Advertisement

آزادی مارچ: اعصاب کی جنگ کون جیتے گا؟

October 24, 2019
 

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ غیر یقینی میں بھی اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے ایک طرف خارجی سطح پر کچھ کامیاب پیش رفت کی خبریں ہیں تو دوسری طرف داخلی سطح پر سیاسی انتشار اور عوامی سطح پر مہنگائی۔ اور بتدریج بڑھتی ہوئی مہنگائی نے لوگوں کی مایوسی کو غصے، جھنجھلاہٹ اور اشتعال میں بدل دیا ہے اور یہ کیفیات اپوزیشن یا حکومت سے ہمدردی رکھنے والے طبقات کی نہیں بلکہ ایک عام آدمی کی ہیں اور بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تبدیلی کی خواہش اور کوشش میں شریک لوگ بھی اب اس حوالے سے حکومت کا دفاع کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

عام لوگوں کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ حکومتی کوششوں سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (F.A.T.F) نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں نہیں ڈالا جس کے لئے بھارت نے بھی زبردست سفارکاری کی تھی اور پاکستان بدستور گرے لسٹ میں ہی ہے اور نہ ہی لوگوں کو اس بات سے کوئی غرض ہے کہ ملک میں معیشت کی بہتری کے اشارے مل رہے ہیں ۔ حالانکہ وطن عزیز کے لئے یہ دونوں خبریں انتہائی اہم ہیں لیکن جن لوگوں کا بنیادی مسئلہ روز مرہ کے اخراجات۔

بچوں کی فیس بجلی پانی اور گیس کے بلز کی ادائیگی پہلی ترجیح ہو ان کے لئے یہ ناقابل فہم باتیں ہیں لوگ تو اب یہ بھی نہیں سننا چاہتے کہ ماضی کے حکمرانوں نے کیا کیا بلکہ اب وہ یہ دیکھناچاہتے ہیں کہ موجودہ حکمران ان کے لئے کیا کر رہے ہیں۔ اپنی بنیادی ضرورتوں اور مجبوریوں کے اسیر عوام کو اب ’’سیاسی اسیروں‘‘ سے بھی ہمدردی نہیں رہی کیونکہ انہیں علم ہے کہ اب وہ ان کے لئے کچھ نہیں کر سکتے اس لئے اب وہ صرف ان کی طرف دیکھ رہے ہیں جوان کے لئے کچھ کر سکتے ہیں۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے ملک کے سیاسی منظر پر مولانا فضل الرحمٰن کا راج ہے اور اس وقت وہ واحد لیڈر نظر آتے ہیں جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ایک بحران میں مبتلا کر رکھا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی سمجھی جا سکتی ہے کہ ماضی قریب کی دونوں بڑی مقبول جماعتوں کی مرکزی قیادت میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری پابند سلاسل ہیں اور سیاسی میدان میں اس کا بڑا فائدہ مولانا فضل الرحمٰن کو مل گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ حلقے اور طبقے جن میں عوامی سطح پر موجودہ حکومت کے مخالفین کی بھی قابل ذکر تعداد موجود ہے وہ بھی ’’بغض حکومت‘‘ میں مولانا فضل الرحمٰن کی حمایت کر رہے ہیں۔

مولانا کی سیاست سے آگہی رکھنے والے جانتے ہیں کہ مولانا سیاست میں مہم جوئی پر یقین نہیں رکھتے بلکہ ان کی سیاست افہام و تفہیم۔ کچھ دو کچھ لو۔ سمجھوتوں اور صلح جوئی سے عبارت ہے۔ 90کی دہائی میں انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کی مخالفت کی اور عورت کی حکمرانی کو حرام قرار دیا لیکن پھر انہی کے دور حکومت میں وہ قومی اسمبلی کی خارجہ امور سے متعلق اہم کمیٹی کے چیئرمین بھی بنے۔

جنرل (ر) پرویز مشرف کی آمریت میں انہوں نے ڈٹ کر ان کی مخالفت کی، نظر بند بھی رہے اور ان پر مقدمات بھی قائم ہوئے لیکن یہ مولانا فضل الرحمٰن ہی تھے جنہوں نے آئین کی17ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا جس سے جنرل (ر) پرویز مشرف کے آمرانہ نظام کو قانونی تحفظ اور اقتدار کو استحکام ملا جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے 17ویں ترمیم کی مخالفت کی تھی۔ 2008 مولانا متحدہ مجلس عمل کے سرکردہ رہنمائوں میں شامل تھے جب ملک میں عام انتخابات کا اعلان ہوا تو ایم ایم اے میں شامل تمام جماعتوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا لیکن مولانا نے ایم ایم اے کا ’’بائیکاٹ‘‘ کرتے ہوئے عام انتخابات میں حصہ لیا اور پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی تو ان کے اتحادی بن کر کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ سنبھال لی۔

اختصار کے ساتھ پیش کیے جانے والے اس پس منظر سے مولانا کی معاملہ فہمی پر مبنی انداز سیاست سے ان کی ’’فہم و فراست اور سیاسی دانش‘‘ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن2018کے انتخابات میں ناکامی کے بعد ان کی سیاست کا ایک مختلف انداز سامنے آیا ہے فاٹا کے انضمام کی مخالفت سے لیکر چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ناکامی تک نے مولانا کو زچ کردیا اور انہوں نے پہلی مرتبہ عملی طور پر جارحانہ سیاست کا آغاز کیا اور آج صورت حال یہ ہے کہ پوری وفاقی اور پنجاب حکومت کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے اور احتجاج کو روکنا ہے جس کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں لیکن مولانا جس آہنی عزم، مستقل مزاجی اور پوری توانائیوں سے پر اعتماد ہیں وہ حیرت انگیز ہونے کی حد تک غیر متوقع ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ انکے اس طرز عمل پر طرح طرح کی قیاس آرائیاں بھی ہو رہی ہیں اور الزام بھی عائد کئے جا رہے ہیں۔

کوئی کہہ رہا ہے کہ مولانا کو کہیں سے گرین سگنل ضرور ملا ہے تو کہیں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے ان کو سرحد پار سے ’’عملی آشیر باد‘‘ حاصل ہے۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر ملک میں نظام کی بساط لپیٹ دی گئی تو اس کا ’’سہرا‘‘ مولانا فضل الرحمٰن کے سر بندھا رہے گا اور اس خدشے کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اگر اس مرتبہ جمہوری نظام ختم ہوا تو پھر آنے والا نظام بے رحم ہوگا۔

سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نیب کی تحویل میں ہیں تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کوٹ لکھپت میں اور اب ان کے شوہر کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ نواز شریف کو طبیعت زیادہ خراب ہونیکی وجہ سے ہستپال منتقل کردیا گیا ہے ۔ میاں شہباز شریف بھی نیب کے ملزم ہیں اور ان کے صاحبزادے نیب کی تحویل میں، اسی طرح دو سابق وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف پر بھی مقدمات قائم ہیں۔

دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ ساتھ کئی مرکزی رہنما بھی ایسی ہی صورتحال سے دو چار ہیں۔ اپوزیشن حکومت کے خلاف ایک بھرپور اور طاقتور تحریک چلا رہی ہے اسلام آباد میں داخل ہونے والے تمام راستوں پر کنٹینر موجود ہیں۔ خود اسلام آباد اس وقت کنٹینروں کا دارالحکومت دکھائی دیتا ہے سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے قصہ مختصر یہ صورتحال کسی طور بھی ایک جمہوری حکومت کے دور کی عکاسی کرتی دکھائی نہیں دیتی گو کہ اس سے پہلے کی ’’جمہوریتوں‘‘ میں بھی اسی نوعیت کے مناظر دیکھنے میں آتے رہے ہیں لیکن ان میں سیاسی خاندانوں کی اسیری کی مثال نہیں ملتی پھر مثال اچھے کاموں کی اور تقلید مثبت اقدامات کی ہوتی ہے کسی منفی اقدامات کے لئے گزشتہ واقعات کو جواز بنانا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔

میاں نواز شریف بالخصوص اپنی خوش خوراکی اور بد پرہیزی کے باعث عرصے سے بعض عارضوں میں مبتلا ہیں لیکن اسیری میں ان کی طبیعت خراب ہونا فطری سی بات ہے۔ بہر حال حالت بگڑ جانے پر انہیں ہسپتال لیجایا گیا ان کے رفقا بار بار کہہ رہے ہیں کہ میاں نواز شریف جو دل کے عارضے میں بھی مبتلا ہیں اگر انہیں کچھ ہو جاتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہو گی اس لئے انہیں ہسپتال منتقل کیا جائے لیکن حکومت اس مطالبے کو درخور اعتنا نہیں سمجھتی اور جیل سے باہر رہنے کا ڈھونگ قرار دیتی ہے۔ بیگم کلثوم نواز کی بیماری پر بھی طرح طرح کے افسانے گھڑے گئے۔

ان کے مرض کو سیاسی ڈرامہ قرار دیا گیا آخر ان کے انتقال پر ان کے بیمار ہونے کا یقین کرنا پڑا۔ خود میاں نواز شریف جب علاج کیلئے بیرون ملک تھے تو ان کی ہارٹ سرجری کو بعض شقی القلب مخالفین نے ’’اسیر سرجری‘‘ سے موسوم کیا۔ انسانی جسم میں پلیٹلیٹس سیل کی تعداد 16 ہزار رہ جانا کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ کیا میاں نواز شریف کو بھی اپنی بیماری کے لئے اپنی شریک حیات کی طرح یقین دلانا پڑے گا؟۔ دوسری طرف آصف علی زرداری کی طبیعت کے بارے میں بھی ان کے رفقا انتہائی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

آصف علی زرداری اس حوالے سے قدرے بہادر شخص ہیں وہ کسی طور بھی اپنے مخالفین پر اپنی کمزوری ظاہر نہیں کرتے یہ درست ہے کہ وہ ماضی میں مجموعی طور پر 11 سال تک جیل میں رہے اور انہوں نے بڑی استقامت سے جیل کاٹی، اب بھی وہ گرفتاری سے پہلے ’’جیل میرا دوسرا گھر ہے‘‘ جیسے جملے بولتے تھے لیکن امر واقعہ ہے کہ اب ان کی عمر65سال کے لگ بھگ ہے وہ بھی مختلف عارضوں کا شکار ہیں۔

نیب کی حراست میں انہیں محدود سہولتیں حاصل ہیں انکی پارٹی روبہ زوال ہے ان کا کاروبار اور سرمایہ کاری بھی تباہ ہو رہی ہے جس باعث وہ ذہنی اذیت کا بھی شکار ہیں پھر ان کی بہن فریال تالپور اور قریبی ساتھی بھی حالات کے سامنے بے بس ہیں، اس لئے اگر ان کے رفقا ان کی صحت کے بارے میں متفکر ہیں اور مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں تو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر بھی ان کی ہسپتال منتقلی اور علاج ہونا چاہئے۔


مکمل خبر پڑھیں