• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کل 99 فیصد اسکرپٹ ’ردی‘ لکھے جارہے ہیں، نادیہ افگن

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر اداکارہ نادیہ افگن نے کہا ہے کہ آج کل 99 فیصد اسکرپٹ ʼردی لکھے جا رہے ہیں، جن میں روایتی اور دقیانوسی کہانیوں کو پیش کیا جا رہا ہے۔نادیہ افگن نے یہ بھی کہا کہ اب انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ کم مگر اچھا کام کریں گی۔ایک انٹرویو میں نادیہ افغان نے کہا کہ انہیں آج تک ایسے ہی کردار دیے جاتے ہیں، جنہیں وہ اچھے انداز میں نبھاتی ہیں۔ان کے مطابق اگر انہوں نے کسی منفی کردار کو اچھے انداز میں کیا ہوتا ہے تو پھر مسلسل انہیں منفی جب کہ اگر انہوں نے کوئی کامیڈی کردار بہتر طریقے سے نبھایا ہوتا ہے تو انہیں مزاحیہ کردار ملنے لگتے ہیں۔نادیہ افگن نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ کچھ منفرد کام کریں اور انہیں کوئی طاقتور کردار ملے اور جو اداکاری کے قابل ہو۔اداکارہ نے بتایا کہ اب ان کے پاس زیادہ تر دقیانوسی قسم کے اسکرپٹ آتے ہیں، جن میں ساس اور بہو کے جھگڑے، بری نند اور خواتین کی تکرار کو پیش کیا جا رہا ہوتا ہے اور انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ایسا کیوں ہے؟نادیہ افگن کا کہنا تھا کہ انہوں نے دیگر دوستوں کے ہمراہ لاہور سے اداکاری کا آغاز کیا ۔انہوں نے حالیہ دور کے اسکرپٹس کو 99.9 فیصد ردی اور بوگس قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو تھوڑے بہت اچھے ڈرامے بن رہے ہیں، ان کی یا تو کوئی ریٹنگ ہی نہیں آتی یا پھر انہیں شائقین دیکھنا نہیں چاہتے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈراما انڈسٹری کو اس وقت اچھی اور مثبت سوچ کی ضرورت ہے اور خصوصی طور پر عورتوں کے مضبوط کردار تخلیق کرکے معاشرے کو اچھا پیغام دیا جانا چاہیے۔خیال رہے کہ نادیہ افگن اب تک 4 درجن کے قریب ڈراموں اور فلموں میں کام کر چکی ہیں اور حالیہ دور میں ’سنو چندا، سمی اور پری زاد سمیت دل ناداں‘ جیسے ڈراموں میں ان کی اداکاری کو سراہا گیا۔

دل لگی سے مزید