بین الاقوامی معاملات پر توجہ کے باعث اندرونی چیلنجز نظرانداز ہونے سے عوامی مسائل میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ معاشی بدحالی ، مہنگائی ، بیروزگاری اور کاروبار ٹھپ ہونے سے عوام کی زندگی تنگ ہوگئی ہے۔

جو عوامی منڈیٹ کی نفی ہے سیاست اور جمہوریت میں عوام کو ریلیف دینا اور انتخابی وعدوں کو پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے حکومت عوام کے اعتماد پر پورا نہیں اتر سکی یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے قیام کے ایک سال بعد ہی بڑی بڑی اپوزیشن جماعتیں حکومت کو گرانے کے لئے صف آرا ہو رہی ہیں وہ کشمیر اور ناموس رسالت ؐکو جواز بنا کر ’’آزادی مارچ‘‘ کے نام پر اسلام آباد کو لاک ڈائون کرنا چاہتی ہے۔

قومی کشمیر کمیٹی کے سابق چیئرمین اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے فیصلہ کن رائونڈ کی تیاری مکمل کر لی ہیں انہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کی درپردہ اور اعلانیہ حمایت بھی حاصل ہے اب وزیر اعظم عمران خان کے کامیاب دورہ امریکہ اور اقوام متحدہ میں تقریر نے اپوزیشن جماعتوں کو موجودہ حالات میں حکومت گرانے کی تحریک چلانے کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے اور جے یو آئی سے مسلم لیگ (ن) مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں آزادی مارچ کے دھرنے کے فیصلے اور تاریخ کے تعین کے لئےمسلم لیگ (ن)پر دوسری ہم خیال جماعتوں سے مشاورت کے لئے وقت مانگ رہی ہے ۔مسلم لیگ (ن) کے سربراہ سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کا کشمیر کے حوالے سے بیان مسلم لیگ (ن) کو جے یو آئی کے ساتھ لاک ڈاؤن کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار ہے ۔

وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے قبل جے یو آئی کے دھرنے کو کسی خفیہ قوت کی تھپکی سے تعبیر کرکے ملک میں تبدیلی کی جو آوازیں سنی جا رہی تھیں ان کو بریک لگ گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ کی حمایت کرنے والی بعض اپوزیشن جماعتوں نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

اس کے باوجودجے یو آئی کے امیر اپوزیشن کے ایجنڈے کو آگے لے کر چلنے پر تلے ہوئے مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ ،دھرنا، لاک ڈائون تحفظ ناموس رسالت کے نام پر کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں تحفظ ناموس رسالت کا وکیل بن کر ان کے آزادی مارچ کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے اب سوچنے کی بات ہے کہ وزیراعظم عمران خاں کے اقوام متحدہ کے اجلاس میں لگائے گئے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جو اپنے زخم چاٹ رہا ہے اب مقبوضہ کشمیر سے عالمی توجہ ہٹانے کے لئے بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردی کو بڑھائے گا اورپاکستان کے اندر عدم استحکام پیدا کرکے اپنے مدموک مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔لگتا ہے جے یو آئی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کو چمن میں بم دھماکے میں نشانہ بنانا ملک میں افراتفری پھیلانے کی اس سازش کی ایک کڑی ہے ۔ بھارت ہمارے ملک کے اندر دینی قوتوں کو بھڑکانے کےلئے ایسی مزید کارروائیوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ ملک میں سیاسی عدم استحکام روکنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں سے اچھے روابط قائم کرنے کے ساتھ گڈ گورنس اور عوامی مسائل پر بھی اپنی بھرپور توجہ دیں۔ مہنگائی، بیروزگاری کے خاتمے شہریوں کی بنیادی سہولتوں اور انصاف کی فراہمی کے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے آج وزیراعظم کی تقاریر پر تالیاں بچانے اور نعرے بازی کرنے والے عوام بجلی اور گیس کے بل ادا نہ کر پائے۔ تو پھر وہ سڑکوں پر آگئے تو آپ کی حکومت ان کا کیا ہو گا آپ کی تقریروں سے ان کا پیٹ نہیں بھرے گا اس پر فوری توجہ دیں عوام کی نظریں آپ پر ہیں وہ آپ کو نڈر، بے باک، ایماندار اور دلیر لیڈر مانتے ہیں یہی وجہ ہے کہ عوام اب تک آپ پر اعتماد کر رہے ہیں۔

لیکن وفاق اور صوبوں میں گڈ گورنس نہ ہونے سے عوامی مسائل دن بدن بڑھ رہے ہیں پنجاب میں گڈ گورنس نام کا یہ حال ہے کہ لاہور جیسا خوبصورت شہر بے پناہ مسائل کا شکار ہے پنجاب کے عوام جب آپ کے ’’وسیم اکرم پلس‘‘ وزیراعلیٰ کی کارکردگی کا مسلم لیگ (ن) اور ق لیگ کے وزراء اعلیٰ میاں شہباز شریف اور چوہدری پرویز الٰہی سے موزانہ کرتے ہیں تو سر پیٹ کر بیٹھ جاتے ہیں پنجاب کا ہر وزیر، ہر رکن اسمبلی اور ہر افسر بااختیار ہے۔

مگر وزیر اعلیٰ کی گرفت کہیں نظر نہیں آ رہی وہ دن رات پنجاب کے عوام کی بہتری کے لئے فکر مند رہتے ہیں مگر کوئی اقدام نہیں جس کی مثال دی جا سکے اس لئے پنجاب گڈ گورنس ہوتی تو پی ٹی آئی کی گاڑی منزل پر پہنچے گی پنجاب میں پی ٹی آئی کو گورنر چودھری سرور جیسے تجربہ کار ذہین اور منجھے ہوئے خدمت جذبے سے سرشار پارلیمینٹرین کی ضرورت ہے۔

جس کے گورنر ہائوس کی طرح وزراء اراکین اسمبلی اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لئے دروازے کھلے رکھیں۔ آپ کے ویژن کے مطابق عوام کو پینے کے صاف پانی اور انصاف کی فراہمی سمیت بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں آپ کا ہاتھ بٹا سکیں ورنہ پنجاب میں ناقص کارکردگی کا سارا بوجھ وزیراعظم صاحب آپ کے کاندھوں پر آئے گا اور سول بالادستی قائم کرنے کے لئے سول حکومت کو ملک اور عوام کے لئے عملی طور پر کچھ کر کے دکھانا پڑے گا اس کے لئے آپ کو پنجاب میں اپنی ٹیم میں بڑی تبدیلیاں کرنا ہوں گی ورنہ پھر نہ کہنا مجھے کیوں نکالا۔


مکمل خبر پڑھیں