Advertisement

حاملہ خواتین میں ڈپریشن

November 07, 2019
 

ڈپریشن ایک ایسی بیماری ہے جو سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ مَردوں کے مقابل خواتین میں ڈپریشن کا خطرہ دوگنا زیادہ پایا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً 6 فیصد خواتین عمر کے کسی بھی اسٹیج پر ڈپریشن کا شکار ہوجاتی ہیں جبکہ حاملہ خواتین میں یہ تناسب 10فیصد پایا جاتاہے۔

اس حوالے سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین میں ڈپریشن ایک عام مرض بنتا جارہا ہے، جس کی بنیادی وجہ حمل کے دوران مختلف وجوہات کی بنا پر ان کا مسلسل ذہنی طور پر دباؤ کا شکار رہنا ہے۔ ڈپریشن دوران حمل اور زچگی کے ایک سے دوہفتے بعد بھی قائم رہ سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف یارک( انگلینڈ) کی پروفیسراور ماہر نفسیات کے مطابق دوران حمل خواتین میں متعدد جسمانی اور ذہنی تبدیلیاںرونما ہوتی ہیں۔ دوران حمل ہارمونز میں ہونے والی تبدیلیاں، دماغ میں موجود کیمیکلز کو متاثر کرتی ہیں۔ یہ صورتحال ماں اور بچے کے لیے ڈپریشن اور انزائٹی کا باعث بنتی ہے، جس کے باعث خواتین بچے کی پیدائش کے بعد بھی اپنی جسمانی اور ظاہری ساخت کو لے کر مسلسل دباؤ محسوس کرتی ہیں۔

حاملہ خواتین میں ڈپریشن کی اقسام

طبی ماہرین حاملہ خواتین میں ڈپریشن کو مختلف اقسام میں تقسیم کرتے ہیں، جن میں سے چند اہم ذیل میں درج ہیں۔

٭اینٹی نیٹل ڈپریشن (Antenatal Depression) حمل کے دوران ہوتا ہے۔

٭پوسٹ پارٹم ڈپریشن (Postpartum Depression)بچے کی پیدائش کے چند دن بعد یا پھر مہینہ بعد ہوسکتا ہے۔

٭پوسٹ پارٹم سائیکوسس (Postpartum Psychosis) شدید ڈپریشن کو کہتے ہیں، اس کیلئے کوئی خاص وقت مخصوص نہیں لیکن ماہرین کے مطابق یہ ڈپریشن بچے کی ولادت کے چار سے چھ ہفتوں بعد ہوسکتا ہے۔

زیر نظر موضوع میں ہم دوران حمل ڈپریشن کی قسم پر بات کریں گے کیونکہ اکثر کیسز میںخواتین کو یہ احساس بھی نہیں ہوپاتا کہ وہ دوران حمل ڈپریشن میں مبتلا ہیں، چنانچہ یہی کیفیات آگے چل کر (پیدائش کے بعد)بے بی بلیو زاور پوسٹ پارٹم ڈپریشن میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔

یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ والدین میں صرف مائیں ہی نہیں بلکہ بچے کی پیدائش کے بعد تقریباً10فیصد باپ بھی پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس صورتحال میں خوش کن بات یہ ہے کہ دوران حمل ڈپریشن کا علاج ممکن ہے۔

حاملہ خواتین میں ڈپریشن کی علامات

اینٹی نیٹل ڈپریشن آہستہ آہستہ مریض کو متاثر کرتا ہے۔ حمل کے دوران خواتین میں ہونے والے ڈپریشن کی علامات، ڈپریشن کی دوسری اقسام سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ حاملہ خواتین میں یہ علامات مختلف قسم کی ہوسکتی ہیں مثلاًکسی میں معمولی تو کسی میں شدید نوعیت کی۔

٭بھوک میں تبدیلی، مثال کے طور پر بہت زیادہ بھوک لگنا یا پھر کھانے کو بالکل دل نہ کرنا۔

٭ نیند میں تبدیلی، بہت زیادہ نیند آنا یا پھر بالکل بھی نیند نہ آنا۔

٭ توانائی کی قلت ، ناامیدی ،اداسی یا پھر کسی بھی کام میں دلچسپی نہ لینا اور بلاوجہ رونا۔

٭ خوشیوں اور دیگر سرگرمیوں میں دلچسپی پیدا نہ ہونا (جبکہ عام حالات میںآپ کا رد عمل مختلف ہوتا ہے )۔

ڈپریشن حاملہ خواتین کو کیسے متاثر کرتا ہے ؟

طبی ماہرین کے مطابق جو مائیں دوران حمل ڈپریشن کا شکار رہتی ہیں، ان کو بچے کی پیدائش کے بعد اس کی دیکھ بھال میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی نہیں، دوران حمل ڈپریشن کا حملہ سنگین نقصانات کا بھی باعث بن سکتا ہے جیسے کہ اسقاط حمل، قبل ازوقت پیدائش یا بچے کے وزن میں کمی، وغیرہ وغیرہ ۔ اگر دوران حمل خواتین ڈپریشن کا علاج نہ کروائیں تو یہ صورتحال بچے کی پیدائش کے بعد پوسٹ پارٹم ڈپریشن میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

اگر آپ پوسٹ پارٹم ڈپریشن سے متعلق آگاہی نہیں رکھتے تو جان لیں کہ ڈپریشن کی یہ قسم طبعی، جسمانی اور رویوں میں تبدیلی کا ایک ایسا پیچیدہ مرکب ہے جوبچے کی پیدائش کے بعد ابتدائی دور میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ نفسیاتی ماہرین ڈپریشن کی اس قسم کو خاص ذہنی بیماریوں میں سے ایک تسلیم کرتے ہیں۔ ڈپریشن کی اس قسم کی علامات ماؤں میں کم ازکم بچے کی پیدائش کے چار ہفتےبعد ظاہر ہونے لگتی ہیں ، جو ماں اور بچے کی صحت اور تعلقات پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہیں۔

بچے پر اثرات

دوران حمل ڈپریشن کا علاج نہ کروایا جائے تو بچے پر بھی اس کے اثرات رونما ہوسکتے ہیں۔ حمل کے دوران ڈپریشن کا شکار خواتین کو بچے کی پیدائش کے بعد اس کی دیکھ بھال کرنے میں مشکلات پیش آنے کے علاوہ بے بی فیڈنگ میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔

بچے کے کسی بھی عمل کے رد عمل کے طور پر منفی اندازاپنانا، بچے سے گہرے جذباتی تعلقات میں ناکامی، بچے کے رونے کی آواز پر چڑ چڑاپن، بےچینی اور اشتعال جیسی کیفیات بچے کی ذہنی اور جسمانی نشوونما میں مسائل پید اکرنے کا سبب بنتی ہیں۔

حمل کے دوران ڈپریشن کا علاج

اگر کسی حاملہ خاتون کو دوران حمل مندرجہ بالا علامات کا سامنا ہے تو ان کے لیے دوسروں کی مدد حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔اس سلسلے میںپہلا قدم طبی معالج سے رابطہ ہے یعنی اپنی مڈوائف، ہیلتھ وزیٹر یا گائنی سے اس بارے میں بات چیت کریں، انھیں اپنی کیفیات سے آگاہ کریں اور بتائیں کہ آپ کیسامحسوس کر رہی ہیں۔ اپنے علاج سے متعلقہ فیصلوں میں حصہ لیں۔

اس حوالے سے اپنے شوہر، اہل خانہ اور حلقہ احباب سے مل کر بات چیت کیجیے، انھیں بھی ان علامات سے آگاہ کیجیے کیونکہ ان افراد کے تعاون سے ہی ڈپریشن کا علاج ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ حاملہ خواتین کو ڈپریشن سے نکالنے کے لیے طبی معالج عام طور پر جو طریقے اپناتے ہیں ان میں سپورٹ گروپ کاؤنسلنگ، پرائیویٹ کاؤنسلنگ، سائیکو تھراپی، اینٹی ڈپریسڈ ادویات اور لائٹ تھراپی وغیرہ شامل ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں