APC کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈا جائے

تجزیے اور تبصرے
December 26, 2019

بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں میں تیزی آگئی ہے ۔بھارتی فوج نے نہتے شہریوں پرفائرنگ کاسلسلہ شروع کررکھاہے ۔رواں ہفتے آزادکشمیر کے مختلف علاقوں میں کنٹرول لائن پرواقع سول آبادی کومسلسل نشانہ بنایاجارہاہے پاک فوج نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کرکے بھارتی افواج کو بھرپور جواب دیتے ہوئے ان خاصہ نقصان کیا ہے ۔ادھروزیراعظم آزادکشمیرنے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے متعلقہ محکمہ جات کے سربراہان کو الرٹ رہنے اور متاثرین کی ہرممکن بروقت امدادکے لئے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

وزیراعظم آزادکشمیرنے ہدایت کی ہے تباہ حال گھروں کے مالکان کوفوری طورپرمعاوضہ جات ادا کیے جائیں بھارت فوج کی جانب سے کی گئی فائرنگ کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بزدالانہ فعل قرار دیا ہے۔ ادھر آزاد کشمیر کی قیادت بھی بھارتی فوج کی جانب سے بلا جواز سول آبادی پرفائرنگ کی بھرپورمذمت کررہی ہے ۔

جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ سینٹرسراج الحق نے اسلام آباد میں منعقدہ کشمیرریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قوم کومایوس کیاہے اور اندرون خانہ کشمیر پر خفیہ معائدہ کیے جانے کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ حکومت پاکستان نے آج تک کشمیرپالیسی کااعلا ن نہیں کیااورنہ ہی پاکستان کی پارلیمنٹ کااس حوالے سے کوئی اجلاس طلب کیا۔سراج الحق جماعت اسلامی آزادکشمیر کے زیراہتمام نکالی گئی اس عوامی ریلی کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے جو اسلام آباد میں منعقدہواجس میں آزا ادکشمیرگلگت بلتستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے ہزاروں افراد نے اسلام آبادکشمیرمارچ میں شرکت کی۔

اس کشمیر مارچ سے صدرریاست آزادجموں و کشمیر سردار محمد مسعود خان نے بھی خطاب کیا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان نے واضح اوردوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ کوئی سازش یاخفیہ معائدہ یاایسے کرنے والوں کے گریبانوں پرقوم کے ہاتھ ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ کور کمانڈر کانفرنس کے بعد ہراعلامیہ کوکشمیری دیکھتے ہیں۔مگر اس وقت تک عملی طورپرکچھ نہیں ہواانہوں نے سوال کیاکہ حکمرانوں نے اس کانفرنس میں شرکت کیوں نہیں کی اورآخری گولی آخری فوجی کااعلان کرنے والے آج کہاں ہیں۔

اس کانفرنس سے جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر سردار خالد محمود نے بھی خطاب کیا۔ کشمیر مارچ کااہتمام ڈی چوک اسلام آبادمیں کیا گیا تھا اس کشمیرمارچ میں پورے ملک سے قافلوں کی شکل میں لوگوں نے شرکت کی ،اس کشمیرمارچ میں مطالبہ کیاگیاکہ تمام معائدات بشمول تاشقندلاہورختم کیا جائے۔بھارت کے لئے فضائی راستے بندکیے جائیں مقبوضہ کشمیرمیں قتل عام ہورہاہے اورہماری فضائوں سے بھارتی جہاز گزر رہے ہیں ہم ایسانہیں ہونے دیں گے ۔

قادیانیوں کواہم عہدوں سے ہٹایا جائے کشمیرکی آزادی کاواحدراستہ جہادہے۔اس اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ پرویزمشرف کے دورمیں جوچارسو پچاس کلو میٹر جو باڑلگائی گئی تھی اس کوفی الفور مسمار کیا جائے۔ آزاد کشمیر حکومت کو پوری ریاست جموں وکشمیرکونمائندہ حکومت تسلیم کیاجائے اوراسی حکومت کے زیراہتمام جہادکااعلان کیاجائے کیونکہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل جہاد ہے۔

کشمیرمارچ کی ریلی سے جن دیگرزعماء نے خطاب کیا ان میں صدر ریاست سردار مسعود خان، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر گلگت بلتستان ڈاکٹر خالد محمود خان، لیاقت بلوچ، سردار عبدالرشید ترابی، خاتون ایم ایل اے نسیمہ وانی،میاں محمد اسلم، امیر جماعت اسلامی خیبرپختوان خواہ سنیٹر مشتاق احمد، رکن قومی اسمبلی عبدالاکبرچترالی قابل ذکر ہیں۔ جماعت اسلامی نے کشمیرمارچ کے دوران چارٹر آف ڈیمانڈبھی پیش کیاحکومت پاکستان کو کہا گیا کہ اے پی سی طلب کرکے مسئلہ کشمیر کو واضح کیاجائے اقوام متحدہ کی قراردوں پرعملدرآمدکے لئے سکیورٹری کونسل اجلاس فوری طلب کیا جائے۔

آزادکشمیرگڈگورننس اوراعلی عہدوں پرتعیناتی کے لئے ایک پبلک سروس قائم ہے موجودہ پبلک سروس کمیشن کے ممبران کی مدت 26دسمبر کو ختم ہو رہی ہے پبلک سروس کمیشن سے لوگوں نے جو توقعات کر رکھتی تھی موجودہ پبلک سروس اس پر پورا نہیں اترا۔جس پرپبلک سروس کمیشن کے امتحان میں شامل ہونے والے طلباء اوران کے لواحقین سراپا احتجاج ہیں۔ان امیدواروں نے الزام لگایاہے کہ پبلک سروس کمیشن نے امیدواروں کی فائنل سلیکشن کرتے وقت بندربانٹ کی جاتی ہے ۔

چند روز قبل جو پانچ تعیناتیاں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ عہدوں پرکی گئی ہیں ان میں پبلک سروس کمیشن کے ممبران جن کے دورکاآخری ٹیسٹ انٹرویو تھا انہوں نے جاتے جاتے اپناحصہ وصول کیا اورممبران پبلک سروس کمیشن اور ذمہ داران نے ان اسامیوں پراپنے قریبی عزیزوں کوتعینات کروایا۔کہا جارہا ہے کہ ان ممبران نے جاتے جاتے کوٹے کے طور پر اپنا حصہ وصول کیا اور اپنی پسندکے امیدواروں کو تعینات کروانے کے اقدامات کیے جس پر امتحان میں شامل ہونے والے امیدواراحتجاج کررہے ہیں اور اس بندربانٹ کے ذریعے تعینات ہونے والوں کی تقرریاں منسوخ کرنے اور غیر جانبدار تعینات کرنے کامطالبہ کررہے ہیں۔