• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ساتھ تین روز جاری رہنے والے مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہونے کے بعد حکومت نے پیر کی صبح اس کے گرفتار شدہ ساڑھے تین سو کارکن رہا کر دیے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے مطابق ان کے خلاف درج کئے گئے مقدمات بدھ تک واپس لے لئے جائیں گے۔ حکومت شیڈول فور کو بھی دیکھے گی اور فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا معاملہ قومی اسمبلی میں زیر بحث لایا جائے گا۔ کالعدم ٹی ایل پی کی شوریٰ نے حکومت کو اپنے مطالبات منظور کرنے کیلئے منگل کی شام تک کی مہلت دی تھی اور اس وقت تک اسلام آباد لانگ مارچ کے شرکا نے مریدکے ہی میں قیام کرنے کا اعلان کیا تھا، اب حکومت اور مظاہرین کے مطابق معاہدہ طے پا چکا ہے جس کے تحت لاہور کے بعد جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد کی شاہرات سے بھی رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں۔ پنجاب کے بعض بڑے شہروں میں راستے بند رہنے سے ان تین دنوں میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کورونا وبا کی شدت کے باعث تعلیمی ادارے جو کئی ماہ بعد کھولے گئے تھے اس دوران بند رہے۔ بڑی تعداد میں ملازمین دفاتر نہیں پہنچ سکے۔ ان شہروں کی حدود میں آنے والے کاروباری اداروں میں سرگرمیاں معطل رہیں جبکہ اسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز تک رسائی میں بھی مشکلات پیش آئیں۔ لاہور میں مظاہروں کے دوران کالعدم ٹی پی ایل کے کارکنوں کے ساتھ جھڑپوں میں دو پولیس اہلکار جاں بحق اور متعدد شہری زخمی ہوئے۔ اب پیر کے روز سے معمولاتِ زندگی بحال ہو چکے ہیں تاہم یہ انتہائی حساس معاملہ اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک دونوں طرف پائے جانے والے تحفظات دور نہیں ہو جاتے۔ بہتر ہوگا کہ حکومت اور مذہبی تنظیم میں ٹکرائو نہ ہو اور سارے معاملات افہام و تفہیم کے ساتھ طے کرتے ہوئے ان کی پاسداری یقینی بنائی جائے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین