• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یکساں تعلیمی نصاب احسن اقدام … مگر

کھلا تضاد … آصف محمود براہٹلوی
کسی بھی ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں پوری قوم کا متحدومتفق ہونا ناگزیر ہے تب ہی جاکر وہ قوم ملک کی تعمیر و ترقی میں یکساں طور پر خدمات سرانجام دے کر اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یکساں تعلیمی نصاب اس میں کلیدی کردار کا حامل ہے۔ موجودہ حکومت سے ہزار اختلاف ہو سکتے ہیں بالخصوص انرجی کرائسز اور پٹرول کی روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی قیمتیں ،مہنگائی اور پھر روزمرہ کی اشیاء خوردونوش پر بڑ ھتے ہوئے بوجھ کے باعث ایک عام ورکنگ کلاس فیملی کا یقیناً جینا مشکل ہو گیا ہے۔ لیکن یکساں تعلیمی نصاب ان کی جانب سے ایک احسن اقدام ضرور ہے تاکہ ہمارے بچے جو قوم کے معمار ہیں آنے والے وقتوں میں ملک و قوم کی بھاگ دوڑ سنبھالیں گے ا ن کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ قومی نصاب ایک جیسا پڑھایا جائے تاکہ ایک پوری قوم پروان چڑھ سکے۔ ہمارے ہاں اس وقت طبقاتی تقسیم عام ہے ہر محکمہ ہر طبقہ تقسیم در تقسیم ہے۔ا سکول کی تعلیم کو دیکھیں تو عام بچوں میں یہ گفتگو سننے کو ملتی ہے کہ میں اچھےاسکول میں پڑھتا ہوں بڑے برانڈ کا پرائیوٹ اسکول ہے اور تم تو سرکاری ا سکول کے طالب علم ہو اور ہاں تم تو مدرسے میں پڑھتے ہو۔ مستقبل میں ملازمت کیلئے پبلک سروس کمیشن ٹیسٹ تو میں نے ہی پاس کرنا ہے تو اس طرح بچپن ہی سے احساس برتری اور احساس کمتری پروان چڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ پھر یکساں تعلیمی نصاب ہی قوم کے بچوں کے اندر جذبہ حب الوطنی کو پروان چڑھاتا ہے اس میں علاقائی یا صوبائیت کا تاثر ختم ہو جاتا ہے اور ایک جیسا نصاب سب طالب علم پڑھ کر جوان ہوتے ہیں یہی وہ بنیادی اقدام ہے جو ملکوں و قوموں کی ترقی کیلئے یکساں مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ پرائیوٹ اسکولز ہوں یا مدرسے یا پھر گورنمنٹ اسکولز ہوںسب پر یکساں تعلیمی نصاب لاگو ہونا چاہئے۔ حکومت مدرسے کے بچوں کو یا تو مدرسے میں ہی سٹاف اساتذہ مہیا کرے یا پھر قریبی حکومتی سرپرستی میں چلنے والےا سکولوں میں ان بچوں کو موقع دے تاکہ وہ بھی تعلیم حاصل کرسکیں یا پھر پرائیوٹ اسکول بھی مدرسے کے چند طلبہ کو اپنےا سکول میں تعلیم حاصل کرنے کا فری موقع دے تاکہ وہ بچے بھی یکساں تعلیمی نصاب کے ساتھ ساتھ یکساں مواقع سے مستفید ہو کر قومی دھارے میں شامل ہوسکیں۔ یکساں نصاب کا سنا تھا یکساں مارکنگ کا پہلی مرتبہ پتا چلا، یا پھر کورونا وائرس پنڈامک کی وجہ سے شفقتیں رنگ لائیں کہ سوشل میڈیا پر میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے نتائج کے بعد اشتہاروں کی ایسی بھرمار دیکھنے کو ملی کہ فلاں طالب علم نے 1100 گیارہ سو میں سے پورے گیارہ سو نمبر حاصل کرلئے یہ ممکن ہی نہیں ایک ریاضی کے پرچے میں پورے نمبر حاصل کئے جاسکتے ہیں یا پھر اردو یا انگلش میں دیئے گئے معروضی سوالات کے جوابات میں پورے نمبر آسکتے ہیں۔ بصورت دیگر دنیا کا کوئی قانون بھی پورے پورے نمبر دینے کو جسٹیفائیڈ نہیں کرسکتا، لازماً ایک ادھ نمبر کم آئے ہوں گے۔ ایک جانب ہم یکساں تعلیمی نظام متعارف کروا رہے ہیں اور دوسری جانب یکساں نمبر دینے کا نظام بھی۔۔۔ ہم قوم کے بچوں کو کس جانب دھکیل رہے ہیں۔ پھر پورے کے پورے نمبر حاصل کرنے والے طلبہ ضروری نہیں کہ وہ آنے والے دنوں میں میڈیکل، انجینئرنگ یا اکائونٹنگ میں سپیشل سیٹوں پر داخلے کیلئے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ پورے کے پورے نمبر حاصل کرنے والوں کے ذہن میں یہ احساس ابھر کر آتا ہے کہ ہم ناقابل شکست ہیں۔ لیکن انٹری ٹیسٹ میں فیل ہو جانے کی صورت میں مختلف سوالات جنم لیتے ہیں۔ اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ نمبر وں کے چکر سے نکل کر برطانیہ کےطرز کی طرح گریڈ اور سٹار، سٹارپلس سسٹم متعارف کروایا جائے۔ ہر ایک سبجیکٹ کے اپنے اپنے مارکنگ سسٹم ہو۔ بچوں کا امتحان میں مختلف طریقہ سے انیلیسسز Analysis ہوکوئی بچہ انتہائی ذہین ہوتا ہے لیکن وہ لکھنے میں کمزور ہوتا ہے کوئی سپیلنگ میں نمبرون ہوتا ہے لیکن جملہ سازی میں کمزور ہوتا ہے کسی کی اردو اچھی تو کسی کی ریاضی اچھی ہوتی ہے۔ پرفیکٹ تو صرف اوپر والی ذات ہے اس لئے ہمیں نمبروں کے چکروں سے نکل کر یکساں تعلیمی نصاب کے تحت بچوں کو یکساں مواقع مہیا کرکے انہیں یکسانیت کے ساتھ پروان چڑھانا ہوگا۔ پورے کے پورے نمبروں پر آہستہ آہستہ لگتا ہے امتحانی نظام پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں اس سے قبل کہ بہت تاخیر ہو جائے ہمیں اپنے مارکنگ نظام کو بہتر کرکے یکساں نصاب کے تعلیمی نظام کو پروان چڑاھنا ہوگا جو احسن اقدام ہے ۔
یورپ سے سے مزید