| |
Home Page
ہفتہ 27 ربیع الاوّل 1439ھ 16 دسمبر2017ء
November 29, 2017 | 10:28 pm

وفاقی حکومت کہیں نظر نہیں آرہی ، سپریم کورٹ

The Federal Government Does Not Look Supreme Court

The Federal Government Does Not Look Supreme Court

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتی حکم باوجود غیر قانونی تعمیر ختم کیوں نہیں کی گئیں،وفاقی حکومت کہیں نظر نہیں آرہی ،جو کام نہیں کرسکتے وہ استعفیٰ دیدیں۔

اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے اور مارگلہ ہلز میں درختوں کی کٹائی کے از خود نوٹس کیس کی سماعت، سپریم کورٹ کے جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاالاحسن پر مشتمل 2رکنی بینچ نے سماعت کی ۔

جسٹس عظمت شیخ نے دوران سماعت ریمارکس دیے اور کہا کہ کیاغیرقانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے بھی حکومت اب کوئی معاہدہ کرے گی؟

اس موقع پر وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری نے عدالت سے ایک ہفتے کی مہلت دینے کی استدعا کی اور کہا کہ وہ ایک ہفتے میں عدالت کے سامنے ایکشن پلان پیش کردیں گے ،دو رکنی بنچ نے استدعا منظور کرلی ۔

جسٹس عظمت سعید نے دوران سماعت وزیر کیڈ سے کہا کہ سیاست کے علاوہ بھی حکومت کی کئی ذمہ داریاں ہیں، ناکامی ہوئی توآپ پر بہت انگلیاں اٹھیں گی اور بھی کئی معاملات میں احتیاط سے کام لیں ، امیدہے میری ان کہی بات سمجھ گئے ہوں گے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ کام نہیں کر سکتے تو استعفا دے دیں ، وفاقی حکومت کہیں نظر نہیں آرہی ، کیا غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے بھی حکومت اب کوئی معاہدہ کرے گی ، آخرمیں آپ نے کہنا ہے فوج بلا دیں ۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا ہم نے کبھی کسی منتخب نمائندے کوعدالت میں نہیں بلایا، ہم تو منتخب کونسلر کی بھی بہت عزت کرتے ہیں، غیرقانونی پلازوں کے مالکان کاپتاکریں کارروائی نہ ہونے کی وجہ سامنے آجائے گی، آپ آئے ہیں ہم آپ کو سن لیں گے ،عدالتی حکم کے باجود غیرقانونی تعمیرات کیوں ختم نہیں کی گئیں؟

جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا ریاست کی رٹ وفاقی دارلحکومت میں سب سے زیادہ ہوتی ہے ،وفاقی حکومت کہیں نظر نہیں آرہی ۔

دوران سماعت سی ڈی اے کے وکیل منیرپراچہ نے کہا کہ فیض آباد پر دھرنے کی وجہ سے پولیس دستیاب نہیں تھی اس لئے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن نہیں کر سکے،جس پر جسٹس اعجاالاحسن نے کہا جہاں پولیس دستیاب تھی وہاں اس نے کیاکرلیا؟ غیرقانونی تعمیرات دن بدن بڑھتی جارہی ہیں۔

سی ڈی اے کے وکیل نے کہا مزاحمت شدید ہوتی ہے،پولیس کی مددکے بغیرآپریشن نہیں کرسکتے ،عدالت کے گزشتہ حکم نامے میں معمولی غلطی تھی ۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا ہم تو ہمیشہ غلط آرڈر پاس کرتے ہیں، فرشتے توسی ڈی اے والے ہیں ، عدالتی احکامات کوساس بن کرنہ دیکھاکریں۔

جسٹس شیخ عظمت نے وزیر کیڈطارق فضل چوہدری سے کہا ججزڈنڈے لے کرمارگلہ ہلزخالی نہیں کرواسکتے ،قانون پرعمل کرواناہماراکام ہےناراض نہ ہواکریں، عدالت حکومت پراعتماد کرتی ہے،حکومت شاید عدالت پراعتبار کرنے کوتیارنہیں ہے۔

طارق فضل چوہدری نے عدالت سے ایک ہفتے کی مہلت کی استدعا کی کہا ایک ہفتے میں عدالت کوایکشن پلان پیش کریں گے، عدالتی حکم پر عمل کریں گے۔

عدالت نے وزیر کیڈ کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 7 دسمبرتک ملتوی کردی۔