• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گاڑیوں کے خریدار ’’اون‘‘ کی مد میں 170ارب روپے تک دینے پر مجبور

اسلام آباد (مہتاب حیدر)پاکستان میں گزشتہ 5؍ سال کے عرصہ میں صارفین کو ’’اون‘‘ کی مد میں 150؍ ارب سے 170؍ ارب روپے تک ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ سینئر ریسرچ اکنامسٹ ڈاکٹر عثمان قادر اور پی آئی ڈی ای کے اسٹاف اکنامسٹ شاف نجیب کی تحقیق کا حاصل ہے۔ آٹو صنعت پر چند اداروں کی اجارہ داری ہے جن میں ہنڈا، انڈس موٹرز اور پاک سوزوکی موٹرز شامل ہیں۔ جبکہ اس صنعت میں نووارد کیا، ہائیونڈائی، ایم جی، چھنگن اور پروٹان کو مارکیٹ میں ابھی اپنا سکہ جمانا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 80؍ سے 90؍ فیصد مسافر گاڑیاں ’’اون‘‘ پر فروخت کی جاتی ہیں۔ یہ منتقلیاں غیر دستاویزی رہتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں گاڑیوں کی قلت کے باعث کاروں کی فوری فراہمی کے عوض ڈیلرز گاڑیوں کی اصل قیمت سے زائد ’’اون‘‘ کے نام پر پریمیم وصول کرتے ہیں۔ رسد اور طلب میں وسیع خلیج نے اس اضافی وصولی ’’اون‘‘ کو جنم دیا۔ رپورٹ میں مزید بتایاگیا ہے کہ 2000ء کی ابتدا ہی سے بینکوں کی جانب سے کار فنانسنگ سروسز کے نتیجے میں گاڑیوں کی فروخت میں تیزی سے اضافہ ہوا جس سے رسد اور طلب میں خلا کو مزید وسعت دی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’اون‘‘ کے پیچھے گاڑیوں کی پیداوار میں کمی ہے۔ پاکستان میں گزشتہ 5؍ سال کے عرصہ میں 10؍ لاکھ سے بھی کم گاڑیاں تیار ہوئیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں گاڑیوںکی مقامی پیداوار میں اضافے پر زور دیتے ہو ئے پہلے مرحلے میں ’’اون‘‘ ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

تازہ ترین