Advertisement

یہ کس کی آہٹ سے گُل کھلے ہیں....

November 03, 2019
 

تحریر: نرجس ملک

ماڈل: ڈاکٹر حرا زاہد

ملبوسات: طاہر عالم کلیکشن

آرایش: دیوا بیوٹی سیلون

عکّاسی: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

ساغر صدیقی کی بڑی خُوب صورت سی غزل ہے ؎ نظر نظر بے قرار سی ہے، نفس نفس میں شرار سا ہے.....مَیں جانتا ہوں کہ تم نہ آئو گے، پھر بھی کچھ انتظار سا ہے.....مِرے عزیزو، مِرے رفیقو، چلو کوئی داستان چھیڑو.....غمِ زمانہ کی بات چھوڑو، یہ غم تو اب سازگار سا ہے.....وہی فسردہ سا رنگِ محفل، وہی ترا اِک عام جلوہ.....مِری نگاہوں میں بار سا تھا، مِری نگاہوں میں بار سا ہے.....کبھی تو آئو، کبھی تو بیٹھو، کبھی تو دیکھو، کبھی تو پوچھو.....تمہاری بستی میں ہم فقیروں کا حال کیوں سوگوار سا ہے.....چلو کہ جشنِ بہار دیکھیں، چلو کہ ظرفِ بہار جانچیں.....چمن چمن روشنی ہوئی ہے، کلی کلی پہ نکھار سا ہے.....یہ زلف بردوش کون آیا، یہ کس کی آہٹ سے گُل کِھلے ہیں.....مہک رہی ہے فضائے ہستی، تمام عالم بہار سا ہے۔

صحیح معنوں میں اِسے ہی کہتے ہیں ’’خزاں میںبہار‘‘ کہ چہار سُو تو ٹنڈ منڈ درختوں کی برہنہ شاخوں کے ہیولے، سائے سے لرزتے ہوں۔ پیروں تلے سوکھے زرد پتّے کڑکڑاتے، کُرلاتے، بین کرتے محسوس ہوں۔ کھلے ورانڈوں، لمبے دالانوں، میںسرِشام مہیب سنّاٹے گونجنے لگیں۔ دیواروں سے ابھی دھوپ نیچے نہ اُترے اور اُداسی و ویرانی بال بکھرائے آبیٹھے۔ فضائوں میں خُنکی، نمی صحیح سے گُھلی بھی نہ ہو اور آنکھیں، لہجے فسردہ، نم ناک سے ہونے لگیں۔ اور پھر.....ایسے میں اچانک کہیں سے اِک ایسا زلف بردوش جامہ زیب آئے کہ دیکھتےہی بے ساختہ لبوں سے نکلے ؎ یہ کس کی آہٹ سے گُل کِھلے ہیں، تو صحیح معنوں میں اِسے ہی کہتے ہیں، ’’خزاں میں بہار۔‘‘ اکثریت کا خیال ہے کہ اندر و باہر کے موسم اِک دُوجے سے رَلے مِلے ہوتے ہیں۔ باہر رُت سہانی ہو، تو مَن نگری آپ ہی آپ مہکنے لگتی ہے یا دل کی کلی کِھلی ہو تو ہوائیں، فضائیں خود بخود معطّر ہوجاتی ہیں۔ پر، یہ تو اِک عام سی بات ہے، بات خاص تو تب بنے، جب رُت چاہے کتنی ہی بوجھل، گراں بار، ناگوار و ناسازگار کیوں نہ ہو، دل کی دنیا، ہستی کی بستی، جسم و جاں کا نگر اپنی ہی موج مستی میںگُم، اُمنگ ترنگ میںمگن گاتا گنگناتا، مہکتا مُسکراتا، خُوب اِتراتا اٹِھلاتا رہے۔ وہ آرزو لکھنوی نے کہا تھا ناں کہ ؎ پوچھا جو اُن سے چاند نکلتا ہے کس طرح.....زُلفوں کو رُخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں۔ اور وہ بھی کہ ؎ کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی.....جُھوم کے آئی گھٹا، ٹوٹ کے برسا پانی۔ تو یہ کافر ادا، حُسن والے تو جس موسم میں، جو چاہیں رنگ بھرلیں۔ خزاں کو بہار، بہار کو خزاں، ساون، بھادوں کو پھاگن، چیت کردیں، تو جیٹھ، اساڑھ کو مگھر، پوہ۔ جیسا کہ آج ہماری بزم کے انگ انگ، ہر اِک رنگ سے عیاں ہے۔

ذرا دیکھیے، پِیچ رنگ کا عنّابی اور ڈارک گِرے رنگوں سے تال میل حسین کڑھت سے ہمآمیز ہوکر کیا غضب ڈھا رہا ہے۔ جیٹ بلیک کلیوں والی دل کش فراک پر زرد، آتشی اور سُرمئی رنگوں کی دل آویز ایمبرائڈری، اپنی چَھب ڈھب میںنرالی ہے، تو بلیک اورگِرے کے شاہانہ امتزاج میں سیکوینس ورک کے ساتھ تھریڈ ورک کی جدّت و ندرت کا تو کوئی مول ہی نہیں۔ سی وِیڈ گرین کلر کے ساتھ آتشی گلابی رنگ کی ہم آہنگی میںچُن دار پیپلم کا جلوہ بے رنگ موسم میں رنگ بھر رہا ہے، تو زرد کا ایک منفرد شیڈ، خود موسم ہی سے چُرائے ہوئے اِک رنگ کا عکس معلوم ہورہا ہے۔ کہیے، ہماری یہ ’’خزاں میںبہار‘‘ آپ کو کیسی لگی۔ ہمیں تو اِک سادہ سی غزل یاد آگئی ؎ زندگی اپنی خواب جیسی ہے.....خُوب رُو بے نقاب جیسی ہے.....صحنِ گلشن میں آپ کی ہستی.....شاخ پر ایک گلاب جیسی ہے.....کبھی ڈوبی ہے اور کبھی اُبھری.....عاشقی بھی حباب جیسی ہے.....اُن کی شوخی تو ہے بہارِ چمن.....سادگی محوِ خواب جیسی ہے.....ہے کرشمہ یہ اُن کی آنکھوں کا.....خامشی بھی خطاب جیسی ہے۔


مکمل خبر پڑھیں