Advertisement

’گھنٹہ گھر‘ انہیں کبھی ثقافتی ورثہ کیوں نہیں سمجھا گیا؟

November 07, 2019
 

ریاض سہیل

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نصب 12 گھنٹہ گھروں میں سے نو اب خاموش ہوگئے ہیں۔ یہ گھنٹہ گھر 18 ویں اور 19 ویں صدی کے آغاز میں برطانوی دور حکومت میں بنائے گئے تھے جو طرز تعمیر کے علاوہ مقامی شان و شوکت کے بھی عکاس تھے۔

ان دنوں میں ابھی کلائیوں پر گھڑی باندھنے کا رجحان عام نہیں تھا۔

ان دنوں سڑکوں پر نا تو ٹریفک کا شور تھا نا ہی فیکٹریوں کی گھن گھرج، اس لیے ان گھنٹہ گھروں سے نکلنے والی مدھم آواز دور دور تک سنائی دیتی تھی۔ ان ہی گھنٹہ گھروں کی آواز سے سورج غروب ہونے کے ساتھ چراغ جلتے اور سورج طلوع ہونے کے وقت چراغ گل ہوتے۔

ان ہی کی آواز سن کر لوگ کام کاج پر روانہ ہوتے اور مقررہ اوقات پر گھڑیال کی آواز سن کر گھر کی واپسی کا راستہ اختیار کرتے تھے۔

تقریباً تمام ہی گھنٹہ گھر خستہ حالت اور عدم توجہی کا شکار ہیں۔ یہ گھنٹہ گھر ایک مخصوص علاقے کی پہچان ہوا کرتے تھے جو شہری اعتبار سے جدید خطوط پر استوار علاقہ تھا اور اس وقت کے برطانوی کمشنر نے انھیں متعارف کروایا تھا۔

ہولی ٹرینیٹی

ہولی ٹرینیٹی چرچ کا شمار شہر کے پہلے گرجا گھروں میں ہوتا ہے۔ سنہ 1855 میں اس کی تعمیر کی گئی۔ تعمیرِ کے وقت اس کی بلندی 150 فٹ تھی لیکن سمندری ہواؤں کی وجہ سے سنہ 1904 میں اس کی اونچائی کو کم کر کے 115 فٹ تک لایا گیا۔ اس وقت بھی یہ عمارت ہولی ٹرینیٹی چرچ کے زیر استعمال ہے، تاہم اس کا گھڑیال ناکارہ ہو چکا ہے۔

ایڈیلجی ڈنشا چیریٹیبل ڈسپنسری

ایڈیلجی ڈنشا چیریٹیبل ڈسپنسری شہر کے وسطی علاقے صدر میں واقع ہے جو سنہ 1828 میں تعمیر کی گئی تھی۔ ایڈیلجی ڈنشا کی فلاح بہبود سے وابستہ شخصیت تھی، یہ عمارت ڈسپنسری کے لیے استعمال ہوتی تھی اس کا گھڑیال سنہ 1999 تک فعال تھا، تاہم مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے غیر فعال ہوچکا ہے اور اس کے پرزے بھی چوری کیے جا چکے ہیں۔

ایمپریس مارکیٹ

ایمپریس مارکیٹ سنہ 1848 میں ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں تعمیر کی گئی تھی۔ سرخ پتھروں سے تعمیر اس عمارت کا کلاک ٹاور 140 فٹ بلندی پر واقع ہے اور اس کے چاروں اطراف گھڑیال نصب ہیں۔

یہ انڈیا کے شہر ممبئی کی کرافورڈ مارکیٹ کے مقابلے میں بنائی گئی تھی۔ اس کا گھڑیال سمتھ اینڈ سنز کمپنی نے بنایا تھا جو اس وقت خستہ حالت میں موجود ہے۔اس گھڑیال کی آواز کو 40 سال قبل آخری مرتبہ سنی گئی تھی۔’فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور حکومت میں باضابطہ مارکیٹ کی صفائی کی جاتی تھی اور بیل سنائی دیتی تھی۔

عالمی بینک کے نیبرہوڈ پروجیکٹ کے تحت سپریم کورٹ کے حکم پر پچھلے دنوں ایمپریس مارکیٹ کی اصل حالت میں بحالی کے لیے تجاویزات کے خلاف آپریشن کیا گیا اور باہر کی طرف باغیچہ لگا دیا گیا ہے، تاہم گھڑیال کو اب تک بحال نہیں کیا گیا۔

میری ویدر کلاک ٹاور

میری ویدر کلاک ٹاور 1884 میں انجنیئر جیمز اسٹریچن نے ڈیزائن کیا تھا اور یہ ٹاور سر ولیم میری ویدر کی یاد میں تعمیر کیا گیا جو سنہ 1868 سے 1877 تک کراچی کے کمشنر رہے تھے۔

اس ٹاور کی اونچائی 102 فٹ ہے اور اس کے چاروں اطراف میں بھی گھڑیال نصب ہیں اور اس کی بیل ہر گھنٹے کے بعد بجتی ہے۔ اس کے چاروں طرف میں ایک چھوٹا سا باغیچہ بھی واقع ہے۔

میری ویدر ٹاور کو صرف ٹاور کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ سہراب گوٹھ اور سرجانی سے لے کر کیماڑی بندرگاہ تک بس کنڈیکٹر ٹاور، ٹاور کی ہی آواز لگاتے ہیں۔اس کے ایک طرف بندر روڈ یا ایم اے جناح روڈ تو دوسری جانب آئی آئی چندریگر (سابق میکلوڈ روڈ) ہے۔

یہ علاقہ شہر کا معاشی اور تجارتی مرکز ہے۔میری ویدر ٹاور بھی خستہ حالی کا شکار رہا بعد میں اس کلاک کو شمسی نظام پر منتقل کر دیا گیا اور نجی بینک کی پاکستان میں فرینچائز اس کی دیکھ بحال کرتی ہے۔گوتھک طرِز تعمیر پر تیار کیے گئے اس ٹاور میں کچھ ستارے بھی ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اسٹار آف ڈیوڈ یا ستارہ داؤدی ہے۔، تاہم مشہور تاریخ دان عثمان دموہی اپنی کتاب کراچی تاریخ کے آئینے میں لکھتے ہیں کہ ان نشانات کا یہودیت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

ڈینسو ہال

ڈینسو ہال سنہ 1886 میں تعمیر کیا گیا تھا، اس کے آرکیٹیکٹ جیمز اسٹریچن تھے۔ دو منزلہ عمارت ایک لائبریری تھی جو مقامی باشندوں کے لیے پہلی لائبریری تھی۔ اس عمارت کے اوپر گھڑیال نصب تھا، اس کا رخ ایم اے جناح روڈ کی طرف تھا اور یہ عمارت ایم اے جناح روڈ اور نیپئر روڈ کے درمیان میں تعمیر کی گئی ہے جس کے عقب میں میریٹ روڈ واقع ہے،اس عمارت میں گھڑیال کی صرف گولائی رہ گئی جبکہ گھڑیال و مشینری چوری ہو چکے ہیں۔ سنہ 2010 میں ہیریٹیج فاونڈیشن نے کراچی الیکٹرک کے تعاون سے اس عمارت کی بحالی کا ذمہ اٹھایا تھالیکن گھڑیال اب تک بحال نہیں ہوسکا ہے۔

پونا بھائی ٹاور

پونا بھائی ٹاور سنہ 1899 میں تعمیر کیا گیا جو تین منزلہ عمارت پر مشتمل ہے۔ اس کے چاروں اطراف میں گھڑیال موجود ہیں۔ عمارت پر سفید اور نیلے رنگ کی ٹائلز لگی ہوئی ہیں۔ رنچھوڑ لائن کے علاقے میں موجود اس گھنٹہ گھر کے آس پاس میں زیادہ تر سلاوٹ کمیونٹی آباد ہے جو راجستھان سے نقل مکانی کر کے آئی تھی اور پتھروں سے عمارتی تعمیر میں مہارت رکھتی ہے۔

گھنٹہ گھر کے آس پاس میں غیر قانونی تجاویزات قائم ہو چکی ہیں۔ گھڑیال اور اس کی مشینری موجود ہے لیکن کچھ پرزے چوری ہو چکے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عید اور 14 اگست کے موقع پر بھی اس کی گھنٹی بجائی جاتی تھی۔کراچی کی تاریخ کے محقق گل حسن کلمتی کہتے ہیں کہ ایک ہندو مارواڑی تاجر نے اپنی بیوی پونا کے نام پر یہ ٹاور کلاک تعمیر کروایا تھا جو بعد میں میونسپل کے سپرد کر دیا گیا۔

جعفر فدو ٹاور

جعفر فدو ٹاور کتیانہ میمن اسپتال کی عمارت کا حصہ ہے۔ جعفر فدو نے سنہ 1904 میں یہاں ڈسپنسری قائم کی تھی جو مسلمانوں کا پہلا فلاحی ادارہ تھا اور ساتھ میں یہاں کلاک ٹاور بھی تعمیر کیا گیا۔

جعفر فدو کا تعلق کاروباری خاندان سے تھا، انھوں نے میٹرک کے بعد صحت کے شعبے کا انتخاب کیا اس کے بعد سول اسپتال سے چند سال وابستہ رہے اور بعد میں نادار لوگوں کے لیے ڈسپسنری قائم کی۔

کھارادر میں مچھلی میانی مارکیٹ کے قریب نواب مہتاب خانجی روڈ پر واقع ہے۔ رواں سال کے ابتدا تک یہ گھڑیال پاکستان کا معیاری وقت بتاتا تھا لیکن جولائی سے اس نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے، تاہم کلاک ٹاور کی حالت کافی بہتر ہے۔

کیماڑی بندرگاہ

کیماڑی جیٹی پر قائم سیڈنہم پیسینجر پویلین کا افتتاح سنہ 1913 کو کیا گیا تھا۔ یہ ٹاور لارڈ سیڈنہم سے منسوب ہے جو بمبئی کے گورنر تھے۔ یہ گھنٹہ گھر کیماڑی ٹاور کے نام سے مشہور ہے ،جس کے چاروں اطراف میں گھڑیال لگے ہیں جن میں سے ایک کا رخ بحیرہ عرب کی طرف ہے۔دوسری جنگ عظیم تک برطانوی اتحادی افواج کے لیے یہ بندرگاہ متحرک اڈہ تھی۔ موجودہ دور میں بھی یہ عمارت اور گھنٹہ گھر فعال ہیں اور اس کی دیکھ بحال محکمہ جہاز رانی کے پاس ہے۔

لی مارکیٹ

کراچی کے علاقے لیاری کے وسط میں واقع لی مارکیٹ سنہ 1927 میں تعمیر کی گئی۔ جس کو کراچی میونسپل کارپوریشن کے انجینئر میشم لی کے ساتھ منسوب کیا گیا تھا۔

اس کلاک ٹاور کی مارکیٹ میں مرکزی حیثیت ہے۔ یہاں سے بندر روڈ موجودہ ایم اے جناح روڈ جوڑیا بازار اور صرافہ بازار کو سڑکیں جاتی ہیں۔ ٹھٹھہ، ملیر، گڈاپ اور حیدرآباد جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی یہاں سے ہی دستیاب تھی، آر سی ڈی سڑک کی تعمیر کے بعد چلنے والی بسوں کے مسافروں کا بھی اسٹاپ یہاں ہی پر تھا۔

لی مارکیٹ میں کسی زمانے میں سبزی، گوشت اور مچھلی کی دکانیں ہوتی تھیں اور شہر کی پہلی سبزی منڈی بھیں یہاں واقع تھی۔موجودہ دور میں اس کی عمارت خستہ حالی کا شکار ہے ٹاور بھی زبوں حالت میں موجود ہے جبکہ گھڑیال کی مشینری چوری ہو چکی ہے۔ 1970 کی دہائی تک اس گھڑیال کی آواز سنائی دیتی تھی جو مدھم ہوتے ہوتے ختم ہوگئی۔

کے ایم سی ٹاور

کراچی میونسپل کارپوریشن کی عمارت کا افتتاح سنہ 1932 میں کیا گیا تھا۔ اس عمارت کی تعمیر میں برطانوی اور مغلیہ طرز تعمیر اختیار کیا گیا ہے۔ اس کا کلاک ٹاور 162 فٹ اونچا ہے جو چاروں طرف سے دیکھا جا سکتا ہے۔کے ایم سی موجودہ ایم اے جناح روڈ اور سابقہ بندر روڈ پر واقع ہے۔

اس کے ساتھ ہی سٹی کورٹ کی عمارت ہے جبکہ بالکل سامنے رام سوامی مندر ہے جو برصغیر کی تقسیم کے بعد کراچی کا سب سے بڑا فعال مندر ہے۔کے ایم سی کا گھڑیال کچھ برس قبل غیر فعال ہوگیا تھا، جس کو مقامی طور پر بحال کیا گیا تھا۔ اس وقت اس کا بڑا گھڑیال اور صرف ایک طرف کی چھوٹی گھنٹی ہر گھنٹہ مکمل ہونے پر مدھم آواز میں بجتے ہیں۔

لکشمی بلڈنگ

بندر روڈ پر لکشمی بلڈنگ سنہ 1924 میں تعمیر کی گئی جو کراچی میں اپنے وقت کی سب سے بلند و بالا لگژری عمارت تھی۔ یہ عمارت کراچی کے تجارتی و معاشی مرکز میں واقع ہے۔ اس عمارت کی منظوری لکشمی انشورنس کمپنی نے دی تھی اس کے ٹاور کے خدوخال شکاگو اور نیو یارک کے بلند عمارت جیسے بنائے گئےتھے، جبکہ ہندو مذہب کی دیوی لکشمی کی مورتی اس کے اوپر نصب کی گئی تھی جو سنہ 1947 میں ہٹا دی گئی۔

قیام پاکستان کے بعد اس عمارت کے مالک انڈیا نقل مکانی کر گئے اور انھوں نے یہ عمارت ایک پارسی تاجر کو فروخت کر دی۔ ہنگاموں کے دوران اس عمارت میں بھی ہندو برادری کے کچھ افراد کو قتل کیا گیا۔ عمارت کے مینیجر کے مطابق اس کا گھڑیال گذشتہ 20 برس سے خراب ہے۔

ان ٹاوروں کی اپنی ایک تاریخی حیثیت ہے اگر ہم ان کا خیال نہیں رکھیں گے تو یہ زبوں حالی کا شکار ہوتے جائیں گے۔’اس وقت کسی ٹاور میں گھڑیال چوری ہوا ہے تو مشین پڑی ہوئی ہے یا کسی میں پورا پورا سسٹم پڑا ہوا ہے، مگر وہ چل نہیں رہا کیونکہ اب وہ کاریگر بھی نہیں ہیں وہ ہنرمند بھی نہیں ہے جو اسے چلانے والے تھے وہ مہارت نہیں ہیں وہ معلومات نہیں ہے۔

’ان ٹاوروں کو اپنے ثقافتی ورثے کے طور پر ہم نے سراہا ہی نہیں ،جس کی وجہ شعور کا فقدان اور مالی وسائل کی قلت ہے۔ اونرشپ جب تک آپ ورثے میں نہیں لائیں گے لوگوں کا جب تک اس سے واسطہ نہیں پڑے گا جب تک وہ اس کو اپنائیں گے نہیں تب تک بے حسی رہے گی۔


مکمل خبر پڑھیں