• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمارت کی تعمیر کیلئے نقشہ سازی کتنی اہم ہے؟

کوئی بھی کام کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے، جس پر عمل کرکے اس کام کو منطقی انجام تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس طرح تعمیراتی عمل میں کوئی بھی منصوبہ شروع کرنے سے قبل اس کا نقشہ (Floor plan)بنایا جاتا ہے، تاکہ مذکورہ نقشے کے مطابق تعمیر کرکے ممکنہ غلطیوں سے بچا جاسکے۔ تعمیراتی شعبہ میں نقشہ سازی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ تعمیر کے بعد اگر عمارت میں ڈیزائن کے حوالے سے کسی قسم کے نقائص آئے تو پھر اس غلطی کو درست کرنے کے لیے کافی زیادہ لاگت اور وقت لگتا ہے جبکہ کچھ ایسے اسڑکچرل مسائل بھی ہوجاتے ہیں جن کی تلافی ممکن نہیں ہوتی اور عمارت یا اس کے متعلقہ حصہ کو گرانا پڑتا ہے۔ 

اس کے علاوہ، عمارت کی تعمیر سے قبل نقشہ کے ذریعے آپ کو معلوم ہوجاتا ہے کہ آپ کے پاس کیا کیا آپشنز موجود ہیں۔ ہمارے ہاں عموماً مکانات کی تعمیر یا تزئین نو کے لیے نقشہ سازی پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی اور بعض اوقات تو اندازے سے ٹھیکیدار یا مزدوروں کو بتادیا جاتا ہے کہ کہاں کتنا بڑا کمرہ، کچن یا باتھ روم وغیرہ بنانا ہے۔ 

تاہم، اس طریقہ کار سے مستقبل میں خاصا نقصان ہوسکتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ جب بھی عمارت کی تعمیر کا ارادہ ہو تو پہلے کسی بھی اچھے انجینئر سے اس کا نقشہ بنوایا جائے۔ اس طرح دستیاب جگہ کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے بہتر ڈیزائننگ ہوسکے گی۔

نقشہ کی اقسام

نقشے تین طرح کے ہوتے ہیں جیسے کہ ہائوس پلان، ایلیویشن اور اسٹرکچر ڈرائنگ۔

ہاؤس پلان: اس میں منتخب کردہ انجینئر پلاٹ کی پیمائش کے مطابق آپ کی ضروریات اور پسند کو سامنے رکھتے ہوئے کمروں، باتھ روم، ڈرائنگ روم، لاؤنج، کچن اور باغیچہ وغیرہ ڈیزائن کرتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ کس جانب کتنے سائز کا کمرہ بنایا جائے گا اور اٹیچ باتھ روم کہاں اور کس سائز کا تعمیر ہوگا۔ اس کے علاوہ دیگر ضروری کمرے اور کچن وغیرہ کے سائز اور ان کی جگہوں کا تعین کرتا ہے۔ مکان کی تعمیر کے لیے ہائوس پلان والا نقشہ ضرور بنوانا چاہیے، یہ ایک بار کی سرمایہ کاری ہے ، جس میں انجینئر آپ کی ضروریات اور خواہشات کے مطابق بہترین کام کرکے دے گا۔

ایلیویشن: اسے عام طور پر فرنٹ ویو بھی کہا جاتا ہے۔ اس کو بنوانا آپ کی مرضی پر منحصر ہے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا گھر سادہ نظر آنے کے بجائے خوبصورت اور محلّے کے دیگر گھروں کے مقابلے میں ممتاز دِکھے تو یہ کام کروائیں۔

اسٹرکچر ڈرائنگ: پاکستان میں اس ڈرائنگ کا تصور بڑے تعمیراتی منصوبوں مثلاً کثیر منزلہ عمارتوں بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیز یا بڑے شادی ہالز وغیرہ میں ہے جبکہ عام مکانات کی تعمیر کے لیے اسٹرکچر ڈیزائن نہیں کرایا جاتا۔ اس نقشے میں عمارت میں استعمال ہونے والا سریا ڈیزائن کیا جاتا ہے یعنی سریے کی موٹائی کیا ہوگی اور وہ کتنے کتنے فاصلے پر ڈالا جائے گا وغیرہ۔

نقشہ کس سے بنوائیں؟

ویسے تو کمپیوٹر پر عمارت کا نقشہ ڈیزائن کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ AutoCad سافٹ ویئر اور دیگر آن لائن سافٹ ویئر اس حوالے سے سہولت فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، انجینئرنگ کے حوالے سے معلومات اور فیلڈ ورک کا تجربہ نہ ہونے سے کسی عام شخص کے لیے نقشہ ڈیزائن کرنا نہایت ہی مشکل عمل ہے اور ٹھیکیدار کے لیے بھی اس کو عملی جامہ پہنانا ناممکن ثابت ہوسکتا ہے۔ 

نقشہ نویس کو نہ صرف آٹو کیڈ یا کوئی دوسرا سافٹ ویئر چلانا آنا چاہیے بلکہ وہ سول انجینئر بھی ہو اور فیلڈ سے متعلق چیزوں کا بھی علم رکھتا ہو۔ وہ جو نقشہ بنائے اسے آرکیٹیکچر، الیکٹریکل، پلمبنگ اور سریے کے حوالے سے قابل عمل بھی ہو۔

مستقبل کی ضروریات

نقشہ سازی کرتے وقت مستقبل کی ضروریات کو لازمی مدنظر رکھنا چاہیے جیسا کہ آنے والے وقت میں آپ کے خاندان میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ لہٰذا مکان کی نقشہ سازی سے قبل مستقبل کو مدِنظر رکھتے ہوئےاپنی سوچ کا دائرہ وسیع کریں۔ آپ کے مکان کا نقشہ ایسا ہونا چاہیے، جو نہ صرف موجودہ بلکہ مستقبل میں بھی آپ کے خاندان کی ضروریات پوری کرے اور سہولتوں کا باعث بنے۔

بجٹ کتنا ہے ؟

نقشہ سازی کے دوران مکان کی تعمیر پر آنے والی ممکنہ لاگت کا حساب لگانا بھی انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے پاس موجود رقم تخمینہ کردہ رقم سے20سے 25فیصد زائد ہو۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو دورانِ تعمیر بجٹ کی وجہ سے کسی بھی مرحلے پر مکان کی تعمیر میں خلل آسکتا ہے۔

اجازت نامے حاصل کرنا

نقشہ تیار ہوجانے اور دیگر امور کی معلومات حاصل کرنے کے بعد متعلقہ شہری، صوبائی یا وفاقی اداروں سے قانونی اجازت نامے حاصل کرنا ہوں گے۔ اس عمل میں عموماً دو ہفتے سے زائد عرصہ لگ سکتا ہے۔

تعمیراتی عمل کی تیاری

نقشہ سازی مکمل ہونے اور اسے متعلقہ اداروں کو منظوری کے لیے بھیجنے کے ساتھ ہی تعمیراتی مواد کے انتخاب کا عمل شروع کردیا جائے تو اس سے وقت کی بچت بھی ہوگی اور بجٹ کی مناسبت سے مٹیریل کے انتخاب میں آسانی بھی ہوگی۔ اسی کے مطابق ٹھیکیدار سے مزدوری کی لاگت طے کرنے میں بھی سہولت ہوگی۔