• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

ایک انسان کی اپنے خالق ومالک سے جو نسبت ہے،اس میں سب سے اہم نسبت عبدیت اور بندگی کی ہے، انسان عبد ہے اور اللہ تعالیٰ معبود ہیں، انسان بندہ ہے اور اللہ کی ذات بندگی کی مستحق ہے، انسان غلام ہے اور اللہ اس کے آقا و مولیٰ ہیں، یہ غلامی کی نسبت انسان کے لئے تحقیر نہیں ہے،بلکہ اِس میں اُس کی توقیر اور اعزاز واکرام ہے، اسی لئے واقعہ معراج کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کا ذکر اپنے بندے کے لفظ سے کیا ہے: سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ (بنی اسرائیل:۱)جیسے بیٹے کو اس سے زیادہ اور کوئی خطاب محبوب نہیں ہوسکتا کہ اس کا باپ اسے بیٹا کہہ کر مخاطب کرے، اسی طرح کسی بندے کے لئے اس سے بڑھ کر اعزاز نہیں ہوسکتا کہ خود کائنات کا خالق ومالک ’’بندہ‘‘کہہ کر اپنے آپ سے اس کی نسبت کو ظاہر کرے۔

انسان اپنی بندگی کا اپنے عمل کے ذریعے اقرار کرے، اسی کو ’’عبادت‘‘کہتے ہیں اور اللہ نے انسان وجنات کی یہ بستی اس لئے بسائی ہے کہ یہ سب اللہ کی عبادت کریں۔ ہر نبی نے اپنی تعلیمات میں انسانیت کو اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دی اور اس کے طریقے بتائے ہیں، رسول اللہ ﷺکی شریعت نے عبدیت کو اس کے اوج کمال پر پہنچادیا، عبادت کی مقدار بھی بڑھائی گئی اور عبادت کی کیفیت میں بھی اضافہ کیا گیا، نیز جس تفصیل سے عبادت کا طریقہ وسلیقہ اور اس کے آداب واحکام شریعت محمدی میں بتا ئے گئے، کسی دوسرے مذہب میں اس کی مثال نہیں مل سکتی، ہر عبادت بندگی اور نیاز مندی کا مظہر، جھکاؤ اور بچھاؤ کی کیفیت سے معمور، اللہ سے مانگنے اور ہاتھ پھیلانے کی کوشش اور انسانی زندگی کے لئے دروسِ عبرت سے معمورہے۔

عبادت میں جہاں اللہ کے سامنے عجز کا اظہار ضروری ہے، وہیں اللہ سے حد درجہ محبت اور دل میں اللہ کی غیر معمولی چاہت کا احساس بھی ضروری ہے، اسی لئے علامہ ابن القیم فرماتے ہیں کہ عبادت ایسے عمل کا نام ہے، جس میں آخری درجہ کی محبت بھی ہو اور آخری درجہ کا جھکاؤ بھی۔لہٰذا وہ اعمال عبادت میں شامل ہیں جو خالصۃً اللہ کے لئے ہی کئے جاتے ہیں،جس عمل کو کسی بندے کے لئے نہیں کیا جاسکتا، جیسے: نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، قربانی، سجدہ، تلاوت، دعاء، نذروغیرہ، جو افعال اللہ کے لئے بھی کئے جاسکتے ہیں اورانسانوں کے لئے بھی، اگر انہیں بہتر نیت سے کیا جائے، اللہ کی رضا اور رسول اللہ ﷺکی اتباع مقصود ہو تو انشاء اللہ وہ بھی اجر وثواب کا باعث ہوگا، لیکن وہ اصل میں طاعت ہے، حقیقی معنوں میں وہ عبادت نہیں ہے، عربی زبان کے ایک ماہر علامہ ابوہلال عسکری نے لکھا ہے کہ عبادت اور طاعت کے درمیان بنیادی فرق یہی ہے کہ عبادت صرف اللہ ہی کی کی جاسکتی ہے، لیکن طاعت اللہ کے لئے مخصوص نہیںہے۔(الفروق فی اللغۃ:۱۸۲)

عبادت کا ایک بنیادی حکم یہ ہے کہ وہ اجر کے لئے کی جاتی ہے، نہ کہ اجرت کے لئے، اس کا بدلہ آخرت ہی میں دیا جاسکتا ہے، دنیا کے بدلے کے لئے اس عمل کو نہیں کیاجاسکتا، انبیائے کرام ؑاپنی خاص حیثیت کے اعتبار سے ہر کام اللہ کے لئے کرتے تھے اور اللہ کے حکم سے ہی کرتے تھے، اسی لئے قرآن نے مختلف انبیاءؑ کی زبان سے کہلوایا: میرا اجر صرف اللہ ہی پر ہے۔(سورۂ ہود: ۲۹) جب کوئی کام دنیا میں بدلے کے لئے کیا جائے تو پھر وہ تجارت بن جاتا ہے، اور عبادت وتجارت کے مقاصد بالکل الگ ہیں، اسی لئے عبادت کے لئے مخصوص جگہ پر تجارت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے، مسجدیں اللہ کا گھر ہیں اور اللہ کی عبادت کے لئے ہی بنائی گئی ہیں، چنانچہ مسجد میں خرید وفروخت اور کاروباری گفتگو سے منع کیا گیا ہے، یہاں تک کہ آپ ﷺنے اسے بھی پسند نہیں فرمایا کہ کسی کی کوئی چیز گم ہوئی ہو تو وہ مسجد میں اس کا اعلان کرے، آپ ﷺنے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اس طرح کا اعلان مسجد میں کرے تو کہہ دو کہ تمہاری چیز نہ ملے۔

اسی لئے فقہاء کا عمومی نقطہ نظریہ ہے کہ جو افعال مسلمانوں کے لئے مخصوص ہیں، جیسے: نماز، روزہ، حج، تلاوت قرآن، جہاد، ان پر اجرت لینا جائز نہیں۔کیوں کہ حضرت عثمان ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھ سے جو آخری وعدہ لیا، وہ یہ کہ اگر میں مؤذّن مقرر کیا جاؤں تو اذان پر اجرت نہیں لوں۔(ترمذی بہ تحقیق احمد محمد شاکر ۱؍۴۳۱۰) حضرت عبادہ بن صامت ؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے اہل صفہ میں سے کچھ لوگوں کو قرآن پڑھنا اور لکھنا سکھایا، مجھے پڑھنے والوں میں سے ایک نے ایک کمان تحفہ میں دی، میں نے سوچا کہ یہ خاص مال تو ہے نہیں، میں اسے جہاد میں استعمال کروں گا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا توآپ ﷺنے فرمایا کہ اگر تمہیں یہ بات پسند آتی ہو کہ اللہ تمہیں آگ کی کمان پہنائے تب قبول کرلو۔(ابوداؤد مع عون المعبود: ۳؍۲۷۶) صحابی رسول حضرت عبدالرحمن بن بشر انصاریؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن مجید پڑھو، مگر اس میں غلو نہ کرو اور نہ اس کو کھانے اور دولت میں اضافے کا ذریعہ بناؤ۔(فیض القدیر: ۲؍۶۴ بہ حوالہ مسند احمد)

یہ اور بات ہے کہ عبادت سے متعلق بعض افعال ایسے ہیں، جن میں عمل کے ساتھ ساتھ وقت کی بھی ضرورت ہے، جیسے نماز کہیں بھی پڑھی جاسکتی ہے، اتفاق سے اگر کسی نے کہیں نماز کی امامت کردی اورایک جماعت نے اس کے پیچھے نماز ادا کرلی تو اس میں کچھ زیادہ وقت کی ضرورت نہیں، لیکن اگر کسی کو خاص مسجد میں امام مقرر کیا جائے تووہ اس وقت کا پابند ہوجاتا ہے، بلکہ بعض اوقات پانچ وقت کی امامت میں انسان کا پورا وقت گِھر جاتا ہے، اسی طرح ایک صورت تو یہ ہے کہ اتفاقاً کوئی آئے اور آپ کے پاس قرآن کی کوئی آیت پڑھ لے، یا اپنے پڑوسی کو چند آیات پڑھادیں اور قرآن کی تصحیح کردیں تو اس میں انسان کا وقت اس طرح گھِر نہیں جاتا کہ وہ کسب ِ معاش کا کوئی اور ذریعہ اختیار نہ کرسکے، اس لئے ایسے اعمال پر اجرت لینا جائز نہیں ہے، لیکن اگر کوئی شخص مستقل طور پر ایک مدرس کی حیثیت سے قرآن اور اسلامی علوم کی تعلیم دے، اور مقررہ وقت اس میں لگایا کرے، جس کی پابندی اس پر لازم ہو تو پھر اس کا وقت اس عمل کی وجہ سے مشغول ہوجاتا ہے، اس لئے ایسی صورت میں علماء اہل سنت میں سے امام مالکؒ وامام شافعیؒ نے اجرت لینے کی اجازت دی ہے اور جب حکومتوں کی طرف سے ائمہ اور معلّمین کا انتظام باقی نہ رہا اور صورتِ حال یہ ہوگئی کہ ہر وقت امامت کی صلاحیت کے حامل ائمہ کا ملنا دشوار ہوگیا، مسلمان بچے اور بڑے قرآن کی تعلیم سے محروم ہونے لگے تو فقہاء احناف اور حنابلہ میں سے بعد کے لوگوں نے ان کاموں پر اجرت لینے کی اجازت دے دی، کیوں کہ یہ کام کی اجرت نہیں ہے، وقت کی اجرت ہے، اور وقت کی اجرت لینا جائز ہے۔

اسی طرح فقہاء نے حج پر اجرت لینے یا جہاد پر اجرت لینے کو منع کیا ہے، کیوں کہ یہ سب عبادت ہے اور عبادت خالصۃ ً لوجہ اللہ ہونی چاہیے، رسول اللہ ﷺکے زمانے میں ہجرت بھی اہم عبادت تھی اور آپ ﷺنے صاف اعلان کردیا کہ جو اللہ اور رسول ﷺکے لئے ہجرت کرے گا، اس کا یہ عمل باعث اجر بنے گا اور جو کسی اور مقصد کے لئے ترکِ وطن کرے گا، وہ ہجرت کے ثواب سے محروم رہے گا، کیوں کہ اس کا یہ وطن چھوڑنا اللہ اور رسولﷺ کے لئے نہیں ہے۔

مشہور محدث امام بخاریؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب بخاری شریف کا آغاز اسی حدیث سے کیا ہے، غرض کہ عبادت پر عبادت کا رنگ باقی رہنا چاہیے، خود عبادت کرنے والوں کا بھی یہی رویہ ہونا چاہیے اور دوسرے مسلمانوں کا بھی۔

بدقسمتی کی بات ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں ایک خاص رجحان عبادتوں سے تجارتی فوائد اٹھانے کا بنتا جارہا ہے، ایصال ثواب کا درست ہونا حدیث سے ثابت ہے اور سوائے بعض اہل علم کے علماء اہل سنت کا اتفاق ہے کہ تلاوتِ قرآن کے ذریعہ بھی ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے، مگر اس پر اجرت کا لینا جائز نہیں، مشہور حنفی عالم علامہ شامیؒ نے خوب لکھا ہے کہ اگر تلاوتِ قرآن اجرت کے عوض ہوتو اس عمل میں اخلاص باقی نہیں رہااور جو عمل اخلاص سے خالی ہو وہ کارثواب نہیں ہوسکتا، تو جب یہ عمل خود لائق ثواب نہیں رہا تو دوسروں کو اس کا ثواب پہنچایا کس طرح جاسکتا ہے؟اس لئے ایصال ثواب کے لئے تلاوتِ قرآن پر اجرت لینا جائز نہیں، مگر صورت حال یہ ہے کہ آج کل مسلم معاشرے میں اس کی اجرت متعین کی جاتی ہے اور کہیں کہیں تو اس کے لئے گروپ بنے ہوئے ہیں اور وہ باضابطہ بھاؤ تاؤ کرتے ہیں، یہ واضح طور پر عبادت کو تجارت کی شکل دینا ہے۔

مسلمانوں کے ایک طبقہ میں مال ومتاع کی حرص اور مادیت اس قدر پیدا ہوگئی ہے کہ وہ ہر کام میں اور ہر قیمت پر زیادہ سے زیادہ پیسے حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے عبادتوں کے انجام دینے اور اس کے وسائل فراہم کرنے میں اجر وثواب کے جذبے کو بالکل پسِ پشت ڈال دیا ہے اور ایسے مقدس کاموں کو بھی خالصۃً تجارتی مقصد کے تحت انجام دیتے ہیں، نیز لوگوں کے سامنے اپنی تصویر کچھ اس طرح کی پیش کرتے ہیں کہ گویا وہ دین کے خدمت گذار اور اپنے مسلمان بھائیوں کے پکے بہی خواہ ہیں، اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے، ضرورت تو یہ تھی کہ ہم اپنی تجارت کو عبادت بنا لیتے، یعنی اس میں اللہ کی رضا کا جذبہ شامل رکھتے، کم نفع لیتے، لوگوں کو سہولت بہم پہنچاتے، کچھ اجرت حاصل کرتے اور کچھ اجر کے امیدوار رہتے، نہ یہ کہ ہم عبادت کو تجارت کا رنگ دےدیں اور حصولِ اجر وثواب کے مواقع کو کسبِ معاد کے بجائے خالص کسب معاش کا ذریعہ بنالیں۔