• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کالعدم تنظیم کا پھر اسلام آباد کی طرف مارچ


کالعدم تنظیم کے کارکنوں نے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کی طرف اپنے مارچ کا آغاز کر دیا ہے، مرید کے میں قیام کے بعد ان لوگوں کی اگلی منزل سادھوکی ہوگی۔

مارچ کے روٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والی مرکزی شاہراہوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔

فیض آباد انٹر چینج سے مریڑ چوک صدر تک مری روڈ دونوں اطراف سے کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے، چاندنی چوک سے فیض آباد تک مری روڈ پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔

رکاوٹوں کے باعث اسکول کالج جانے والے طلباء و طالبات پریشان ہیں، جڑواں شہروں میں نوکری پیشہ اور دیہاڑی دار مزدور مشکلات کا شکار ہیں۔

راستوں کی بندش سے مسافر پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں جبکہ مریضوں کا اسپتال جانا مشکل ہو گیا ہے۔

فیض آباد سے سکستھ روڈ تک پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، متبادل راستوں پر شدید ٹریفک جام ہے۔

راولپنڈی میں میٹرو بس سروس بند کر دی گئی ہے، اسلام آباد میں میٹرو سروس کھلی ہے۔

میٹرو بس کی انتظامیہ کے مطابق راولپنڈی میں صدر سے فیض آباد تک میٹرو سروس معطل کی گئی ہے، اسلام آباد میں آئی جے پی روڈ سے سیکریٹریٹ تک میٹرو بس چلے گی۔

میٹرو بس کی انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم کے متوقع احتجاج کے باعث میٹرو بس سروس پنڈی میں تا حکمِ ثانی بند رہے گی۔

ادھر گوجرانوالہ شہر کے دونوں اطراف جی ٹی روڈ آج چھٹے روز بھی بند ہے، سادھوکی کے مقام پر جی ٹی روڈ کو کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا ہے۔

پولیس نے کنٹینرز کے ساتھ مٹی ڈال کر پیدل گزرنے کے راستے بھی بند کر دیئے ہیں۔

دریائے چناب پل سے پہلے جی ٹی روڈ پر 12 فٹ چوڑی اور گہری خندق بھی کھودی گئی ہے، جس سے شہریوں کو آمد و رفت میں شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

دوسری جانب شیخو پورہ کے علاقے مرید کے جی ٹی روڈ پر کالعدم تنظیم کا احتجاج پانچویں روز بھی جاری ہے، سڑکوں کی بندش سے مسافروں اور اہلِ علاقہ کو شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

مرید کے میں مظاہرین نے جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف کے علاوہ نارووال اور شیخو پورہ جانے والی سڑک بھی بند کر دی ہے۔

سڑکوں کی بندش سے مسافر اور مقامی لوگ بھی شدید مشکلات سے دو چار ہیں۔

پولیس نے کالعدم تنظیم کی ریلی کو اسلام آباد جانے سے روکنے کے لیے نئی حکمتِ عملی کے تحت 6 اضلاع کی نفری مریدکے روانہ کر دی ہے۔

لاہور سے 15 ہزار پولیس اہلکار افسران سمیت مرید کے روانہ ہو گئے، 4 اضلاع کے ڈی پی اوز سمیت 6 افسران کی خدمات بھی آر پی او راولپنڈی کے سپرد کر دی گئی ہیں، تاکہ ریلی کو راولپنڈی میں داخل ہونے سے بہر صورت روکا جائے۔

قومی خبریں سے مزید