• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں ان شہروں کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے جو سمندر کے کنارے آباد ہوتے ہیں اور یہ ساحل ان شہروں کو امتیازی حیثیت عطا کرتے اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ ساحلی شہر ملک کی معیشت میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ دنیا بھر سے سامان کی نقل و حمل زیادہ تر سمندری جہازوں کے ذریعے کی جاتی ہے اور وہ سامان ان ہی شہروں کے ذریعے درآمد ،برآمد کئے جاتے ہیں جو ساحل پر واقع ہوں۔ کراچی کو پاکستان کا سب سے بڑا ساحلی شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ 

یہ شہر سمندر کے کنارے آباد ہونے کے باعث ملک کے بھر کے لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ ملک کے مختلف شہروں سے کراچی آنے والے لوگ ساحل سمندر کا نظارہ نہ کریں تو ان کا کراچی کا آنے کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ کلفٹن، سی ویو، سینڈزپٹ اور ہاکس بے کے ساحل پر روزانہ ہزاروں لوگ سمندر کی لہروں سے لطف اندوز ہونے کے لئے جاتے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ کراچی کے ساحل پر تفریح کی وہ سہولیات میسر نہیں ہیں جو دنیا کے دوسرے ممالک میں ہیں اس کمی کو ایک عرصے سے شدت کے ساتھ محسوس کیا جارہا تھا ، مختلف منصوبے بنائے گئے لیکن صرف ابتدائی رپورٹس اور کاغذی کارروائی سے آگے نہیں بڑھ سکے۔بلاّخر حال ہی میں’’ منوڑہ فرنٹ بیچ ‘‘کے نام سے ایک خوبصورت تفریحی مقام کی تعمیر مکمل کرکے شہر کے لوگوں کو محفوظ، صاف ستھرے ماحول میں تفریح کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں یہ تفریحی مقام منوڑہ کےمقام پر ہے ۔

منوڑہ کراچی کے جنوب میں واقع ایک چھوٹا سے جزیرہ ہے۔ یہ ایک چھائونی اور رہائشی علاقہ ہے یہاں پانی اور بجلی سمیت دیگر سہولیات موجود ہیں۔ 19 ویں صدی میں یہ جزیرہ برطانوی فوج کے پاس تھا۔ قیام پاکستان کے بعد سے یہ پاکستان کی مسلح افواج کے زیر انتظام ہے۔ دنیا پر اپنی حکومت قائم کرنے کے خواب دیکھنے والے سکندر اعظم جب دنیا کو فتح کرنے کے لئے نکلے تو ان کا ’’بحری بیڑا‘‘ منوڑہ پر بھی لنگر انداز ہوا تھا۔ 

سندھ کے حکمراں تالپور دور میں بھی شہر کی حفاظت کے لئے یہاں پر ایک بندرگاہ تعمیر کی گئی تھی اور چھوٹے پیمانے پر تجارت شروع کی گئی تھی، اس طرح منوڑہ اپنی ایک بھرپور تاریخ رکھتا ہے، اس جزیرے کو بنیادی اور بلدیاتی سہولیات کنٹونمنٹ بورڈ فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کا بھی یہاں عمل دخل ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے کل 2 وارڈز ہیں ، اس کے خاص خاص علاقوں میں کچی لائن، کے پی ٹی بنگلوز، پی این ایس کوارٹرز، ایم ای ایس کالونی، بی این ایس ہمالیہ، یونس آباد، فالٹ ایریا، کاکاپیر شامل ہیں۔

منوڑہ فرنٹ بیچ کراچی کا پہلا ترقی یافتہ ساحل ہے۔ اس کے ڈیزائن میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ یہ خاندان بھر کے افراد کی تفریح کے لئے تمام ضروریات مہیا کرے۔ یہ ایک خوبصورت تفریحی مقام ہے۔ اس کی تعمیر پر 65 کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں ، ادارہ ترقیات کراچی (KDA) کے ماہرین نے انتہائی توجہ اور لگن کے ساتھ اسےمکمل کیا ہے۔ یہ پروجیکٹ کراچی کی مجموعی ترقیاتی اسکیم کا ایک حصہ ہے۔ شہریوں نے منوڑہ بیچ کا استعمال بہت کم کردیا تھا، کیونکہ یہاں سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں اس لئےوہ اس طرف کا رخ نہیں کرتے تھے۔

اس منصوبے کا مقصد عوام کی توجہ منوڑہ کے ساحل کی جانب مبذول کرانا ہے۔ منصوبے کی تکمیل سےعلاقے کی ترقی میں بھی بہتری آئے گی۔ یہاں ایک ایکڑ سے زائد زمین گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے مختص کی گئی ہے۔ ساحل کے سامنے والا حصّہ 29 سائبان پر مشتمل ہے جس کا اسٹرکچر 7.9 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے ، انگریزی حروف ایل کی شکل میں 76 بینچیں اور ان کے ساتھ میزیں نصب کی گئی ہیں۔ 30 چھوٹے ، تین درمیانے اور ایک بڑا شش پہلو ٹیفلون شیڈز بھی لگائے گئے ہیں۔ بچوں کی تفریح و طبع کے لئے منوڑہ ساحل پر ایک علیحدہ سے ’’پلے ایریا ‘‘ بھی بنایا گیا ہے۔

اکتوبر 2021 ء کو سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا ان کے ساتھ صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ، سید سردار شاہ اور ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب اور دیگر نے شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے بچپن کی دلچسپ یادوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ میں بچپن میں اپنے والدین کے ساتھ کیماڑی سے کشتی میں بیٹھ کر منوڑہ جایا کرتا تھا۔ وہ دن ہمارے لئے بڑی خوشی کا دن ہوتا تھا۔ کشتی میں بیٹھنا اور منوڑہ پہنچنا ایک دلچسپ مشغلہ تھا انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج کل کے بچوں کو موبائل فون ، آئی پیڈ اور دیگر آلات نے یرغمال بنا رکھا ہے وہ ایسی قدرتی تفریح سے محروم ہیں ۔

اسٹیشن کمانڈرمنوڑہ کمانڈرسہیل کے مطابق ’’منوڑہ بیچ کے دس کلو میٹر کے ساحل پر ترقیاتی کام کرایا گیا ہے۔ اب یہ علاقہ انتہائی خوبصورت اور تفریح سے بھرپور جگہ بن گئی ہے۔ اس پروجیکٹ سے اس علاقے میں ترقی ہوئی ہے اور آئندہ دنوں میں یہاں عوام کی ایک بڑی تعداد اپنے خاندان کے ساتھ تفریح کے لئے آیا کرے گی۔ یہاں پر پاک بحریہ کے زیر انتظام اسکول بھی ہے، جہاں مچھیروں کے بچے پڑھتے ہیں ۔‘‘

اس ساحلی تفریحی مقام تک پہنچنے کے لئے سی ویو پر ایک جیٹی تیار کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے، تاکہ کلفٹن کے علاقے سے منوڑہ بیچ تک فیری سروس شروع کی جاسکے اس سروس کے ذریعے شہریوں کو کلفٹن سے منوڑہ پہنچنے میں نہ صرف آسانی ہوگی بلکہ فیری سروس شہریوں کے لئے ایک اور نئی تفریح فراہم کرے گی۔ اس سے پہلے کراچی میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح کے کسی ساحلی مقام پر باقاعدہ کوئی تفریح گاہ تعمیر کی گئی تھی۔ 

کراچی کی آبادی جو لگ بھگ ڈھائی کروڑ سے زیادہ ہے،ان کے لئے یہ ساحل کسی نعمت سے کم نہیں ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی کے ساحل کو دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح مزید ترقی دی جائے کیونکہ یہ ساحل نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ روزگار کی فراہمی اور آمدنی کے بہتر ذرائع بھی فراہم کرتے ہیں اور سیاحوں کے لئے بھی انتہائی پرکشش ہوتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک جیسے امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ترکی، تھائی لینڈ، مالدیپ ، دبئی ایسے ممالک ہیں ،جہاں پر حکومت نے ساحلوں پر لاتعداد تفریح سہولیات مہیاکر رکھی ہیں ۔ 

اکثر و بیشتر ہفتے کے اختتام پر لاکھوں کی تعداد میں ان ملکوں کے شہری سمندروں کے ساحل پر پہنچتے ہیں اور وہاں مہیا کی گئیں سہولیات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بعض ممالک کی معیشت کا دارومدار تو سمندروں کے ساحل ہی ہیں ۔یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ کراچی جس سمندر کے کنارے آباد ہے اس کا پانی سال کے بارہ مہینے گرم رہتا ہے اور پورا سال دنیا کے دوسرے ممالک سے تجارتی سامان کی نقل و حمل کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ 

کراچی کے معتدل موسم کے باعث یہ ساحل بارہ مہینے تفریح و طبع کے مواقع بھی فراہم کرسکتا ہے ، یہ پرکشش ، خوبصورت اور دلکش مقام آپ کو خوش آمدید کہنے کے لئے تیار ہے۔ آپ بھی یہاں جائیں اور تفریح کے ساتھ تازہ دم ہوں۔