• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا کی تیسری بوسٹر خوراک سے انکاری مسافروں کیلئے قرنطینہ پالیسی نافذ کرنے پر غور، وزراء پر ویکسین مہم تیز کرنے کیلئے دباؤ

راچڈیل(ہارون مرزا)برطانوی حکام نے بین الاقوامی سفر کر نے والے ایسے مسافر جو اپنی کورونا کی تیسری بوسٹر ویکسین خوراک لینے سے انکاری ہیں کیلئے قرنطین اور ٹیسٹنگ کے عمل کو دوبارہ نافذ کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز اور اقدامات کا جائزہ لینا شروع کر دیادوسری جانب کرسمس سے سب سے کمزور لوگوں کو کورونا سے بچائو کیلئے بوسٹر ویکسین خوراک کی فراہمی کا ہدف کٹھائی میں پڑنے لگا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایسے مسافر جو اپنی کورونا کی تیسری بوسٹر ویکسین خوراک لینے سے انکاری ہیں کیلئے قرنطین پالیسی نافذ کرنے پر غور کیا جارہا ہے ۔باور کیا جا رہا ہے کہ کورونا ویکسین کی مکمل خوراک کی تعریف کو دو کی بجائے اب تین خوراکوں میں تبدیل کیے جا نے کا بھی امکان ہے ۔حکام اس حوالے سے منقسم ہیں کہ اس طرح کے اقدامات کو کب ‘ کس سطح اور کتنے دورانیہ کے لیے نافذ کیا جائے ایسے برطانوی مسافر جو اپنی کورونا ویکسین کی دوخوراکیں لے چکے ہیں اور اور چھ ماہ کے قریب عرصہ بعد بوسٹر خوراک کی پیش کش کے باوجود ویکسین نہیں لیتے تو ان کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا جائے گا۔دوسری طرف بوسٹر خوراک کے بغیر بین الاقوامی سفر کرنے والوں کیلئے وزراء نئے منصوبے سامنے لا نے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بوسٹر جابز لینے میں ناکام کا شکار مسافروں کو نئی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اسرائیلی طرز پر بنائے جانیوالے منصوبوں کے تحت مسافر کوویڈ 19ٹیسٹ کے ثبوت پیش کرکے تیسرے جابز کی ضر ورت سے گریز نہیں کر پائیں گے۔ یہ اقدام فوری طور پر نافذ العمل ہوتا نظر نہیں آ رہا مگر مستقبل قریب میں اس پر عمل یقینی بنانے کے لیے منصوبہ بندی جاری ہے۔ سیکرٹری صحت ساجد جاوید نے کہا ہے کہ تقریبا دس ملین افراد اپنا بوسٹر جابز حاصل کر چکے ہیں انہوں نے کہا کہ بزرگ افراد کو بوسٹر ویکسین کیلئے آگے آنا چاہیے تاکہ وہ عالمی وبا کے اثرات سے بچ سکیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بوسٹرز خوراک فی الحال 50 سال سے زائد عمر کے افراد، صحت کے کارکنوں اور طبی لحاظ سے کمزور افراد کے لیے ہی دستیاب ہیں۔ اس اسکیم کو اگلے سال کے اوائل میں 40 سے زائد عمر کے افراد تک توسیع دینے کی توقع کی جا رہی ہے انگلینڈ میں 80 سال سے زیادہ عمر کے 10 میں سے 7 اور انگلینڈ میں 50 سے زائد عمر کے پانچ میں سے تین کو تیسرا انجکشن لگایا گیا ہے جو دوسرے کے چھ ماہ بعد لگایا جا سکتا ہے جن لوگوں کو مکمل طور پر ویکسین نہیں لگائی گئی ہے، انہیں برطانیہ واپس آنے پر پورے دس دن کے لیے الگ تھلگ رہنا پڑیگا جبکہ چار مہنگے پی سی آر ٹیسٹوں کی ادائیگی بھی کرنا ہوگی ۔دوسری جانب کرسمس سے قبل پچاس سال سے زائد عمر کے افراد سمیت 32ملین سب سے کمزور لوگوں کو کورونا سے بچائو کیلئے بوسٹر ویکسین خوراک کی فراہمی کا ہدف کٹھائی میں پڑنے لگا مختاط اندازے کے مطابق ایک دن میں تقریبا 3لاکھ لوگوں کو خوراک فراہم کی جا رہی ہے تقریبا دس ملین خطرے سے دوچار افراد مذہبی تہوار کے دوران اب بھی غیر محفوظ رہیں گے وزراء پر دبائو ہے کہ وہ ویکسین مہم کو مزید موثر اور تیز بنانے کیلئے اقدامات کریں اور یومیہ تقریبا 5لاکھ بوسٹر خوراک کی فراہمی کا عمل یقینی بنائیں تاکہ کمزور ہوتی ہوئی قوت مدافعت سے نمٹنے اور ہسپتالوں میں مریضوں کے داخلوں میں اضافے کو روکا جا سکے صحت کے سربراہوں نے سست رول آؤٹ کو لوگوں کے آگے آنے میں ناکام ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے لیبر پارٹی نے سیکرٹری صحت ساجد جاوید کو خط لکھا ہے جس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ایک قومی لاک ڈائون کو خطرے میں ڈالتے ہوئے دیوار دفاع کو گرنے دیا گیا ہے بچوں کیلئے جابز اور بوسٹر کے عمل کو موثر بنایا جائے ‘ رضاکاروں اور ریٹائرڈ ہیلتھ کیئر ورکرز کو واپس بلانا اور مزید کمیونٹی فارمیسیوں کا استعمال مہم کو تقویت دے سکتا ہے۔ بوسٹر رول آؤٹ کی موجودہ رفتار کا مطلب ہے کہ کچھ اہل بزرگ مریضوں کو بتایا گیا ہے کہ ان کی اگلی دستیاب ملاقات دسمبر میں ہے دوسرے اپنے جی پی یا این ایچ ایس بکنگ سروس کو فون پر گھنٹوں گزارنے کی اطلاع دیتے ہیں۔ ایک عورت اپنی 92 ویں کال پر پہنچتی ہے سرخ ٹیپ بھی رول آؤٹ میں رکاوٹ بن رہی ہے، ایک 94 سالہ نابینا خاتون نے ہیمل ہیمپسٹڈ، ہرٹ فورڈ شائر میں ایک جاب کے مرکز سے اس وقت منہ موڑ لیا جب وہ ایک دن پہلے پہنچ گئی مریضوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ وہ این ایچ ایس واک ان فائنڈر کو اپنے قریبی مرکز کے لیے استعمال کریںجو سمجھا جاتا ہے کہ دس میل کے اندر ہے۔ بعض لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ انہیں اپنی ویکسین حاصل کرنے کے لیے دسیوں میل کا سفر کرنا ہوگا کیونکہ بہت سی جی پی سرجری اور فارمیسیز مذکورہ سہولت فراہم کرنے سے قاصر ہیں کینٹ میں آئل آف شیپے پر پنشنرز کواین ایچ ایس نے مشورہ دیا کہ وہ اپنی تیسری خوراک کے لیے ایسیکس میں ساؤتھ اینڈ جانے کا مشورہ دیںجو کہ 128 میل کا دور ہے، کیونکہ مقامی مراکز میں سپلائی نہیں ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ برطانیہ میں تقریبا دس ملین سے زائد بوسٹر شاٹس کوپاس کیا جا چکا ہے مگر 80سال کی عمر سے زائد کے تقریبا تیس فیصد اور پچاس سال سے زائد عمر کے اہل افراد میں سے چالیس فیصد کو اپنی تیسری خوراک نہیں مل سکے ‘ کورونا کی ملک میں صورتحال کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ روز ایک ماہ کے دوران 62اموات کیساتھ 30ہزار سے زائد انفیکشن کی سطح ریکارڈ کی گئی ہے۔

یورپ سے سے مزید