• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جُرم کی دُنیا میں یُوں تو جرائم پیشہ افراد کی کارروائیاں ایک فطری عمل سمجھا جاتا ہے ، لیکن اگر اس لسٹ میں قانون کے محافظ بھی شامل ہوں، تو یہ ایک چونکا دینے والی بات سمجھی جاتی ہے، کچھ ایسا ہی انکشاف پولیس کی اسپیشل برانچ نے کیا ہے، جس میں پورے سندھ سے تین سو بارہ پولیس افسران کے نام مشتہر کیے گئے ہیں۔ اس رپورٹ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ محکمہ پولیس میں اب تک جو بھی تطہیری عمل کیا گیا، وہ مکمل طور ناکام اور تمائشی ثابت ہوا اور محکمہ پولیس کے برج مہروں کی ناک کے نیچے یہ کالی بھیڑیں اپنا دھندا جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

اس سلسلے میں پولیس اسپیشل برانچ کی رپورٹ میں کراچی ،حیدر آباد، میرپور خاص ،سکھر ،لاڑکانہ اور ضلع شہید بے نظیر آباد میں بتایا گیا ہے کہ نشہ آور گٹکا ،ماوہ کا ذخیرہ اور اس کی سپلائی کرنے والے ایس ایچ او اور انسپیکٹر کے علاوہ ہیڈ کانسٹیبل کی سطع کے افسران بھی جو کہ تھانوں میں ہیڈ محرر کی پوسٹ پر تعینات اور تھانے کی حدود کے سیاہ و سفید کے مالک ہوتے ہیں۔ 

منشیات کی اس نئی قسم کی اسمگلنگ کے بادشاہ بنے ہوئے تھے۔ پولیس اسپیشل برانچ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان پولیس اہل کاروں میں کئی جبری طور پر ملازمت سے برخواست شدہ اہل کار بھی شامل ہیں، جو کہ مبینہ طور پر اپنے علاقہ کے ارکان اسمبلی کی جن کے نام اس رپورٹ میں شامل کیے گئے ہیں، کوآرڈینیٹر بنے ہوئے ہیں۔ اس بارے میں پولیس کے ایک اعلی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چرس اور ہیروئن کے بعد منشیات کی اب اس نئی قسم جس میں نشہ آور گٹکا ماوہ شامل ہیں، اس کے عادی افراد نہ ملنے پر ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگتے ہیں۔ 

اس کی ترسیل اور فروخت کی سرپرستی کرکے پولیس افسران کروڑ پتی بن چکے ہیں، دل چسپ بات یہ ہے کہ گٹکا اور ماوہ کے ٹرک کوئٹہ اور ملتان سے روانہ ہوکر پورے سندھ میں سپلائی دیتے ہوئے گزرتے ہیں تو اس کی فروخت کے دھندے میں ملوث ڈیلروں کو تو مال آنے کی اطلاع مل جاتی اور محکمہ پولیس کے علاوہ اس کی روک تھام کے لیے قائم دیگر محکموں جن میں محکمہ ایکسائز ،کسٹم ،اینٹی نارکوٹکس کے علاوہ دیگر خفیہ محکمے بھی شامل ہیں، کیوں خواب خرگوش کے مزے لے رہے یا اس کی ترسیل میں شامل ہوکر مال بنا رہے ہیں۔ 

اس سلسلے میں ڈی ایس پی ،سی آئی اے محمد مبین پرھیار نے بتایا کہ نشہ آور گٹکا ،زیڈ اکیس اور رتنا بنانے کا مٹیریل ملتان سے آرہا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس کی تصدیق کچھ عرصہ قبل پکڑے جانے والے ٹرک کے ڈرائیور اور اس کے ساتھ موجود اسمگلر نے اعتراف کیا کہ وہ اس کاروبار کو ملتان کی ایک بڑی شخصیت کے بیٹے کی آشیر باد اور سرپرستی سے جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

اس بارے میں ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ٹرک میں موجود اسمگلر اور ڈرائیور کا یہ بیان بھی میڈیا کے سامنے دیا جاچکا ہے کہ انہیں نواب شاہ سے قبل خیرپور میں پولیس نے پکڑا اور دس گھنٹے کے بعد مال سمیت جانے دیا اور یہ سودا کتنے میں طے اس کی وڈیو بھی وائرل ہوچکی اور ایسا کیوں کر ممکن ہوا اس راز کو اب پولیس اسپیشل برانچ کی رپورٹ نے طشت از بام کردیا ہے۔

ادھر اس بارے میں رابطہ کرنے پر ایس ایس پی کیپٹن ریٹائرڈ امیر سعود مگسی نے جنگ کو بتایا کہ ضلع شہید بے نظیر آباد میں انہوں نے دس پولیس اہل کاروں کو جو کہ نشہ آور گٹکا ماوہ کی اسمگلنگ میں ملوث پائے گئے، کی ملازمت ختم کردی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس زہر کو ہماری نوجوان نسل کی رگوں میں داخل کرکے انہیں کینسر جیسے لا علاج مرض میں مبتلا کررہے ہیں، اس کی روک تھام کے لیے مزید سخت قوانین کی بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جس طرح ہیروئن ،چرس اورافیون کی اسمگلنگ کرنے والوں کے خلاف زیر دفعہ 9C کے تحت مقدمہ کا اندراج اور جُرم ثابت ہونے پر عمر قید،پھانسی اور جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے۔ اس کا اطلاق اب نشہ آور گٹکا ،ماوہ کی فروخت پر بھی کیا جانا ناگزیر ہو چکا ہے جبکہ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ دیکھا گیا ہے کہ گٹکا،زیڈ اکیس اور ماوہ کی کھیپ پکڑے جانے کے بعد اس کو نذرِ آتش کرنے کے بہ جائے تھانوں میں موجود مال خانوں میں رکھ دیا جاتا اور بعد ازاں مبینہ طور پر مک مکا کرکے مال ڈبہ کردیا جاتا ہے۔ 

اس بارے میں یہ بھی شنید جو کہ اب پولیس اسپیشل برانچ کی رپورٹ کے بعد سچ ثابت ہوچکی ہے کہ منشیات فروشوں کی کلائی مروڑنے کے ساتھ ساتھ اب خود محکمہ پولیس ،ایکسائز اور کسٹم و اینٹی نارکوٹیکس جو کہ بھاری بجٹ اور وسائل کی فراوانی کے باوجود اپنی ناقص کارکردگی کے باعث اب خزانے پر بوجھ بن چکے ہیں اور اس میں بھرتی ملازموں کی اکثیریت جو کہ سیاسی رشوت کے طور پر بااثر سیاسی خانوادوں کے بیٹے ،بھتیجوں ،بھانجوں پر مشتمل ہے کو فارغ کرکے خزانے پر بوجھ کو کم کیا جائے اور اس کے مقابلے میں ان محکموں کے اہل اور دیانت دار ملازمین کی ترقی اور ان کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرکے اور ان کے ہاتھ کھول کر جرائم کے خاتمہ کے لیے انہیں فری ہینڈ دیا جائے۔ 

ادھر پولیس اسپیشل برانچ کی رپورٹ کے بعد ایس ایس پی حیدرآباد ساجد امیر سدوزئی اور ایس ایس پی ضلع شہید بے نظیر آباد امیر سعود مگسی نے پولیس افسران اور اہل کاروں پر گٹکا ماوہ کھانے پر پابندی عائد اور اس کے عادی پولیس حکام کا طبی معائنہ کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔

تاہم اب اصل امتحان حکومت سندھ اور آئی جی پولیس مشتاق مہر کا ہے کہ وہ محکمہ پولیس میں منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرنے والے پولیس کی وردی میں چھپے اہلکاروں سے اس نیک نام ادارے کو جو کہ مظلوم کی داد رسی کے لیے قائم کیا تھا کو پاک کرکے معاشرے میں قانون کی بالادستی اور امن وامان کے قیام کے ساتھ ساتھ برائی کے خاتمہ کے لیے کیا اقدام کرتے ہیں۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید