• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ مجھے سرمایہ کی ضرورت ہے، جس کے لیے میں بینک یا کسی اور ادارے سے قرض مانگتا ہوں، لیکن بینک یا ادارہ مجھے براہِ راست قرض دینے کے بجائے میرا گھر مجھ سے خرید لیتا ہے، میں اپنا گھر دیتا ہوں اور قیمت وصول کرلیتا ہوں اور وہی گھر اس سے چند سالوں کے ادھار پر خرید لیتا ہوں تو کیا یہ جائز ہے؟ یا اگر میں وہی گھر بینک کو دے کر اس سے کرایہ پر لے لوں تو ٹھیک ہے؟(ریاض الحسن)

جواب:۔دونوں ہی صورتیں ناجائز ہیں۔ پہلی صورت(فروخت اور واپس خریدنے کا معاہدہ) Sale and buy back کی ہے جو کہ ناجائز ہے اور دوسری صورت میں ایک معاملے میں دو معاملے جمع کیے جارہے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے بھی ہوئے ہیں۔ حدیث شریف اور فقہ اسلامی میں اس کی بھی ممانعت ہے۔