• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: ہم تین بھائی اوروالد صاحب ہیں ۔میں سب سے بڑا ہوں۔گھر اپنا ہے اوروالد کو اپنے والد سے ملا ہے۔والد صاحب کو مختلف امراض نے گھیرا ، اس لیے مجبوراً مجھے تعلیم چھوڑنا پڑی اور کاروبار کرنا پڑا ۔کاروبار میں نے ٹیوشن کےذریعے جمع کیے ہوئے پیسوں سے شروع کیا ۔کام میں برکت ہوئی اور آج سرمایہ اورزمینیں ہیں ۔

گاڑیاں بھی ہیں ۔والد کاکام ان کی بیماری کی وجہ سے ختم ہوگیا تھا۔الحمدللہ والد کا علاج ،دوائیاں،چھوٹے بھائیوں کاخرچ اور شادیاں سب کے اخراجات میں نے ہی کیے ہیں اوراللہ پاک توفیق دے تو میری سعادت ہوگی کہ میرا مال میرے والد پر خر چ ہو، مگر بھائیوں کا کہنا ہے کہ کاروبار میں ان کا بھی حصہ ہے، کیوں کہ بیٹے کا مال والد کا ہوتا ہے اور والد کے مال میں تمام اولاد کا حصہ ہوتا ہے۔ اس لیے سب کچھ والد کا شمار ہوگا اوروالد کے مال میں سب کو حصہ ملے گا۔اب اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ کیا مجھے سب کچھ تقسیم کرنا ہو گا؟بھائیوں کاکہنا ہے کہ انہوں نے معلوم کیا ہے کہ ان کا بھی میرے مال میں حصہ ہے۔

جواب: گھر تو والد کا ہے، کیوں کہ انہیں وراثت میں ملا ہے، مگر کاروبار اور اس سے جو کچھ اثاثے آپ نے بنائے ہیں، وہ تنہا آپ کی ملکیت ہیں۔ بھائیوں کا آپ کے کاروبار اورجائیداد کو والد کا قراردینا اوروالد کے واسطے اس میں حصے کا دعویٰ کرنا درست نہیں۔ شرعًا باپ بیٹے میں انتہائی قریبی رشتہ ہونے کے باوجود دونوں کی ملکیت جدا جدا ہوتی ہے، البتہ اگر اولاد محتاج ہو توانہیں باپ کے مال میں سے خرچ ملتا ہے اوراگر باپ تنگ دست ہو تو اس کے اخراجات بیٹے کے ذمہ ہوتے ہیں، مگر ایک دوسرے پرنان ونفقہ واجب ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ والد اور اولاد کے مال اورجائیداد میں کوئی فرق نہ رہے اورایک کی جائیداد دوسرے کی قرارپائے۔

جن صاحب سے بھائیوں نے معلوم کیا ہے بظاہر انہیں اور آپ کے بھائیوں کو یا تو ایک حدیثِ مبارک کا مفہوم سمجھنے میں مغالطہ لگا ہے، یا ایک فقہی جزئیے کی وجہ سے ان سے سمجھنے اور بیان کرنے میں چوک ہوئی ہے، حدیث شریف میں ہے: "تم اور تمہارا مال تمہارے والد کا ہے"۔ جمہور محدثینِ کرام اور فقہائے عظام نے دیگر نصوص (مثلًا:حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت کہ" ہر انسان اپنے مال کا زیادہ حق دار ہے، اپنے والد، اپنی اولاد اور تمام لوگوں سے) کو مدِنظر رکھ کر اس حدیث کا یہی مفہوم بیان کیا ہے کہ والد بوقتِ ضرورت اپنے بیٹے کے مال میں سے بقدرِ ضرورت خرچہ لے سکتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ والد اپنی اولاد کی کمائی کا مالک نہیں ہوتا، البتہ محتاجی کی صورت میں بقدرِ ضرورت اسے بیٹے کا مال استعمال کرنے کی اجازت ہے۔

یا پھر اس مسئلے سے اشتباہ پیش آیا کہ اگر والد کے شروع کیے ہوئے کاروبار کو بیٹا آگے بڑھائے تو وہ تمام اضافہ والد کے کاروبار کا ہی حصہ قرار پاتاہے، اور والد کی وفات کے بعد تمام ورثاء میں شرعی حصص کے بقدر تقسیم ہوتاہے۔

بہرحال اگر آپ کی ان صاحب سے ملاقات ہو تو انہیں عرض کردیجیے کہ آپ والد کے زیر کفالت نہیں ہیں، بلکہ والد آپ کے زیرِ کفالت ہیں اور بیٹے کا مال بطورِ ملک باپ کا نہیں ہوتا ، البتہ باپ ضرورت مند ہو تو اسے بقدرضرورت بیٹے کے مال میں سے لینے کا حق ہوتا ہے۔