’لٹریسی ٹاور‘ شہر کے پانچ گھنٹہ گھروں میں سے ایک ہے

وادی مہران
January 07, 2020

آپ نے ملک کے مختلف شہروں میں موجود گھنٹہ گھر تو دیکھے ہی ہوں گے کیونکہ ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں کلاک ٹاورز موجود ہیں۔ پاکستان کے سابق دارالسلطنت اورسندھ کے موجودہ صدر مقام کراچی میں بارہ کلاک ٹاورز تھے جن میں اس وقت صرف تین بہتر حالت میں موجود ہیں باقی سب ناکارہ ہوچکے ہیں۔ کراچی کے بعد سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں ایک، دو، تین، یا چار نہیں بلکہ پانچ گھنٹہ گھرموجود ہیں۔ پاکستان کے کسی اور شہر میں اتنی بڑ تعداد میں کلاک ٹاورز نہیں ہیں۔

اس شہر کے پانچوں گھنٹہ گھر تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ویسے تو گھنٹہ گھر کسی بھی شہر کی شناخت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جب کہ ان کے اطراف سے راستے بھی نکلتے ہیں ۔ سکھر میں مرکزی گھنٹہ گھر کے علاوہ دیگر گھنٹہ گھر بتاریخی مقامات پر تعمیر کئے گئے ہیں۔ ملک کے دیگر شہروں میں موجود گھنٹہ گھر خوبصورت بھی ہیں مگر سکھر کے پانچوں گھنٹہ گھر اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں اور یہ پانچوں قدیمی گھنٹہ گھر ہیں۔

پہلا گھنٹہ گھر جو کہ شہر کے وسط میں موجود ہے اور اسے مرکزی گھنٹہ گھر بھی کہا جاسکتا ہے، ماضی میں یہ مارکیٹ ٹاور کے نام سے معروف تھا۔ دوسرا گھنٹہ گھر میر معصوم شاہ لائبریری ، تیسرا ریلوے سلیپر فیکٹری کے نزدیک، چوتھا میونسپل کارپوریشن کے دفتر میں اور پانچواں گھنٹہ گھر عید گاہ روڈ کے نزدیک ہے جو کہ’’ پیر الٰہی بخش لٹریسی ٹاور‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ گھنٹہ گھر اس حوالے سے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ اونچی پہاڑی پرتعمیر کیا گیا ہے۔

’’علمی ٹاور‘‘ پاکستان کے قیام سے قبل تعمیر کیا گیا تھا ۔ماضی میں جب علم کی شمع روشن کرنے اور جہالت کے خلاف جدوجہد کی تحریک شروع کی گئی تھی تو اس تحریک کے آغاز کے موقع پر یہ گھنٹہ گھر تعمیر کیا گیا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ’’ پیر الٰہی بخش لٹریسی ٹاور ‘‘علم کی شمع روشن کرنے کی جدوجہد کی علامت ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ 1939 میں سندھ کے وزیر تعلیم پیر الٰہی بخش تھے، ان کی جانب سے ہی علم کی شمع روشن کرنے کی تحریک شروع کی گئی تھی۔ اس تحریک کے ابتدائی مراحل میں سکھر کے اس پرفضا مقام پر عید گاہ کے سامنے والی ٹکری پر اس علمی ٹاور کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔

ایک سال تک تعمیری مراحل طے کرنےکے بعد 1940میں یہ کلاک ٹاور پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اس ٹاور کی تعمیر میں مخیر حضرات نے دل کھول کر چندہ دیا تھااور تعمیر مکمل ہونے کے بعد اسے جہالت کے خاتمے اور علم کے فروغ میں عظیم الشان خدما ت کے صلے میں اسے پیر الہیٰ بخش کے نام سے منسوب کردیا گیا۔ یہ ٹاور سطح زمین سے 110فٹ بلنداور 66فٹ چوڑا ئی میں۔

اس کے چاروں اطراف خوبصورت گھڑیال بھی لگے ہوئے تھے۔ عید گاہ کے سامنے والی ٹکری پر قائم ہونے والے اس علمی ٹاور پر ایک خوبصورت پارک اور پانی کا حوض بھی بنا ہواہے اور یہ تفریح کےلیے انتہائی اہمیت کا مقام ہے۔ سطح زمین سے110فٹ بلندہونے کے باعث لوگوں کی بڑی تعداداپنے اہل خانہ کے ہمراہ سیر و تفریح کے لئے اس مقام کا رخ کرتی ہے۔

اس میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے ہیں۔ لوگ یہاں خنک فضا سے لطف اندوز ہوتے ہیں جبکہ باغیچے میں کھلنے والے پھولوں کی مہک سےان کی طبیعت بھی سرشار ہوجاتی ہے۔ ٹاور کے نزدیک ہی ریلوے ورکشاپ کے بالا افسران کی جانب سے ایک پارک بنواکر بچوں کیلئے جھولہ اور چاڑھی بھی تعمیر کرائی گئی، ماضی میں اس پرفضاء مقام پر شہریوں کی بڑی تعداد اپنے اہل خانہ کے کے ہمراہ سیر و سیاحت کے لئے آیا کرتی تھی اور گھنٹوں تک اس پرفضاء مقام پر ہوائوں سے لطف اٹھایا کرتی تھی مگر انتظامیہ کی جانب سے قدیمی اہمیت کے حامل اس لٹریسی ٹاور (گھنٹہ گھر) کی طرف سے عدم توجہی کے باعث دیگر گھنٹہ گھروں کی طرح تاریخی اہمیت کا حامل یہ کلاک ٹاور بھی اپنی افادیت کھونے لگا ہے۔

سکھر کا وہ مقام جہاں پر ماضی میں شہریوں کا ایک ہجوم نظر آیا کرتا تھا مگر اب صورتحال اس قدر خراب ہوگئی ہے کہ گنتے کے صرف چند افراد ہی یہاں دکھائی دیتے ہیں کیونکہ پارک ویران ہوچکا ہے اور باغیچہ میں لگائے جانیوالے پھول بھی دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث مرجھاگئے ہیں، پیر الاہی بخش لٹریسی ٹاور پر نصب گھڑیال بھی بند پڑے ہیں، ہاں اتنا ضرور ہوتا ہے کہ جب کوئی قومی تہوار آتا ہے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے اتنی زحمت ضرور کی جاتی ہے اس ٹاور کو برقی قمقموں سے سجادیا جاتا ہے، 1962میں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے علمی ٹاور کو بہتر بنانے کے لئے کام بھی شروع کیا گیا تھا اور بند ہونیوالے گھڑیالوں کی مرمت بھی کرائی گئی تھی مگر اس کے بعد پھر دوبارہ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اس کی رونق ختم ہوتی گئی۔

اسی طرح شہر کا مرکزی گھنٹہ گھر جو کہ ماضی میں مارکیٹ ٹاور کے نام سے پہچانا جاتا تھا اور اسکے بھی چاروں اطراف گھڑیال لگے ہوتے تھے، مارکیٹ ٹاور 90فٹ اونچا ہے اور 1937 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ پیر الاہی بخش لٹریسی ٹاور، مارکیٹ ٹاور کے علاوہ میر معصوم شاہ لائبریری ٹاور، سلیپر فیکٹری ٹاور اور میونسپل کارپویشن کے دفتر میں قائم ٹاور بھی اپنی الگ الگ تاریخ رکھتے ہیں اور ان ٹاورز کی تعمیر کسی خاص مقصد کے تحت ہی عمل میں لائی گئی تھی، تاکہ ان ٹاورز کو دیکھ کر لوگوں کو اپنا ماضی یاد رہے اور وہ اپنے بچوں کو اپنے آبائو اجداد کے حوالے سے درست معلومات فراہم کرسکے۔

ماضی میں یہ پانچوں گھنٹہ گھر سکھر شہر کی پہچان تصور کیے جاتے تھے اور آج بھی جب بیرون شہر سے لوگ اپنے رشتہ داروں، دوست و احباب سے ملنے آتے ہیں اور جب وہ یہ سنتے ہیں کہ سکھر جیسے شہر میں پانچ گھنٹہ گھر موجود ہیں تو ان کی حیرت کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا اور پھر وہ اصرار کرتے ہیں کہ ہمیں پانچوں گھنٹہ گھر دیکھا جائے، جس پر میزبان بیرون شہر سے آنیوالے اپنے مہمانوں کو سکھر شہر میں واقع پانچوں گھنٹہ گھر کی سیر کراتے ہیں۔

ماضی میں ان گھنٹہ گھروں کی اہمیت اس لئے بھی بہت زیادہ تھی کہ ان گھنٹہ گھروں کے چاروں کونوں پر خوبصورت گھڑیال لگے ہوتے تھے جو کہ ہر ایک گھنٹے کے بعد ٹن ٹن کی زور دار آواز کے ساتھ بجا کرتے تھے، ٹن ٹن کی یہ زور دار جادوئی آواز جب شہر میں گونجا کرتی تھی تو لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرلیا کرلیتی تھی اور لوگوں کی بڑی تعداد اپنی گھڑیوں کو ان گھنٹہ گھروں کی گھڑیال کے وقت سے درست کیا کرتے تھے۔

جبکہ ایسے افراد جن کے پاس گھڑیاں نہیں ہوتی تھی وہ ان گھنٹہ گھروں پر نصب گھڑیال سے وقت دیکھ کر اپنے کام کاج پر جایا کرتے تھے۔ مگر افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ضلعی و میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کی عدم توجہی و لاپرواہی کے سبب قدیمی اہمیت کے حامل یہ پانچوں گھنٹہ گھر اپنی افادیت کھوبیٹھے ہیں، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پانچوں گھنٹہ گھروں پر نصب گھڑیال غائب ہوچکے ہیں اور انتظامیہ کو اس بات کا علم تک ہی نہیں کہ ان گھنٹہ گھروں کے گھڑیال آخر کون اور کب لیکر گیا ہے۔

جمعیت علماء پاکستان کے صوبائی صدر مفتی محمد ابراہیم قادری، مشرف محمود قادری، جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالحق مہر، شہری اتحاد کے چیئرمین مولانا عبیداللہ بھٹو ابن آزاد، سکھر اسمال ٹریڈرز کے صدر حاجی ہارون میمن، سکھر ڈویلپمنٹ الائنس کے چیئرمین حاجی جاوید میمن، غلام مصطفی پھلپوٹو، سنی تحریک کے رہنما حافظ محبوب علی سہتو، پاکستان سنی تحریک کے رہنما رضوان قادری، ملک فلاحی جماعت کے صدر ملک محمد جاوید، راجپوت بندھانی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے حاجی شریف بندھانی، عبدالجبارو دیگر نے قدیمی اہمیت کے حامل گھنٹہ گھروں کی حالت زار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکھر شہر میں کروڑوں اور اربوں روپے کے ترقیاتی کام کرائے جانے کے دعوے تو بہت کئے جارہے ہیں مگر وہ مقامات جو کہ ماضی میں سکھر کی پہچان سمجھے جاتے تھے ان کی حالت زار دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔

سکھر کے پانچوں قدیمی تاریخی گھنٹہ گھر آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں لیکن ان میں نصب گھڑیال جو کہ گھنٹہ گھروں کی جان تصور کیے جاتے تھے وہ وہ ناکارہ ہونے کے باعث یہ خوبصورت عمارتیں اپنی افادیت کھوچکی ہیں، اگر ان گھنٹہ گھروں پر تھوڑی رقم خرچ کرکے ان کی حالت زار بہتر بنائی جائے تو آج بھی گھنٹہ گھروں میں نصب گھڑیال اپنی آواز کے جادو سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکتے ہیں۔

انتظامیہ اگر سنجیدگی سے ان گھنٹہ گھروں کی تزئین و آرائش کے کام پر توجہ دے تو ماضی کے یہ خوبصورت گھنٹہ گھر اپنی پرانی حالت میں بحال ہوسکتے ہیں، جس سے نہ صرف شہریوں کو تفریح کے بہترین مواقع میسر آئینگے بلکہ سکھر کے یہ پانچ گھنٹہ گھر بیرون شہر سے آنیوالے لوگوں کی توجہ کا خاص مرکز بھی بن سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر بلدیات، صوبائی وزیر ثقافت و دیگر بالا حکام سکھر میں موجود پانچوں گھنٹہ گھروں کی زبوں حالی کا نوٹس لیکر ان کی تزئین و آرائش کا کام کرائیں۔