گھر کے باغیچے کی لینڈ اسکیپنگ کیسے کی جائے؟

October 13, 2019
 

باغبانی کا شوق آپ کے گھر کو خوبصورت بنانے کے علاوہ بھی کئی لحاظ سے فائدہ مند ہے۔ یہ ایک بہت اچھی ورزش ہے اور تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ باغبانی کا مشغلہ ذہنی تناؤ، فشارِ خون(بلڈ پریشر) ، کولیسٹرول اور ڈپریشن کو کم کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔ مختلف طرح کے رنگا رنگ پھولوں اورپودوں کو دیکھنے سے خوشی، اطمینان اورراحت کا احساس ہوتا ہے۔

آپ کو گھر بیٹھے بٹھائے تازہ پھل اور سبزیاں مِل سکتی ہیں۔ ایک اور فائدہ جس کی طرف کم لوگوں کا دھیان جاتا ہے ،وہ یہ کہ لینڈ اسکیپنگ یا گھر میں باغ بنانا ایک طویل عرصے کی سرمایہ کاری ثابت ہوسکتی ہے۔ ذوق اور سلیقے سے سجا سنورا باغیچہ آپ کے گھر کی مجموعی خوبصورتی کو بڑھاتا ہے، نتیجتاً اسے بیچنے کی صورت میں آپ کو اپنے گھر کی نسبتاً بہتر قیمت وصول ہونے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

باغبانی کا ایک اور مثبت نتیجہ یہ بھی ہے کہ اِس سے آس پاس کی فضا اور ماحول کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ باغبانی کسی آرٹ سے کم نہیں۔ باغ کی منصوبہ بندی کرنے ، پودے لگانے، ان کی تراش خراش اور دیکھ بھال کے بعد اپنی محنت کا صلہ ملتے ہوئے دیکھ کرجو اطمینان اور خوشی محسوس ہوتی ہے، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم کیسے گھر کے بیرونی حصوں میں باغیچے کی لینڈاسکیپنگ کرکے اپنے گھر کی خوبصورتی اور کشش کو چار چاند لگا سکتے ہیں۔

ذہن میں خاکہ بنائیں

باغبانی کے لیے گھر کے بیرونی حصے میں لینڈ اسکیپنگ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ آپ اس کے لیے ایک واضح خاکہ متعین کریں۔ خاکے سے مراد یہ ہے کہ آپ کس طرح کی لینڈ اسکیپنگ چاہتے ہیں۔ مثلاً، اگر آپ نے گھر کے بیرونی حصے میں پہلے سے گھاس اُگائی ہوئی ہے اور اب آپ اسے لینڈ اسکیپنگ کے اصولوں کے مطابق کوئی شکل دینا چاہتے ہیں، جیسے گول، چوکور، بیضوی یا پھر لمبوتری، تو اس کے لیے کسی دھاگے یا تار کی مدد سے جگہ کا تعین کریں اور فالتو گھاس کاٹ دیں۔

درختوں کی اہمیت

اگر کسی درخت کو اس کے استعمال اور طوالت کے حساب سے دیکھا جائے تو درخت لگانا بہت سود مند ثابت ہوتا ہے۔ اگر آپ 500گز کے مکان میں رہتے ہیں تو صحن میں چند درخت لگانا ہی کافی ہوںگے۔ ماحولیاتی تبدیلیوںکے پیشِ نظر آپ کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ایسے درختوں کا انتخاب کریں جو مقامی موسم سے موافقت رکھتے ہوں، جو گرمیوں کے موسم میں ٹھنڈک کا احساس دِلانے کے علاوہ سایہ دار بھی ہوں۔ ایک اوسط سائز کے باغ میں تین سے چار درخت کافی ہوں گے۔

پودوں کا انتخاب

آپ نے دیکھا ہوگا کہ کئی خوبصورت نظر آنے والے پودے موسم بدلنے پر جھڑ جاتے ہیں یا ان کی مدت ہی ایک موسم جتنی ہوتی ہے۔ ایسے میں کیاریوں کو شاندار لگنے والے پودوں سے بھرنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ آپ ایسے سدا بہار پودوں کا انتخاب کریں، جنھیں آپ تقسیم کرسکیں۔ اس بات سے شاید ایسا لگے کہ ہم باغبانی کے اگلے درجے کی بات کررہے ہیں، مگر ایسا نہیں ہے۔ جھنڈ بنالینے والے پودے اس مقصد کے لئے بہت مناسب رہتے ہیں۔

پودوں کو گملوں سے نکالیں اور ان کو تین چار حصوں میں تقسیم کرلیں، ہر حصے میں تنے اور جڑیں شامل ہونی چاہئیں۔ اس کے بعد گڑھے کھودیں اور ہر حصے کو تیار شدہ کیاریوں میں لگادیں۔ اگلے سال جب وہ بڑھ جائیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہوجائے تو آپ دوبارہ سے ان کو تقسیم کرسکتے ہیں اور نئی کیاریوں میں لگا سکتے ہیں۔ دو سال میں آپ کا باغ پودوں سے بھر جائے گا اور وہ بھی انتہائی کم قیمت میں۔

پتھرکا استعمال

جب بات راہداریوں اور برآمدوں میں بنے باغیچوں کی ہو تو کنکریٹ کے فرش کی بجائے قدرتی پتھرنسبتاً کم قیمت میں پڑتے ہیں۔ سب سے پہلے جگہ متعین کریں اور فالتو گھاس پھوس ہٹادیں۔ اس کے بعد ایک حفاظتی تہہ بچھائیں تاکہ غیر ضروری جڑی بوٹیوں کی نشوونما کو روکا جاسکے، اس کے بعد پتھر بچھادیں۔ کوشش کریں کہ گہرائی ڈھائی سینٹی میٹر تک ہو۔ پتھروں کے لیے ہلکے رنگ کا انتخاب کریں تاکہ گھاس اور پودوں کے رنگوں کے ساتھ ایک دلچسپ کنٹراسٹ قائم ہوسکے۔

روشنیوں کا انتظام کریں

خصوصی طور پر گھر کے باہر لگانے والی روشنیوں کی بہت سی اقسام بآسانی بازار میں دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ آپ کے باغیچے میں فوری اور بجٹ کے اندر رہتے ہوئے ایک نئی زندگی لانے کا آسان طریقہ ہے۔ ان کو کسی جھاڑی یا درخت کی شاخ سے لٹکادیں یا جنگلے وغیرہ کے ساتھ باندھ دیں۔

اور کچھ نہیں تو ایک ڈنڈا گاڑ کر یہ روشنیاں اس پر لگائی جاسکتی ہیں۔ انھیںگھر میں پہلے سے موجود کسی بھی سوئچ میں لگایا جاسکتا ہے، ان کے لیے خصوصی طور پر الیکٹریشن کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔