فلورنس... حیرت انگیز تعمیرات کا شہر

تعمیرات
January 12, 2020

فلورنس وسطی اٹلی کا شہر اور ٹسکانی علاقے کا دارالحکومت ہے۔ اس کی آبادی 2017ء میں پونے چار لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ فلورنس قرون وسطیٰ کے دور میں یورپی تجارت اور مالیات کا مرکز تھا اور اس کا شمار سب سے امیر شہروں میں ہوتا تھا۔ بہت سے ماہرینِ تعلیم اس کو نشاۃ ثانیہ کی جائے پیدائش اور "قرون وسطیٰ کا ایتھنز" کہتے ہیں۔

اس کی ہنگامہ خیز سیاسی تاریخ میں طاقتور میسیڈی خاندان کے ادوار کی حکمرانی اور متعدد مذہبی و جمہوری انقلابات شامل ہیں۔1865ء سے1871ء تک اس شہر کو اٹلی کےشاہی دارالحکومت کی حیثیت حاصل رہی۔

یہ شہر ہر سال لاکھوں سیاحوں کو راغب کرتا ہے جبکہ یونیسکو نے 1982ء میں فلورنس کے تاریخی مرکز کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ یہ شہر اپنی ثقافت ، نشا ۃثانیہ آرٹ، فن تعمیر اور یادگاروں کے حوالے سے مشہور ہے۔

اس شہر میں متعدد عجائب گھر اور آرٹ گیلر یاں ہیں، جیسے یوفیزی گیلری اور پلازو پیٹی۔ یہ شہر اب بھی آرٹ ، ثقافت اور سیاست کے میدانوں میں اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ فلورنس کے فنی اور تعمیراتی ورثے کی وجہ سے ، فوربس نے اسے دنیا کے خوبصورت شہروں میں شمار کیا ہے۔

پالازو ویچیو

پالازو ویچیو (Palazzo Vecchio) فلورنس کا ٹاؤن ہال ہے، جس کا مطلب ہے پرانا محل۔ اصل میں یہ پالازو ڈیلا سیگوریا کہلاتا ہے مگر تاریخ میں اس محل کو متعدد دوسرے ناموں سے بھی جانا جاتا رہا ہے۔1299ء میں فلورنس کے لوگوں نے ایک ایسا محل تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا، جو شہر کی اہمیت کو اجاگر کرےاور یہ ہنگامہ آرائی کے وقت مجسٹریٹ کے لئے زیادہ محفوظ ہو۔

مکعب نما یہ محل مضبوط اور ناہموار پتھر کے کام سے بنا ہے، جس میں روشنی اندر لانے والی گوتھک کھڑکیوں کی دو قطاریں ہیں، جن میں سے ہر ایک پرقوس بنی ہوئی ہے۔ اس میں مائیکل اینجیلو کے ڈیوڈ مجسمے کی ایک کاپی اور ملحقہ لوگیا دی لینزی میں مجسموں کی گیلری موجود ہے۔

اس محل کو1965ء سے1971ء کے دوران متحدہ اٹلی کی عارضی حکومت میں اس وقت بہت اہمیت ملی جب فلورنس شہر اٹلی میں بادشاہت کا عارضی دارالحکومت بن گیا۔ اگرچہ اب پالازو ویچیو ایک عجائب گھر ہے ، لیکن یہ مقامی حکومت کی علامت اور مرکز کے طور پر باقی ہے۔

فلورنس کیتھڈرل- ڈوومو

فلورنس میں فن تعمیر کے سب سے زیادہ متاثر کن شاہکاروں میں سے ایک فلپونو برونیلیسی کا سحر انگیز کیتھڈرل ہے، جو فخریہ طور پر اٹلی کے سب سے بڑے ڈوومو (Duomo) کا اعزاز رکھتا ہے۔ در حقیقت ، یہ اتنا بڑا ہے کہ اسے مکمل ہونے میں 140سال لگے۔ فلورنس کے معماروں نے 1294ء میں بڑے پیمانے پر اس کا اسٹرکچر بنانا شروع کیا۔

وہ جانتے تھے کہ وہ اس اطالوی علاقے میں موجود گرجا گھروں کےمقابلے میں اسے سب سے بڑا بنانے والے ہیں۔ انہوں نے اس کی تعمیر کا آغاز تو کردیا لیکن انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ سے یہ کیتھڈرل کئی عشروں تک بغیر گنبد کے قائم رہا۔ آخرکار1436ءمیں اسے مکمل کرلیا گیا۔ یہ یقینی طور پر اتنا ہی حیرت انگیز ہے جتنا کہ 600سال پہلے تھا۔

باسیلیکا آف سان لورینزو

کلیسیا کا اصل ڈھانچہ فلورنس کی قدیم نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اس کے زنگ آلود اور نوکیلے پتھر کے ٹکڑوں سے محسوس ہوتا ہے کہ آج تک اسے کسی نے ہاتھ نہیں لگایا۔

باسیلیکا، پوری نشاۃثانیہ کے دوران فلورنس کے میڈیکی گھرانے کا چرچ تھا۔1400ء کی دہائی کے اوائل میں جیوانی ڈی بیچی ڈی میڈیکی نے چرچ کی تعمیر کا آغاز کیا ، جسے فیلیپو برونیلسی نے ڈیزائن کیا تھا، اس کے بعد متعدد افراد نے اس میں ترمیم کی۔

شاید ان میں سب سے مشہور اضافہ مائیکل اینجیلو بوناروٹی نے کیا۔ باسیلیکا آف سان لورینزو (Basilica of San Lorenzo)کے بارے میں کہا جاتاہے کہ نشاۃ ثانیہ کے فن تعمیر میں ا س کی ہم آہنگی اور نیرنگی انتہائی متاثر کن تھی۔

گیلریا ڈیگلی اوفیزی

بے پناہ ہجوم کے باوجود آپ اوفیزی گیلری (Galleria degli Uffizi) دیکھنے سے محروم نہیں رہ سکتے۔ یہ فلورنس کا سب سے مشہور میوزیم اور اٹلی کی سب سے مشہور آرٹ گیلریوں میں سے ایک میڈیسیا کا انتظامی مرکز تھا۔ اس میوزیم کی سیر کرنا یقیناً فلورنس کے دورے کی ایک خاص بات ہوتی ہے۔ اندر جاکر آپ دنیا کے کچھ اہم فنکاروں ، جیسے مائیکل اینجلو، رافیلو، ٹیزانو اور بوٹیسیلی کے تخیلقی فن پاروں میں گھنٹوں مستغرق رہیں گے۔ یہ عمارت خود آرٹ کا ایک نمونہ ہے اور یہاں سے پونٹے ویچیو اور دریائے آرنو کا زبردست نظارہ آپ کے سامنے ہوتا ہے۔

پونٹے ویچیو

پونٹے ویچیو(Ponte Vecchio) یا اولڈ برج ، ایک حیرت انگیز محراب والا پل ہے، جو اپنے تنگ ترین مقام پر دریائے آرنو پر بناہواہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سلطنت روم میں بنایا گیا پہلا پل ہے لیکن اس کا ذکر پہلی بار996ء میں ملتا ہے۔

اصل میں لکڑی سے تعمیر کیا گیا یہ پل 1333ء کے سیلاب میں تباہ ہوگیا تھا، پھر اسے پتھر سے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ پونٹے ویچیو فلورنس کا واحد پل ہے، جو دوسری جنگ عظیم کے دوران تباہ نہیں ہوا تھا۔ اس کے مشہور ہونے کی ایک اور وجہ یہاں موجود زیورات کی بے شمار دکانیں ہیں۔