• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ووٹ کا حق ملنے سے اونر شپ محسوس کرتے ہیں، پرانی غلطی کو ٹھیک کر دیا گیا، اوررسیز پاکستانیز

لندن (سعید نیازی) برطانیہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے اوورسیز پاکستانیوں نے ووٹنگ کا حق دیئے جانے پر وزیراعظم عمران خان اور معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری کا شکریہ ادا کیا ہے۔ فون کالز اور واٹس ایپ کے ذریعے اس اخبار کو بھیجے گئے پیغامات میں پاکستانی ڈیاسپورا کی درجنوں سرکردہ آوازوں نے اوورسیز پاکستانیز کو ووٹ کا حق ملنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ووٹ کا حق دیئےجانے پر کمیونٹیز نے خوشیوں کو شیئر کیا۔ انہوں نے اوورسیز پاکستانیز کے ووٹ کے حق کے ایشو کو سنجیدگی سے اٹھانے پر کریڈٹ وزیراعظم عمران خان کو دیا اور زلفی بخاری کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے تین سال کے دوران اوورسیز منسٹر کی حیثیت اس کاز کی حمایت کی۔ کورونا پینڈامک میں اوورسیز کمیونٹیز کے ساتھ اپنے دوروں میں اور آن لائن مصروف رہے۔ برٹش پاکستانی کمیونٹی لیڈر سید قمر رضا نے کہا کہ کئی دہائیوں سے بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے وطن میں حق رائے دہی سے محروم تھے۔ پی ٹی آئی نے اس غلطی کو درست کیا اور انہیں ووٹ کا حق دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اس کامیابی پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ہم اس معاملے میں زلفی بخاری کے ساتھ بھی مصروف رہے اور انہوں نے ہمیشہ اس ایشو میں رہنمائی کی۔ آج وہ اس منسٹری میں نہیں ہیں لیکن اس کا کریڈٹ ان کو جاتا ہے، ہم نے انہیں پاکستان اور برطانیہ دونوں جگہ ایکشن میں دیکھا ہے۔ ویسٹ لندن کی ملیحہ راجپوت نے کہا کہ ووٹ کا حق دینے پر ہم عمران خان اور زلفی بخاری کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہمارا یہ خواب تھا کہ ہم پاکستان کے سیاسی نظام میں سٹیک ہولڈرز کے طور پر حصہ لے سکیں اور اب ہمیں یہ حق مل گیا۔ عمران خان اوورسیز پاکستانیز کیلئے ہمیشہ کھڑے رہے اور ان کے مشن کو زلفی بخاری نے مؤثر انداز میں آگے بڑھایا اور انہوں نے ذاتی طور پر میری مدد کی، جب میں ان تک رسائی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں ایمانداری کے ساتھ یہ بات کہتی ہوں کہ میرے زمین کے تنازع میں حکومت میں ان کے سوا کسی اور نے مدد نہیں کی تھی، اس نے پاکستان پر میرے اعتماد کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیز کی جانب سے مخیرانہ کنٹری بیوشن کو نوٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کے دل میں خاص مقام رکھتے ہیں اور انہوں نے اوورسیز پاکستانیز کو عظیم اثاثہ قرار دیا تھا۔ اگر ہم اس اثاثے کو صحیح طور پر استعمال کر لیں تو ہمیں آئی ایم ایف یا کسی اور سے قرضے لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے انہیں کبھی اثاثہ ہی نہیں سمجھا ہے اور ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے ہم نے مزید مشکلات کھڑی کی ہیں۔ سپین سے تعلق رکھنے والے امانت حسین نے کہا کہ میں تمام پارٹیز سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد سے ملا ہوں اور تمام افراد ہی انتہائی خوش ہیں کہ انہیں پاکستان میں ووٹنگ کا حق مل گیا ہے۔ امانت نے کہا کہ یورپ کے پاکستانیوں کے وفد کے دورہ اسلام آباد کے دوران میں زلفی بخاری سے ملا تھا تو اس وقت میں نے زلفی بخاری کو اوورسیز پاکستانیز کے ووٹ کےحق کیلئے انتہائی پر جوش پایا تھا اور انہوں نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہمارے خیالات اور خواہشات کو وزیراعظم تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے تین دن کے اندر ہی وزیراعظم سےملاقات کی اور پھر ہمیں مطلع کیا کہ انہوں نے ہمارا پیغام وزیراعظم تک پہنچا دیا، جنہوں نے ہمیں اس معاملے کو حل کرانے کے عزم کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ ہم درست سمت میں اس قدم پر ان کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ مانچسٹر سے تعلق رکھنے والے آصف بٹ نے گزشتہ تین سال کے دوران منسٹری آف اوورسیز کی جانب سے اوورسیز پاکستانیز کے ساتھ ووٹ کے حق کیلئے مصروف رہنے پر انتہائی شکریہ ادا کیا اور اس کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب پہلی بار پاکستانی اونرشپ محسوس ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت اور خاص طور پر وزارت اوورسیز نے ہم اوورسیز پاکستانیز کیلئے موثر کردار ادا کیا ہے، اب ہم خود کو پہلے سے زیادہ بااختیار محسوس کرتے ہیں۔ برٹش پاکستانی کمیونٹی کے رہنما نعیم احمد عباسی نے کہا کہ زلفی بخاری نے اوورسیز منسٹر کی حیثیت سے اپنے آخری دورے میں برطانوی منسٹرز، پاکستانی ہائی کمیشن کے منسٹرز اور نادرا حکام کے ساتھ اوورسیز پاکستانیز کو درپیش مسائل کے حوالے سے ملاقاتیں کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ زلفی بخاری اوورسیز پاکستانیز کے مسائل کو حل کرنے کیلئے پرعزم تھے اور انہوں نے اوورسیز پاکستانیز برطانیہ میں مقیم پاکستانی ڈیاسپوہرا کے خیالات اور مسائل کو دور کرنے کیلئے بہترین کوششیں کیں۔ رلفی بخاری باقاعدگی کے ساتھ سے میڈیا کے ذریعے اوورسیز پاکستانیز کے مسائل پر مصروف رہے اور انہوں نے ڈیاسپورا کمیونٹی آرگنائزیشنز کے ساتھ کام کیا۔ سکائی نیوز کے پرائم ٹائم شو میں ایڈم بولٹن سے بات کرتے ہوئے زلفی بخاری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کیلئے 9 ملین سے زائد اوورسیز پاکستانیز کے ساتھ کئے گئے اپنے وعدے کو پورا کر دیا ہے۔ اوورسیز پاکستانیز کیلئے ووٹ کا حق ایک بڑا قدم ہے۔ برطانیہ میں 1.3 ملین اوورسیز پاکستانیز کیلئے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برٹش پاکستانی کمیونٹی بہت زیادہ موثر اور بھرپور ہے لیکن ہر کسی کیلئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے پاکستان کا سفر کرے۔ انہوں نے کہا کہ اب فلپائن، جرمنی، اٹلی اور امریکہ کے لوگوں کی طرح ووٹ ڈالنے کا حق مل گیا ہے۔ انہوں نے ایڈم بولٹن کی اس ایسسمنٹ سے اتفاق کیا کہ تقریباً 9 ملین ووٹرز کی شرکت سے اہم نشستوں کے کے نتائج تبدیل کر سکتی ہے۔ زلفی بخاری نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیز کی ووٹنگ کی وجہ سے 25 سے 30 نشستوں کے نتائج میں تبدیلی آسکتی ہے۔ انہوں نے اس عمل کو متنازع بنانے پر اپوزیشن پارٹیز پر تنقید کی اور کہا کہ اپوزیشن اوورسیز ووٹنگ کے حق سے خوف زدہ ہے اور اسی لئے وہ اس کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن انہیں کامیابی نہیں ہوگی۔ زلفی بخاری نے ایڈم بولٹن کو بتایا کہ ای وی ایمز کی قانون سازی کی منظوری پر وزیراعظم نے کہا کہ اس سے بھی مجھے بہت خوشی ہوئی ہے اور انہوں نے نوٹ کیا کہ تیزی کے ساتھ بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی تمام شعبوں میں انسانوں کی زندگیوں میں تیدیلیاں لا رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینز (ای وی ایمز) کے استعمال سے متعلق انتخابات (ترمیمی) بل 2021 اور انتخابات (دوسری ترمیم) بل 2021 کی منظوری دی تھی۔ ان ترامیم کی منظوری کے ساتھ اوورسیز پاکستانیز کو ووٹ کا حق اور ملک بھر کے پولنگ سٹیشنز میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کے استعمال کی اجازت مل گئی۔ دریں اثناء اپوزیشن لیڈر نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کو برائی اور شیطانی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت ملک بھر کے پولنگ سٹیشنز میں ان مشینز کو لگا کر اگلے انتخابات چوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یورپ سے سے مزید