• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذیابطیس اور تمباکو نوشی پاکستان میں سالانہ ساڑھے پانچ لاکھ جانیں لے رہے ہیں، ماہرین

ذیابطیس اور تمباکو نوشی پاکستان میں نہ صرف سالانہ 566,000 افراد کی ہلاکتوں کا سبب بن رہے ہیں بلکہ ان دونوں کے نتیجے میں سالانہ دو لاکھ سے زائد افراد اپنی ٹانگیں کٹنے کے نتیجے میں معذور بھی ہوجاتے ہیں۔

اس بات کا انکشاف ملکی اور غیرملکی ماہرین صحت نے نیشنل ایسوسی ایشن آف ڈائبٹیز ایجوکیٹرز آف پاکستان (نیڈپ) کی سالانہ فٹ کانفرنس کے اختتامی روز خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کانفرنس سے انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے صدر پروفیسر اینڈریو بولٹن کے علاوہ برطانوی ماہرین ذیابطیس ڈاکٹر ڈیوڈ چینے، لبنان سے ڈاکٹر ولیم عقیقی، تنزانیہ سے ڈاکٹر جی عباس، نیڈپ کے صدر ڈاکٹر سیف الحق، ڈاکٹر زاہد میاں، پروفیسر عبدالباسط سمیت ملکی اور غیر ملکی ماہرین صحت نے بھی خطاب کیا۔

کانفرنس کے اختتامی سیشن میں بہترین تحقیق کرنے والے طلبہ و طالبات کو نقد انعامات سے بھی نوازا گیا۔ 

اس موقع پر ماہرین کا کہنا تھا کہ ذیابطیس کے نتیجے میں پاکستان میں سالانہ چار لاکھ افراد جاں بحق ہو رہے ہیں جبکہ سگریٹ نوشی اور تمباکو کے استعمال سے سالانہ ایک لاکھ 66 ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ذیابطیس کے مرض میں مبتلا افراد جو اسموکنگ کرتے ہیں ان میں ٹانگیں کٹنے کی شرح بہت زیادہ ہے اور اگر ایسے افراد دل کے دورے اور فالج سے بچ بھی جائیں تو ان میں ٹانگیں کٹنے کا خطرہ پھر بھی زیادہ ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ماہر شہزاد عالم کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک کے علماء نے اب تمباکو نوشی اور اس کے استعمال کو حرام کہنا شروع کردیا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے علاوہ صرف پاکستان میں ایک لاکھ 66 ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ دوسری جانب ذیابطیس کے مرض میں مبتلا افراد کی جانب سے سگریٹ نوشی کے نتیجے میں نہ صرف دل کے دورے اور فالج بلکہ ٹانگیں کٹنے کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے صدر پروفیسر اینڈریو بولٹن کا کہنا تھا کہ یورپ میں زیابطیس کے مریضوں میں پاؤں کے زخموں کی شرح محض دو فیصد ہے جب کہ ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان میں پاؤں کے زخموں کی شرح 10 فیصد سے زائد ہے جس کے نتیجے میں ہر سال لاکھوں افراد اپنی ٹانگیں کٹنے کی وجہ سے معذور ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کو اپنے عوام کی آگاہی اور صحت کی معلومات میں اضافے کے لیے پروگرام شروع کرنے چاہیے ہیں، جبکہ دوسری جانب ٹیلی میڈیسن سمیت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے مریضوں کو ذیابطیس کی پیچیدگیاں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکت اور معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔

نیڈپ کے صدر ڈاکٹر سیف الحق نے اس موقع پر بتایا کہ ان کی ایسوسی ایشن پورے ملک میں تین سو سے زائد ایسے کلینک قائم کرنے جا رہی ہے جہاں پر شوگر کے مریضوں کے پاؤں میں ہونے والے زخموں کا علاج کیا جاسکے گا، لیکن اس طرح کے کلینکس کی تعداد تین ہزار سے زائد ہونی چاہیے تاکہ پورے ملک میں موجود شوگر کے مریض ان سے استفادہ کرسکیں۔

ڈائیبیٹک فٹ انٹرنیشنل کے نائب صدر پروفیسر زاہد میاں نے اس موقع پر شوگر کے مریضوں کو مشورہ دیا کہ وہ روزانہ اپنے پیروں کا معائنہ کریں، ناخنوں کو کاٹنے کی تربیت حاصل کریں، ننگے پیر چلنے سے گریز کریں جبکہ گرم پانی سے بھی اپنے پیروں کو محفوظ رکھیں تاکہ ان کے پیروں کو زخموں سے بچایا جا سکے۔

صحت سے مزید