• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نسلہ ٹاور گرانے کا فیصلہ عدالت کا ہے، ہم اتفاق نہیں کرتے، ایڈمنسٹریٹر کراچی

ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ نسلہ ٹاور گرانے کا فیصلہ عدالت کا ہے، سندھ حکومت اس سے اتفاق نہیں کرتی۔

مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر ہے کہ تمام اختیارات سندھ حکومت کے پاس ہیں مگر ایسا نہیں ہے، میں ماضی میں کے ایم سی کے خلاف غلط کام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کروں یا کام کروں؟

انہوں نے کہا کہ عدالت نے دوسرے اداروں کی عمارتوں سے متعلق بھی فیصلہ دیا تھا، اس فیصلے پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوتا عدالت سے پوچھیں، میں کام کرنے کو ترجیح دوں گا، میں کام کرنا چاہتا ہوں، کام کرکے اس ادارے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کروں گا۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی کا کہنا تھا کہ کارروائی کرنے کی کوشش کی تو لوگ عدالت سےحکم امتناع حاصل کرلیتے ہیں، جب مافیاز کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں تو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے، مجھے بھی دھمکیاں دی گئیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ کے ایم سی کے وسائل بڑھائے جائیں، ہم ٹیکس جمع کرنے جاتے ہیں تو اسد عمر ، عمران اسماعیل بیچ میں آجاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کل مجھےچیف جسٹس نے سپریم کورٹ بلایا تھا، مجھ سے سوالات پوچھے گئے کہ کراچی میں کیا ہورہا ہے، کوشش کی کہ سپریم کورٹ کی طرف سے پوچھےگئے سوالات کا جواب دے سکوں مگر مجھے عدالت میں بولنے نہیں دیا گیا، اگر بولنے دیا جاتا تو بتاتا کہ کے ایم سی نے کیا کیا۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ لیاری ایکسپریس وے کے ایم سی اور کراچی پولیس کے کنٹرول میں نہیں آتا، یہ ایکسپریس وے این ایچ اے کے کنٹرول میں آتا ہے، میں نے این ایچ اے سے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے پر ہیوی ٹریفک کی اجازت کیوں نہیں، گورنر صاحب نے بھی لیاری ایکسپریس وے کو ہیوی ٹریفک کیلئے استعمال کرانے کی کوشش کی مگر گورنر صاحب کی این ایچ اے نے بات نہیں سنی۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی نے بتایا کہ سندھ حکومت مختلف پروجیکٹس پر کام کررہی ہے، سینڈس پٹ روڈ، ماڑی پور روڈ کو سندھ حکومت نے بنایا، ان شاء اللّٰہ ہفتے کے روز وزیراعلیٰ سندھ منوڑہ روڈ کا افتتاح کریں گے، کراچی کی مختلف صنعتوں کی تعمیر کےلئے سندھ حکومت نےپیسے دیئے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہاکہ ذوالفقار آباد کا میرا چوتھا دورہ ہے، ہرجگہ میڈیا لے کر نہیں جاتا، میں نے پہلا وزٹ کیا تو بتایا گیا کہ سڑک خراب ہے، میں نے 60 روز میں اس سڑک کو بنوایا ہے، میرے آنے سے قبل اس ٹرمینل پر کے ایم سی کی زیرو روپے آمدن تھی۔

انہوں نے کہاکہ 60 روز میں کے ایم سی نے 25 لاکھ روپے آمدن کی ہے، کل جب ہمیں عدالت بلایا گیا تو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اہم اجلاس جاری تھا، اجلاس سندھ کے سب سے بڑے اکنامک زون سے متعلق تھا۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی کاکہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اجلاس میں ڈی سیلیٹیشن پلانٹ پر مشاورت ہوئی، اگلے دو سالوں میں یہ پانی کراچی والوں کو ملے گا، یہ خیالی باتیں نہیں بلکہ حقائق پر مبنی ہیں، کے ایم سی ساحلی پٹی پر 80 کروڑ روپے کی لاگت سے سڑک بنانے جا رہی ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ کراچی کے کسی علاقے میں گھر کا کرایہ 3 ہزار سے کم نہیں ہے، ہاکس بے پر ہٹس کا کرایہ 1400روپے رکھا گیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید