• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قلعہ کہنہ قاسم باغ ... ملتان کے تاریخی شکوہ کی علامت

شہروں یا علاقوں کو دشمن کے حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے دفاعی نقطہ نظر سے گزشتہ ادوار میں قلعے تعمیر کیے جاتے تھے۔ اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان کی قدامت کی ایک بڑی نشانی ’قلعہ کہنہ‘ ہے۔ ملتان برصغیر کا صدر دروازہ تھا، جہاں سے گزرے بغیر کوئی حملہ آور آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ، مہم جُو اور جنگجو اس قلعہ کو تسخیر کرنے کے لیے اپنے بڑے لشکر لے کر آئے لیکن فتح کے بعد ہر کسی نے محلات، درباروں، بیرکوں اور دیگر املاک کو شدید نقصان پہنچایا۔ کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم جب ملتان آیا تو اس وقت قلعہ کہنہ کچی مٹی سے تعمیر شدہ تھا مگر اس کے باوجود بھی اس کی افواج اسے بآسانی فتح نہ کر سکی تھیں۔ اس بارے میں کوئی واضح تاریخ نہیں ملتی کہ اس قلعہ کو کب اور کس نے تعمیر کرایا۔

ایک اندازے کے مطابق ملتان کا قلعہ2500قبل مسیح میں بھی موجود تھا۔ برطانوی دور کے آغاز میں سر الیگزینڈر کنگھم کو 40فٹ تک کھدائی کرنے کے بعد 7ہزار سال قبل کے آثار ملے۔ ان کی رائے کے مطابق ملتان کا قلعہ کہنہ آج بھی اسی جگہ قائم ہے، جہاں سکندر اعظم کے حملہ کے وقت تھا۔ 1853ء میں اپنے آرکیا لوجیکل سروے کے سلسلہ میں انھوں نے آثاریاتی کھدائیاں کیں۔ 11سال کے عرصہ میں انھوں نے قلعہ کہنہ پر دو جگہ کنویں کھدوائے، جن میں سے مختلف ادوار کی نادر اشیا برآمد ہوئیں۔ 

انھوں نے کنوؤں کی گہرائی کے مختلف مقامات پر برآمد ہونے والی اشیا کی فہرست مختلف ادوار کو مدنظر رکھ کر مرتب کی۔ اس کے علاوہ قیام پاکستان کے بعد 60فٹ گہرائی میں کی جانے والی کھدائی سے بھی ایسی بے شمار اشیا دریافت ہوئیں جن کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ملتان کا قلعہ ہڑپہ کے قلعہ کی طرح کہیں زیادہ قدیم ہے۔ قلعہ کے اندر اسٹیڈیم کی تعمیرکے لیے کھودے گڑہوں سے دھات کے سکے، ہڈی کی چوڑیاں، پتھروں سے بنی مختلف اشیا، مٹی کے کھلونے، پکی مٹی کے ظروف، مختلف شکل و حجم کی اینٹیں، مٹی کے چراغ، تمباکو کی چلم، دھات کے برتن، گھونگھے، جلی ہوئی لکڑی کے ٹکڑے وغیرہ برآمد ہوئے۔

یہ قلعہ شہر کی تاریخی، سماجی، سیاسی، مذہبی، روحانی اور ثقافتی شکوہ کی بھی علامت ہے۔ قلعہ کو مختلف ادوار میں نقصان بھی پہنچا اور اس کی تزئین نو بھی ہوتی رہی۔ 1640ء میں مغل دور حکومت میں شہزادہ مراد بخش نے ملتان کے قلعہ کو ازسرنو تعمیر کرایا تھا۔ قلعہ سطح زمین سے 150 فٹ کی بلندی پر قائم ہے اور اس کا کُل رقبہ ایک میل سے زائد ہے۔ اونچے ٹیلے پر واقع ملتان کے اس قلعہ سے کبھی اردگرد میلوں دور کا علاقہ نظر آتا تھا۔ قلعہ کے چار دروازے (قاسم دروازہ، خضری دروازہ، سکی دروازہ اور حریری دروازہ)تھے، تاہم اب صرف بیرونی دروازہ ہی باقی ہے۔ 

ہر دروازے کے ساتھ ایک برج جبکہ ان کے علاوہ مزید 38برج بنائے گئے تھے، جن پر ہر وقت چاق و چوبند فوجی کھڑے پہرہ دیتے تھے تاکہ دشمن پر نظر رکھی جاسکے۔ کسی زمانے میں قلعہ کے دو حصار تھے اور اس کے گرد دریائے راوی بہتا تھا۔ بیرونی حصار 150فٹ چوڑا مٹی کا ایک پشتہ تھا جبکہ اندرونی حصار پختہ اینٹوں سے بنایا گیا تھا اوریہ بیرونی حصار سے تقریباً 35سے 40 فٹ اونچا تھا۔ قلعے کی حفاظت کے لیے بیرونی حصار کے چاروں جانب 26فٹ گہری اور 40 فٹ چوڑی خندق کھودی گئی تھی، جو ہر وقت پانی سے بھری رہتی تھی اور بیرونی حملہ آوروں کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتی تھی۔

قلعہ اپنے اندر موجود دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ طرز تعمیر میں بھی یگانگت رکھتا تھا۔ اس کا اندرونی رقبہ تقریباً 6 ہزار600فٹ تھا۔ اس کی اندرونی فصیل اتنی چوڑی تھی کہ جس پر کئی گھڑ سوار برابر دوڑ سکتے تھے۔ دشمن پر تیراندازی اور گولہ باری کرنے کے لیے تین دمدمے بھی بنائے گئے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق قلعہ کی دیواریں تقریباً 40 سے 70فٹ اونچی اور 6ہزار800 فٹ علاقے کا گھیراؤ کرتی تھیں۔ 

قلعہ کہنہ پر موجود حضرت بہاء الدین زکریا ؒ اور حضرت شاہ رکن عالمؒ کے مزارات خطے کے قدیم فن تعمیر کے شاہکار ہیں۔ آج بھی، انہی مزارات سے ملتان شہر کے تاریخی شکوہ کی تصویر بنتی ہے۔ 1541ء میں ملتان شیرشاہ سوری کے زیرِ اقتدار آیا تو اس نے قلعہ میں دو مساجد، ایک حضرت بہاء الدین زکریاؒ کے مقبرہ اور دوسری حضرت شاہ رکن عالمؒ کے مقبرہ کے اندر تعمیر کرائیں۔

قلعہ کی بیرونی فصیلوں کے حصار میں اندر کی جانب ایک مورچہ نما چھوٹا قلعہ بھی تعمیر کیا گیا تھا، جس کے پہلو میں 30حفاظتی مینار، ایک مسجد، ایک مندر اور خوانین کے محل تعمیر کیے گئے تھے۔ 1818ء میں رنجیت سنگھ کی افواج کے حملے میں اندرونی چھوٹے قلعے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ سکھوں اور انگریزوں کی یلغار نے قلعہ کہنہ کو مکمل تباہی سے دوچار کیا اور یوں اس تاریخی قلعہ نے 1848ء میں اپنا وجود کھودیا۔ 

قیام پاکستان کے وقت قلعہ کی فصیل کے کچھ آثار موجود تھے، جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوگئے۔ نومبر1949ء میں قلعہ کی تزئین وآرائش کا کام شروع ہوا اور ساتھ ہی ابن قاسم پارک بنایا گیا۔ قلعہ کی باقیات میں سے دو عمارات، دمدمہ اور نگارخانہ آج بھی اس تاریخی قلعہ کی شان و شوکت کی یاد دلاتے ہیں، جس کے نیچے ہزاروں سال کی تہذیب وثقافت کے راز دفن ہیں۔