’’عبداللہ III‘‘ (سولہویں قسط)

October 27, 2019
 


مَیں نے گھبرا کر پولیس والوں کی طرف دیکھا کہ شاید اُن میں سے کوئی ہو، مگر وہ سارے وہیں کھڑے خوش گپّیوں میں مصروف تھے۔ مَیں نے پیچھے مُڑکر دیکھا۔ وہ کوئی ٹیکسی والا تھا۔ ’’تم کو خان صاحب ٹیکسی میں بلارہے ہیں اُدھر.....‘‘ میری نگاہ دُور کھڑی ٹیکسی کی طرف گئی، جو نسبتاً نیم تاریک حصّے میں اسٹیشن کے باہر کھڑی تھی۔وہ بخت خان ہی تھا۔ دُورٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر خود کو چادر میں لپیٹے، اُس نے ایک لمحے کو اپنا پورا چہرہ واضح کیا۔ ہاں… وہی تھا۔ مَیں تیزی سے ٹیکسی کی طرف یوں لپکا، جیسے کوئی بِچھڑا کسی اپنے کےاچانک ملنے پر لپکتا ہے۔ ٹیکسی چل پڑی۔ بخت خان نےمجھے گول مول لفظوں میں بتایا کہ وہ سرِشام ہی شہر پہنچ گیا تھا اور اس نے بس اڈے سے ٹیکسی لےکر سیدھے اُسے اسٹیشن چلنے کا کہا، مگر ٹرین پلیٹ فارم پر لگنے کے بعد بھی جب مُیں بہت دیر تک باہر نہیں نکلا، تو اُسے پریشانی ہونے لگی تھی اور اگر میں مزید کچھ دیر باہر نہ نکلتا، تو وہ میری تلاش میں پلیٹ فارم پر کھڑی گاڑی کا ہر ڈبّا کھنگالنے نکل جاتا۔ مجھے نڈھال دیکھ کر بخت خان نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور گھبرا کر بولا ’’تم کو تو بخار ہے؟‘‘ ’’نہیں بس، سفر کی تھکن ہے، تم وقت ضایع مت کرو۔ ہمیں یہاں سے سیدھے چندا کے ٹھکانے کی طرف چلنا چاہیے۔‘‘ بخت نے بادل نخواستہ ٹیکسی والے سے کچھ کہا۔ اس نے مُسکرا کر سرہلایا اور گاڑی کی رفتار بڑھادی۔ تقریباً گھنٹہ بھر شہر کی پُرپیچ سڑکوں، گلیوں سے ہوتے ہوئے وہ ہمیں ایک پُرہجوم بازار میں لے آیا۔ موتیا گلاب، گجرے کی دکانیں، چمکتے دروبام، روشن بالکونیاں، سستے اور منہگے عطر کی گُھلی ملی خوشبوئیں، کتھا چونا لگاتے، فضامیں لالی اُڑاتےپنواڑی، گھنگھروں کی جھنکار، لے، تان، طبلے کی تھاپ، تنگ گلیاں، راستہ روکتے مرد، جھروکوں سے جھانکتی بے باک عورتیں، وہ بازار اپنی کہانی خودسُنا رہاتھا اور آگے بڑھتے بخت خان کی زبان سے بے اختیاربار بار نکلتا ’’لاحول ولا قوۃ…‘‘ چندا کا ٹھکانہ ڈھونڈنے میں ہمیں زیادہ مشکل نہیں ہوئی۔ مرکزی سڑک سے پَرے ایک بڑی سی گلی میں نکّڑ پر اس کا حویلی نما کشادہ مکان تھا۔ مرکزی دروازے پردو گارڈز بڑے اور جدید ہتھیار لیے چوکنّے کھڑے تھے۔ اندر صحن اور اوپر کی بالکونیوں میں خُوب چہل پہل اور ہنگامہ دکھائی دے رہا تھا۔ گانا سننے کے لیے آنے والے تماش بین آجارہے تھے۔ ہمیں دروازے پر کھڑے محافظوں نے روک لیا ’’کِدھر جارہی ہیں سواریاں… پہلی بار فقیروں کو اِن کوٹھوں پر دیکھا ہے…‘‘ وہ دونوں ہمارے حُلیے دیکھ کر ہنس پڑے اور ایک دوسرے کو کہنی مار کر متوجّہ کیا۔ مَیں نے تحمّل سے گارڈ کی طرف دیکھا، ’’ہمیں چندا جی سے ملنا ہے…‘‘ وہ دونوں مجھ فقیر کی زبان سے چندا کا نام سُن کر زور سے ہنسے۔ ’’دیکھ لے ظفری۔ اب یہ وقت آگیا ہے کہ بِھک منگے بھی یہاں گانا سننے آنے لگے ہیں۔ جائو بابا۔ معاف کرو… دھندے کا ٹائم ہے،خیرات چاہیے، تو صبح کے وقت آنا، باقی بھکاریوں کے ساتھ۔‘‘ بخت خان کا چہرہ غصّے سے سُرخ ہوگیا، اوراس کاہاتھ نیفے کی طرف بڑھا ’’او خانہ خراب تم کو ہم…‘‘ مَیں نے جلدی سے بخت کا ہاتھ پکڑ کر دبایا۔ اندر بھی بہت سے مسلّح محافظ صحن اور برآمدے میں ٹہل رہے تھے، اِس وقت جوش کی نہیں، ہوش کی ضرورت تھی۔ ٹھیک اُسی وقت ایک نئے ماڈل کی بڑی کروزنگ ٹائپ گاڑی حویلی کےگیٹ کےقریب آکر رُکی اور اس میں سے چنداونچے طبقے کے ادھیڑ عُمر افراد نیچے اُترے۔ گارڈز نے ان تینوں کو دیکھتے ہی ہمیں دھکا دےکر ایک طرف کیا اور آنے والوں کے استقبال میں بچھ بچھ گئے، ’’ارے سیٹھ جمیل آئے ہیں۔ آئیں جناب، آئیں… چندا آپا آپ ہی کا انتظار کررہی ہیں۔‘‘ بخت خان نے میری طرف دیکھا، مَیں نے اسے وہاں سے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔

سامنے نکّڑ پر اپنے کیبن میں بیٹھا پنواڑی شاید بہت دیر سے یہ ماجرا دیکھ رہا تھا۔ اُس نے ہمیں جاتے دیکھ کر آواز لگائی ’’فقیروں کو پان پیش کرسکتا ہوں، گر قبول ہو۔‘‘ پان والے کے کھوکھے کے بورڈ پر’’دلبر پان والا‘‘ لکھا تھا اور دکان کے اِسی بورڈ پرنام کے آگے سُرخ رنگ کا ایک دل بنا ہوا تھا، جس میں ایک سیاہ تیر پیوست تھا اورنیچےخون کے کچھ قطرے دل سے ٹپکتے دکھائی دے رہے تھے۔ ہم کیبن کے پاس رُک گئے۔ مقصد پان کھانا نہیں تھا۔ مَیں اس باتونی پان والے سے کچھ سُن گن لینا چاہتا تھا۔ دلبر نے جلدی سے دوپان بنائے۔ ’’اس علاقے میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تم لوگوں کو، کیا نئے آئے ہو؟‘‘ مَیں نے بخت خان کی طرف دیکھا، جو پان کھانے کی مشکل میں مبتلا تھا۔ ضرور اس کے لیے یہ ایک نیاتجربہ تھا۔ ’’ہاں… ہمیں کسی کی تلاش ہے، اِسی وجہ سے چندا سے ملنا چاہتے تھے۔‘‘ دلبر نے لمبی آہ بھری ’’جناب، یہ چندا پہلے زیب النساء تھی۔ اب اس سے ملنا اتنا آسان کہاں۔ بڑے ٹھسّے والی عورت ہے۔ ایروں غیروں کو تو گھاس بھی نہیں ڈالتی۔ مَیں نے تو بڑے بڑے عاشق اس کے دَرپر پڑے دیکھے ہیں۔ وہ تم لوگوں سے بھلا کیوں ملے گی، یہاں تو ہر وقت مال دار سیٹھ اور حکومت کے وزیر پھیرے ڈالتے رہتے ہیں۔ چندا کے پاس تو ان سے ملنے کا وقت نہیں ہوتا۔‘‘ دلبر ٹھیک کہہ رہا تھا۔ ہمارا یوں براہِ راست ملنا ناممکن تھا۔ اور اس کے اِردگرد اتنے پہرے تھے کہ ہم زبردستی اندر گھس بھی جاتے تو تھوڑی دیر میں علاقے کی پولیس وہاں پہنچ چُکی ہوتی، جو ہمارے حق میں بہت بُرا ثابت ہوتا۔ دلبر نےمشکوک لہجےمیں دھیرےسے مجھ سے پوچھا۔ ’’ویسے تمہیں تلاش کس کی ہے؟ یہاں بھلاتم جیسوں کاکیاکام…؟‘‘ مَیں نے گہری سانس لی۔ ’’بس یوں سمجھو کہ کوئی اپنا کھو گیا ہے۔ اور اُس کا آخری سِرا اس بدنام گلی سے ملتا ہے۔ اُسی کو ڈھونڈ رہے ہیں۔‘‘ دلبر نے یوں سرہلایا، جیسے نہ سمجھتے ہوئے بھی سب سمجھ گیا ہو۔ مَیں نے جیب سےکچھ رقم نکالی اور دلبر کے ہاتھ پر رکھ دی ’’کیا تم اس سلسلے میں کچھ مدد کرسکتے ہو۔ کام نیکی کا ہے، اور ہماری نیّت صاف ہے۔‘‘ دلبر نوٹ دیکھ کر بُری طرح چونکا۔ تیزی سے نفی میں سر ہلایا اوررقم لوٹانے کی کوشش کی۔ ’’ارے ارے نہیں نہیں…مَیں تم سے پیسے بھلا کیسے لے سکتا ہوں۔ مانا کہ پان بیچتا ہوں، مگر دل اس چھوٹی دکان سے بہت بڑا ہے میرا۔ کبھی مَیں بھی تمہاری طرح دل کا بادشاہ ہو اکرتا تھا۔ بہت روپیا پیسا کمایا، مگر پھر ایک عشق میں سب برباد کردیا۔ اِن ہی گلیوں میں اُس کےپیچھے سب لُٹا دیا اور اُسے ایک امیر زادہ لے اُڑا۔ مَیں یہیں پان بیچنے پر مجبور ہوگیا۔ اِن گلیوں میں صرف ایک سکّہ چلتا ہے سرکار، سونے کا سکّہ۔ ہیرے جواہرات ہیں جیب میں تو ہر دروازہ کُھلا ملےگا، ورنہ ہردَرسےدھتکارے جائوگے۔‘‘ دلبر بولتے بولتے جذباتی ہوگیا۔ جانے کتناغبار اُس کے اندر بھرا تھا، جو آج ہمیں یوں چندا کےدروازے پر بے عزت ہوتے دیکھ کر بہہ نکلا۔ مَیں نے روپے اُس کی جیب میں زبردستی ڈال دیئے اور ہم آگے بڑھ آئے۔

گلی سے نکلنے سے پہلے ہی دلبر دوڑتا ہوا ہمارے پیچھے آگیا۔ ’’چندا کی ایک رقاصہ شاگرد ہے، اندر حویلی میںرہتی ہے، خدمت گار ہےچندا کی۔ کبھی کبھار محفلوں کے لیے پان بنوانے آتی ہے میری دکان پر، نوکروں کے ساتھ۔ فیروزہ نام ہے اُس کا۔ تم کہو تومَیں اُس سےبات کرسکتا ہوں۔ اچھےدل کی لڑکی ہے، مگر شاید کسی مجبوری سے اس بازار میں آبیٹھی ہے۔‘‘مجھےاُمید کی ایک کرن اچانک دکھائی دی۔ دلبر نے مجھ سے پوچھا ’’مگر تم لوگوں کو میں ڈھونڈوں گا کہاں، اگر اچانک وہ آگئی دکان پر پان لینے…‘‘ مَیں نے دلبر سے کہا ’’ فی الحال تو ہمارا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں۔ کہیں بھی رات بسرکرلیں گے۔ ویسے بھی فقیروں کو بھلا آشیانے کی کیا ضرورت؟‘‘ دلبر نے کچھ دیر سوچا ’’یہاں پچھلی سڑک پر ایک بزرگ کا مزار ہے۔ مزارکیا ہے، چھوٹی سی کٹیا اور ذرا سا صحن ہے۔ یہ عورتیں وہاں پر جمعرات دِیا جلانے جاتی ہیں۔ سُنا ہے کہ وہ بزرگ انہی کی اصلاح کے لیے کسی زمانے میں یہاں آبیٹھے تھے، اگر تم لوگ چاہو، تو اُس خانقاہ میں ٹھہر سکتے ہو۔ وہاں لنگر بھی بٹتا ہے روزانہ، مَیں اُس کے نگراں کو جانتا ہوں۔ دوچار دن وہیں رُک جائو۔ مجھے بھی آسانی ہوجائے گی تم لوگوں سے ٹھیک وقت پر رابطہ کرنے میں…‘‘ مجھے اور بخت خان کو بھلا کیااعتراض ہوسکتا تھا۔ ہمیں تو ویسے بھی سرچُھپانے کے لیے ایسے ہی مقام کی ضرورت تھی۔ دلبر نےہماری رہنمائی کی اور دوگلیاں پار کر کے ہم اس پیپل کے گھنے درخت تلے بنی چھوٹی سی کٹیا نما خانقاہ کے دروازے پر پہنچ گئے۔ کٹیا کی منڈیر پر چند بوسیدہ سے چراغ جل رہے تھے، جانے لوگ ان خانقاہوں اور درگاہوں پر آکر دِیے کیوں جلاتے ہیں؟ مجھے تو ایسی ہر درگاہ پر آکر اپنا دل بُجھتامحسوس ہوتا تھا۔ شاید یہ نااُمیدوں کے لیے اُمید کا کوئی استعارہ ہوتا ہوگا۔ جن کے اپنے دل کے چراغ بجھ گئے ہوں، وہ آکریہاں منڈیروں پر رکھے دِیے جلایا کرتے ہوں گے۔ بخت خان صحن کے کچے فرش پرکمر ٹِکاتے ہی لمبی تان کر سوگیا۔ جب کہ حسبِ معمول مجھے ابھی ستاروں سے بہت سے سوال وجواب کرنا تھے۔ یہ آج کی بات تو نہیں تھی، ہمارا یہ حساب کا پیریڈ تو ہر رات چلتا تھا۔ جمع، تقسیم، ضرب اور نفی، مگر حاصل ہمیشہ صفر۔ ہر رات کی طرح میں اُسے آسمان کے تاروں میں کھوجتا رہا اور وہ چاند میں بیٹھی مُسکاتی رہی، جانے وہ کیسی ہوگی،کہاں ہوگی…؟ اُسے میرے جیل سے فرار کی خبر تو مل چُکی ہوگی، اور شاید اسی طرح وہ ہر رات میرا انتظار بھی کرتی ہو ۔ مگر نہیں، مَیں نے تو خود اُسےنئی زندگی کی شروعات کی قسم دی تھی، اُسے تو اِس وقت اپنے اُس ہم سفر کے ساتھ ہونا چاہیے، وہ دونوں اِس خنک رات میں اپنی بالکونی میں بیٹھے گرم کافی کی چسکیاں لیتے، انہی ستاروں کو دیکھ کرباتیں کررہے ہوں گے۔ اس تصوّر کے ساتھ ہی میرا دل ڈوبنے لگاتھا۔

فجر کی اذان کے ساتھ ہی اِکّا دُکا لوگ خانقاہ پر آتے جاتے پھولوں کی چادر وغیرہ چڑھا گئے۔ ساتھ والی گلی ہی میں تو پھولوں کی بہت سی دکانیں تھیں۔ حیرت ہے، جو پھول رات کو کسی پری چہرہ کے قدموں میں نچھاور کیے جاتے ہیں، انہی پھولوں کی بچی چادریں صبح ان مزاروں پر چڑھا دی جاتی ہیں۔ پھولوں کی مرضی البتہ کوئی نہیں پوچھتا۔ اگلے روزدلبر ہم سے ملنے آیا، تو اُس کی آواز میں جوش تھا ’’میری فیروزہ سے بات ہوگئی ہے۔ ہوسکتاہے، مَیں آج شام ہی اسےیہاں لےآئوں۔ اُسے ویسے بھی پیری فقیری پر بڑا یقین ہے۔ کہہ رہی تھی مَیں ضرور چلوں گی تمہارے ساتھ۔ بس، تم لوگ تیار رہنا اور کہیں یہاں وہاں نہ نکل جانا۔‘‘ اور پھر شام کو واقعی دلبر ایک سیاہ برقعے والی لڑکی کے ساتھ خانقاہ کےدروازے پرکھڑا تھا۔ لڑکی نےاپناچہرہ چُھپانے کےلیے خود کو برقعے میں ڈھانپ رکھا تھا۔ اُس نے قبر والے کمرے میں دُعا پڑھی، کچھ نذر چڑھائی اور واپسی پر وہ اور دلبر میرے سامنےآبیٹھے۔ لڑکی بولی تو آواز میں گھبراہٹ تھی ’’میرےپاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ چندا آپا آرام کررہی ہیں۔ مَیں بس ذرا دیر کے لیےحویلی سے نکلی ہوں۔ وہ اٹھتے ہی سب سے پہلے میراپوچھیں گی، کسی اورکا کام انہیں پسند نہیں آتا۔‘‘ میں نے وقت ضایع کیےبغیرفیروزہ کی فیروزہ آنکھوں میں جھانکا ’’کچھ عرصہ قبل بالے نامی تماش بین نے یہاں مہرو نام کی ایک لڑکی بھیجی تھی، وہ اب کہاں ہے، کیا تم ہمیں اُس سے ملوا سکتی ہو؟‘‘ مہرو کا نام سُنتے ہی فیروزہ کو جیسےکرنٹ سا لگا۔ اس نے گھبراکراپنےپائوں یوں سمیٹے،جیسےخانقاہ کی زمین سےکوئی بچّھو نکل آیاہو۔ ’’سائیں جی آپ… آپ مہرو کو کیسے جانتے ہیں؟‘‘ مَیں نے باہر کےدروازے کی طرف دیکھا، جہاں مَیں نے بخت خان کو پہرے پربِٹھا رکھا تھا۔ ’’بس یوں سمجھو کہ میں بھائی ہوں اُس کا۔ اُسے لینے آیا ہوں۔ اُس کی ماں اُس کے غم میں پاگل ہوچُکی ہے اور باپ…دنیا ہی چھوڑ گیا ہے‘‘ فیروزہ نےسراٹھاکردیکھا، تو اس کی پلکیں بھیگ رہی تھیں ’’اور اُس کا محبوب… وہ کہاں ہے۔ وہ مہرو کےغم میں دیوانہ نہیں ہوا ابھی تک۔‘‘ مَیں زور سےچونکا۔ اس کا مطلب فیروزہ مہرو کےحالات سے اچھی طرح واقف تھی۔ ’’جب تم نے مہرو کا نام لیا ناں سائیں جی! تو مَیں سمجھی کہ آخرکار وہ آہی گیا، جس کا آخرتک مہرو کو انتظار تھا۔ وہ کیوں نہیں آیا، اپنی مہرو کو لینے، مہرو تو اُسی کا انتظار کرتی رہ گئی۔ اور مہرو کا تو کوئی بھائی ہی نہیں تھا، تم کون ہو…؟‘‘ فیروزہ کی آنکھوں میں بہت سے سوالات مچل رہے تھے۔ مجبوراً میں نے اُسے صرف اتنا بتایا کہ ’’مہرو کے باپ، کرم داد سے پرانی جان پہچان تھی ہماری اور اُسی نےپھانسی لگتے وقت مہرو کی تلاش کی درخواست کی تھی ہم سے۔‘‘ فیروزہ نے اپنے آنسو پونچھنےکی ناکام کوشش کی۔’’مہرو اب یہاں نہیں ہے سائیں جی۔ اُسے کوئی اپنے ساتھ لے گیا ہےبہت دُور۔‘‘ مجھے لگا، ہم صحرا میں چلتے چلتے کنارے سے پہلے ہی دوبارہ کوئی غلط موڑ مُڑ گئے ہیں۔ فیروزہ نے بتایاکہ مہرو کو جس رات بالے کے کارندے چندا کے ٹھکانے پر چھوڑنے آئے تھے، اُس رات شدید بارش ہورہی تھی،چندا کےکچھ خاص مہمان بھی حویلی میں مدعو تھے۔ مہرو کو فیروزہ والے کمرے ہی میں پہنچایا گیا تھا۔ وہ بہت ڈری ہوئی تھی اورروئے جارہی تھی۔ فیروزہ نے اُسے سنبھالنے کی بہت کوشش کی، مگر مہروہاتھ چھڑا کرکمرے سے نکلنے میں کام یاب ہوگئی۔ شاید وہ وہاں سے بھاگنا چاہتی تھی، مگر اُس بے چاری کو کیا پتا تھا کہ اس حویلی کی بُھول بھلیوں سے باہر نکلنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ فیروزہ، مہرو کو روکنے کے لیے اس کے پیچھے لپکی، مگر تب تک مہرو راہ داریوں میں دوڑتی بڑے ہال پہنچ گئی تھی، جہاں اُس وقت چندا کےخاص مہمانوں کی محفل جمی تھی۔ مہرو دوڑتی ہوئی، دھڑلے سے دروازہ کھول کر جب سب مہمانوں کےدرمیان پہنچی، تو محفل میں سنّاٹا چھا گیا۔ سازندوں نےگھبرا کر ساز روک دیئے اور چندا کا غصّہ آسمان چُھونے لگا۔ اُس نے آج تک کسی لڑکی کی ایسی گستاخی معاف نہیں کی تھی۔ اس کی جلاّد خادمائیں ذرا ذرا سی بات پرگانےوالی لڑکیوں کی کھال کھینچنے کے لیے چمڑے کے ہنٹر لیے تیار بیٹھی رہتی تھیں۔ مہرو کو بھی ایسی ہی ایک جلاّدن نے پکڑ کر باہر کھینچا، مگر تب تک محفل میں بیٹھا ایک امیر زادہ، نواب زادہ تیمور، مہرو کی ہرنی جیسی آنکھوں سے ٹپکتی وحشت کا اسیر ہو چکا تھا۔ اُس پرخوف زدہ مہرو کے حُسن کی بجلی یوں گری کہ پھر وہ وہاں سے اٹھ ہی نہ پایا۔ اُس نےخالی چیک بُک دستخط کر کے چندا کے سامنے رکھ دی کہ اب کوئی اِس لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھے۔ چندا نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ لڑکی کسی کی امانت ہے، مگر تیمور کا نوابی خون جوش کھا گیا، اُس نےصاف کہہ دیا کہ اُس کو ایک بارجو بھا جائے، پھر وہ کسی اور کی نہیں ہو سکتی۔ چندا الجھ کررہ گئی، مگر اگلے ہی دن بالے کی موت کی خبر نےہر سوال کا جواب خود چندا کے سامنے رکھ دیا۔

چندا نے ہفتہ دس دن مزید انتظار کیا، مگر پھر چاروں طرف خاموشی پاکرچُپکے سے مہرو کی رقم کھری کرلی۔ ویسے بھی وہ نواب تیمور جیسی تگڑی اسامی کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مگر اس نے تیمور کو صاف بتادیا کہ لڑکی کسی بڑے اور شریف گھرانے کی لگتی ہے، لہٰذا وہ نواب کے ساتھ کہیں جانے پر راضی نہیں ہوگی۔ یوں بھی وہ سارا دن خود کو فیروزہ کے کمرے میں بند رکھتی اور بس اپنے گھروالوں ہی کو یاد کرکے روتی رہتی ہے۔ نواب نے چندا سے کہا کہ وہ فیروزہ کےذریعے مہرو کو سمجھائے کہ وہ باقاعدہ نکاح کرکے اور مہرو کو اپنی عزت بناکر رکھنا چاہتا ہے۔ قسمت نے جس مقام پر مہرو کو لا پھینکا ہے، اس ذلت بھری زندگی سے تو لاکھ درجہ بہتر یہ ہے کہ مہرو نواب کی پیش کش پر غور کرے اور وسیے بھی مہرو کوگھر سے نکلے کئی ہفتے ہوچکےہیں، اب اُسےکوئی اپنابھلا کب قبول کرےگا ۔ فیروزہ نے مہرو کو نواب تیمور کا پیغام پہنچانے کے ساتھ یہ مشورہ بھی دیا کہ عقل مندی اِسی میں ہےکہ وہ فی الحال چندا کےچنگل سے نکلنے کے لیے نواب کی پیش کش قبول کرلے، مگر نواب سے کچھ دن مزید سوچنے کا وقت مانگ لے۔ اس عرصے میں موقع پاتے ہی وہ اپنے گھر والوں یا منگیتر سے رابطہ کرنے کی کوشش کرےاور انہیں اپنے بارے میں اطلاع دے ۔ فیروزہ نے بتایا کہ مہرو کو پورا یقین تھا کہ اُس کے گھر والے اور احمد اُس کی خبر پاتے ہی، اُسے اپنے ساتھ لے جانے کے لیےدوڑے چلے آئیں گے، مگر وہ دونوں نہیں جانتی تھیں کہ نواب کا گھر مہرو کے لیے ایک بڑا پنجرہ ثابت ہوگا۔ کچھ عرصے بعد نواب تیمور نے چندا کو چند رقاصائوں سمیت نواب پور بلایا، تو چندا، فیروزہ کوبھی ساتھ لےگئی اور وہاں مہرو کی حالت دیکھ کر فیروزہ کا دل کٹ کررہ گیا۔ نواب نے مہرو کو باقاعدہ قید کر رکھاتھا۔ نواب کی ایک بیوی پہلے بھی تھی، جس سے ایک نوجوان بیٹا بھی اس کے مکمل خاندان کا حصّہ تھا، مگر نواب کی مہرو سے نکاح کی ضد ابھی تک ختم نہیں ہوئی تھی، مگرمہرو کسی نہ کسی بہانے نواب کو ٹالتی آرہی تھی۔ یا شاید نواب ہی اُسے اتنی ڈھیل دےرہا تھا کہ اُس کی ہر اُمید اپنے گھر والوں اور منگیتر کی طرف سے ٹوٹ جائے۔ وہ تھک کرنواب کےسامنے ہتھیار ڈال دے، پھر اُس کے بعد فیروزہ کی مہرو سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ مہرو نے فیروزہ کو کہاتھا کہ اُسے پورا یقین ہے کہ اس کا رانجھا، اس کا سانول، احمد اُس کے پیچھے ایک نہ ایک دن چندا کے ٹھکانے تک ضرور پہنچے گا اور جب وہ آئے، تو فیروزہ اُسے مہرو کا ایک پیغام ضرور دے دے۔ فیروزہ بولتے بولتے ایک دَم خاموش ہوگئی۔

خانقاہ کے صحن میں پھیلے دیوہیکل پیڑ، ہرشام کے بعد اکٹھے ہونے والے پرندے بھی یک لخت چُپ سے ہوگئے،جیسے وہ بھی مہرو کا پیغام سُننا چاہتے ہوں، پھر فیروزہ بولی تو مجھے اس کی آواز کہیں بہت دُور سے آتی محسوس ہوئی۔ ’’مہرو نے یہ پیغام دیاتھا کہ احمد سے کہنا کہ اُس کی مہرو نے اپنے گلےسےجُڑےتعویذ میں تھوڑاسازہر باندھ لیاہے، مہرو صرف احمد کی تھی اور احمد ہی کی رہے گی اور جس دن کسی نے زبردستی مہرو کوحاصل کرنے کی کوشش کی، مہرو اُس دن وہ زہر چاٹ کراپنی جان دےدےگی۔ تم دُعا کرو سائیں جی! مہرو ابھی تک زندہ ہو۔‘‘ فیروزہ میری سماعتوں میں بھی ایک نیا زہر گھول کر واپس چلی گئی اور میں رات گئے تک کروٹیں بدلتے یہی سوچتا رہا کہ اتنا سفر طے کرنے کے باوجود ہم ابھی تک مہرو سے اُتنا ہی دُور ہیں۔ بخت خان کو مَیں نے بتادیا کہ ہمارا اگلا پڑائو اب ’’نواب پور‘‘ ہوگا۔ نواب تیمور کی جاگیر۔

جانے رات کا کون سا پہر تھا کہ باہر گلی میں شور شرابے کی آوازوں نے ہم دونوں کو چونکا دیا۔ اچانک خانقاہ کا سرکاری رکھوالا گھبرایا ہوا اندر داخل ہوا ’’جلدی نکل چلو یہاں سے۔ سُنا ہے دو دہشت گرد گھس آئے ہیں اس علاقے میں، اور پولیس اُن کے پیچھے علاقے کے سارے لاوارث فقیروں، آوارہ گردوں کو اٹھاتی پھر رہی ہے۔ یہاں بھی آتی ہوگی، کہیں دھر لیے گئے تو باہر نکلنے میں ہفتہ دس دن لگ جائیں گے۔ خوامخواہ خوار ہو جائو گے تم لوگ۔‘‘ مَیں نے گھبرا کر بخت کی طرف دیکھا۔ موت ہمارے سَروں پر منڈلارہی تھی۔ اُسی وقت دو پولیس والے تیزی سے خانقاہ کے صحن میں داخل ہوئے اور ہم پر نظر پڑتے ہی کوئی چلّایا ’’وہ رہے دونوں…‘‘(جاری ہے)