لندن میں چاقو سے حملے

December 04, 2019
 

برطانیہ کے مختلف شہروں میں چاقو سے حملے کی وارداتیں کوئی نہیں بات نہیں، مگر مرکزی لندن میں ہونے والے حالیہ واقعات میں قاتل کی شناخت عثمان خان کے نام سے ہونا کوئی معمول کی بات نہیں ہے۔تیس نومبر کو عثمان خان نامی ایک شخص نے چاقو کے وار کرکے کئی افراد کو زخمی کیا اور پھر پولیس کی جوابی کارروائی میں گولی لگنے سے خود بھی مارا گیا۔ عثمان خان نے مرنے سے پہلے دو بے گناہ افراد کو ٹھکانے لگادیا تھا۔

یہ مجرم اس سے قبل بھی جیل کاٹ چکا تھا۔حالیہ واقعہ جس جگہ ہوا ،وہاں کیمبرج یونی ورسٹی کی کانفرنس ہو رہی تھی ،جس کا موضوع بھی قیدیوں کی بحالی سے متعلق تھا اور خود عثمان خان اس کانفرنس کے ایک مندوب کے طورپر وہاں موجود تھا۔اب برطانیہ کے حکام پر اس بات کی تنقید کی جا رہی ہے کہ اس شخص کو جیل سے ایک ماہ پہلے کیوں رہاکیاگیا تھا، گوکہ اس رہائی کی شرائط میں یہ بات شامل تھی کہ عثمان خان ایک الیکٹرونک ٹیگ لگا کر رکھیں گے جس سے پولیس ان کی آمدورفت کو نظر میں رکھے گی۔

اس واقعہ کے تقریباً چار گھنٹے بعد ہالینڈ کے شہر، ہیگ میں بھی اسی قسم کا حملہ ہوا جس میں ایک شخص نے چاقو سے حملے کرکے تین افراد کو زخمی کردیا۔ لندن میں اس حملے کی جگہ تقریباً وہی ہے جہاں جون 2017میں ایک حملے میں آٹھ افراد کو ہلاک کردیا گیا تھا،گوکہ پولیس اس حملے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دے رہی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ برطانیہ میں چاقو سے حملے کے ہر واقعہ کو دہشت گردی قرار نہیں دیا جاتا۔

مثال کے طورپر ایک سال کے عرصے میں برطانیہ میں چاقو سے حملوں کے چوالیس ہزار سے زیادہ واقعات درج کئے گئے، ان میں زیادہ تر واقعات لوٹ مار اور جنسی جرائم کے دوران سرزد ہوئے۔ خودبرطانیہ کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف گزشتہ بارہ ماہ کے دوران چاقو سے تقریباً دو سو چالیس قتل کئے گئے اور چار سو سے زیادہ اقدام قتل کے مقدمات درج کئے گئے۔ خاص طورپر بریگزیٹ کا ریفرنڈم ہونے کے بعد ان جرائم میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پانچ سال قبل ریفرنڈم سے پہلے چاقو سے ہونے والے حملوں کی تعداد تقریباً بائیس ہزار سالانہ تھی ،جو اب دگنا ہوکر چوالیس ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ صرف لندن میں ایک سال کے دوران 2018میں ایک سو بیس قتل ہوئے تھے جبکہ اس برس ستمبر تک صرف لندن میں ایک سو دس افراد کو چاقو سے قتل کیا جاچکا ہے، جن میں سے اکیس نوجوان ٹین ایجر تھے لیکن ان کی عمر انیس سال یا اس سے کم تھی۔

ان وارداتوں کا تعلق بریگزیٹ سے اس طرح بتایا جاتا ہے کہ، بریگزیٹ یعنی یورپی اتحاد سے برطانیہ کی علیحدگی کے فیصلے کے عوام پر دو طرح کے اثرات پڑے ہیں۔ ایک تو یہ کہ بریگزیٹ کی پوری مہم نے برطانوی عوام کو ایک طرح کے جنون میں مبتلا کردیا تھا۔ اس جنون کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ غیرملکی آکر برطانیہ کے لوگوں کی ملازمتیں ہتھیا،رہے ہیں جن سے برطانوی عوام کو نقصان ہورہا ہے۔ اس طرح بریگزیٹ کی مہم کے نتیجے میں عوام میں غیرملکیوں کے خلاف نفرتیں بڑھیں، دوسرا اثر یہ پڑا کہ، علیحدگی کے ریفرنڈم کے بعد معاشی صورت حال بہتر ہونے کے بجائے مزید خرابی کی طرف بڑھی اور لندن کے میئر صادق خان جو خود بھی پاکستانی نژاد ہیں ،کے مطابق اب برطانوی نوجوان بڑی مایوسی کا شکار ہیں۔

ان باتوں کا نتیجہ نفسیاتی مسائل اور تشدد کی طرف مائل رویوں کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کہہ رہے ہیں کہ وہ لندن میں پولیس افسران کی تعداد میں تین سال کے اندر بیس ہزار افراد کا اضافہ کریں گے، گوکہ بورس جانسن خود بریگزیٹ مہم کے بڑے علم بردار ہیں اور نفرتیں پھیلانے میں انہوں نے بھی خاصا کردار ادا کیا ہے،جب کہ حزب اختلاف کی لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ جرائم میں اضافے کی بڑی وجہ وہ کٹوتی ہے جو پچھلے دس سال میں ٹوری حکومت نے پولیس کے بجٹ میں کی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دس سال میں ٹوری پارٹی کے یہ تیسرے وزیراعظم ہیں۔ یعنی پہلے ڈیوڈ کیمرن، تھریسامے اور اب بورس جانسن۔

اعدادوشمار کے مطابق بورس جانسن جن بیس ہزار افراد کی بھرتی کا اشارہ دے رہے ہیں وہ دراصل اضافہ نہیں ہوگا کیوں کہ پولیس کے سربراہ کے مطابق اس وقت 2010کے مقابلے میں بائیس ہزار پولیس والے کم ہیں۔

ایک اور قابل غور پہلو یہ ہے کہ چاقو کے حملوں کی وجوہ میں لوٹ مار اور جنسی جرائم کے واقعات صرف نصف تعداد میں ہیں باقی آدھے حملے ایسے ہیں جن کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی، سوائے اس کے کہ رنگ اور نسل کی بنیاد پر نفرت کے باعث حملے کئے گئے۔

ایک اور تکلیف دہ اور پریشان کن پہلو یہ ہے کہ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ چاقو کے حملے زیادہ تر نوجوان کرتے ہیں مگر اب تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پچھتر فی صد حملے ان مجرموں نے کئے جن کی عمریںبیس سال سے زیادہ تھیں۔

ان جرائم کا ایک اور نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب پولیس زیادہ لوگوں کو روک کر تلاشی لینے لگی ہے۔ یعنی پولیس کو اب جو ذرا سا بھی مشتبہ نظر آتا ہے اس کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے ،کیوں کہ چاقو لے کر پھرنا جرم ہے۔ اب اس سے وہ لوگ مزید پریشانی کا شکار ہوتے ہیں جو مجرم نہیں اور جو اس تلاشی کے نتیجے میں بے عزتی محسوس کرتے ہیں اور ریاستی اہل کاروں کے خلاف بھی جذبات بھڑکنے لگتے ہیں۔ یہ سب ایک پریشان کن صورت حال کی طرف اشارہ ہے۔

اب ہم آتے ہیں حالیہ واقعے کی طرف جس میں عثمان خان نے دو افراد کو ہلاک اور تین کو زخمی کیا اور پھر خود مارا گیا۔ یہ شخص اس سے قبل بھی لندن اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی منصوبہ بندی میں شامل پایا گیا تھا، مگر پھر سے مشروط ضمانت پر جیل سے رہا کردیا گیا۔ عثمان خان جس وقت مارا گیا تو صرف اٹھائیس سال کا تھا اور اسے 2012میں یعنی سات سال قبل آٹھ سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ 2012میں عثمان صرف انیس سال کا تھا یعنی اس میں اس طرح کے جراثیم بہت کم عمری میں داخل ہوگئے تھے ،یہی کہاجاتا ہے کہ جراثیم مرتے نہیں ہیں۔

برطانیہ میں رہنے والے مسلمان کچھ تو مقامی معاشروں میں ضم ہوجاتے ہیں، جیسے کہ لندن کے میئر صادق خان، مگر بڑی تعداد ایسوں کی ہے جو تین نسلیں گزارنے کے بعد بھی خود کو الگ تھلگ رکھتے ہیں اور مقامی لوگوں کے کلچر اور رہن سہن کو بھی نفرت سے دیکھتے ہیں۔پھر افغانستان، عراق اور شام وغیرہ میں مغربی ملکوں کی کارروائیوں اور لاکھوں لوگوں کی اموات سے ایک غم و غصہ بھی بھرجاتا ہے جو اس طرح کے جرائم کا باعث بنتا ہے، لیکن کسی طرح بھی دہشت گردی کو جائز قرار دیا نہیں جاسکتا اور اب اس کے لئے خود برطانیہ کو بھی اپنی ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرکے آگے بڑھنا ہوگا۔