• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کامنز میں بچے کو ساتھ لانے کی اجازت نہیں، لیبر ایم پی سٹیلا کریسی کو ہاؤس اتھارٹیز کا انتباہ

لندن (پی اے) لیبر ایم پی سٹیلا کریسی کو کہا گیا ہے کہ وہ کامنز میں اپنے تین ماہ کے بیٹے کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتیں جس کے بعد انہوں نے کہا کہ سیاست اور پیرنٹنگ میں میل جول کو ممکن بنانا چاہئے۔ سٹیلا کریسی کو بتایا گیا کہ وہ ویسٹ منسٹر ہال میں مباحثے کے دوران اپنے بچے کو لے کر آتی ہیں جو رولز کے خلاف ہے اور منگل کو بھی انہوں نے ایسا ہی کیا تھا، بچے کے ساتھ ویسٹ منسٹر مباحثے میں شرکت کے بعد لیبر ایم پی کا کہنا تھا کہ یہ اطلاع میرے لئے خبر ہے، وہ ماضی میں بھی بچے کے ساتھ اجلاس میں شرکت کرتی رہی ہیں، اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے، ہائوس آف کامنز نے کہا کہ وہ مس کریسی کے ساتھ کمیونی کیشن میں ہے، سٹیلا کریسی ایم پی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے شیرخوار بچے کے ساتھ باقاعدگی سے اجلاس میں شرکت کرتی ہیں، وہ بریسٹ فیڈنگ کرتی ہیں، اس سے پہلے ان کی بیٹی کو کامنز چیمبرز میں لے جاتی تھیں لیکن منگل کو ملحقہ ویسٹ منسٹر ہال میں اپنے بیٹے کے ساتھ موجودگی کے بعد انہیں ویز اینڈ مینز کمیٹی چیئرمین ڈیم ایلینور لیانگ کے پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ ان کا یہ رویہ حال ہی میں شائع ہونے والے بیہیویئر اینڈ کورٹیسس رولز سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔ ڈپٹی پرائم منسٹر ڈومینک راب نے کہا کہ انہیں والتھم سٹوو کی ایم پی کے ساتھ بہت زیادہ ہمدردی ہے اور سیاست دانوں کو یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہمارا پروفیشن اب ماڈرن ورلڈ میں آچکا ہے تاکہ والدین بوقت ضرورت اپنی ملازمت کے دوران خاندان کے ساتھ مل جل سکیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ کامنز میں ایک بچے کی وجہ سے یقینی طور پر میری توجہ نہیں ہٹے گی یا یہ کہ نہ ہی میرے کام میں رکاوٹ ہوگی تو مسٹر راب نے کہا کہ یہ ہائوس اتھارٹیز کا کام ہے کہ وہ درست توازن کا فیصلہ کریں۔ لیبر ایم پی جو دس ممز ووٹ کمپین کے ذریعے مزید مائوں کی سیاست میں آنے کیلئے حوصلہ افزائی کرتی ہیں، نے ای میل ٹوئٹر پر شیئر کی جو انہیں بھیجی گئی تھی۔ انہوں نے لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ تمام پارلیمنٹس کی ماں میں مائوں کی آواز کو نہیں سنا جا رہا ہے۔ کامنز سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نے رولز بک جاری کی ہے، جس کا اطلاق چیمبر آف ہائوس آف کامنز اور ویسٹ منسٹر ہال میں ہوتا ہے، جسے ستمبر میں اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔ اس رولز بک میں کہا گیا ہے کہ جب آپ کےساتھ آپ کا بچہ ہو تو آپ کامنز میں اپنی نشست پر نہیں بیٹھ سکتے اور نہ ہی چیمبر کے دونوں اختتام پر ڈویژنز کے درمیان کھڑے ہو سکتے ہیں۔ رولز بک کے پرانے ورژن میں بھی یہی الفاظ استعمال کئے گئے تھے لیکن ایک اور رکن پارلیمنٹ الیکس ڈیوس جونز نے کہا کہ انہیں کامنز کے سپیکر لنزے ہوئل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر انہیں چیمبر میں اپنے بچے کو دودھ پلانے کی ضرورت ہے تو وہ ایسا کر سکتی ہیں۔ مسز سٹیلا کریسی ایم پی نے کہا کہ یہ ایسا نظام نہیں ہے جو کسی ایسے شخص کیلئے کام کرتا ہے جو کسی خاص پس منظر سے تعلق رکھنے والا کسی خاص عمر کا آدمی نہیں ہے۔ میرے پاس میٹرنٹی کور نہیں ہے۔ میرے پاس میٹرنٹی کور کیلئے اپملائمنٹ رائٹس نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورت حال کا پیدا ہونا ہماری جمہوریت کیلئے برا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ نئے پیرنٹس کو بطور ایم پی کام جاری رکھنے کیلئے کیا تبدیلیاں کی جانی چاہئیں تو انہوں نے کہا کہ میرے لئے تو بہت تاخیر ہو چکی ہے لیکن میں یہ یقینی بنانے کیلئے بہترین کوشش کر رہی ہوں کہ والتھم سٹوو کو سننا جاری رہنا چاہئے کیونکہ میں اس کی مستحق ہوں کہ میری بات سنی جائے۔ لیبر ایم پی سٹیلا کریسی نے اراکین پارلیمنٹ کیلئے رول بک پر نظرثانی کا مطالبہ کیا اور ہائوس اتھارٹیز سے پوچھا اگر میں اپنے بیٹے کو کام کر ساتھ لانا جاری رکھوں تو پھر مجھے کیا کرنا چاہئے۔ انہوں نےکہا کہ میرے پاس ایک بچہ تھا لیکن میں نے اپنا دماغ یا کام کرنے کی صلاحیت کو نہیں چھوڑا اور ہماری سیاست اور ہماری پالیسی سازی بہتر ہوگی اگر زیادہ مائیں میز پر موجود ہوں گی۔ ایم پیز کو چھ ماہ کی پیڈ میٹرنٹی لیو اور پراکسی ووٹ کا استحقاق حاصل ہے اور کچھ کا کہنا ہے کہ مناسب میرنٹی کور کیلئے فنڈنگ حاصل کرنا مشکل ہے۔ کامنز مباحثوں میں اپنے انتخابی حلقوں کے لوگوں کے خیالات کی نمائندگی کرنے کیلئے ایم پیز کی ویسٹ منسٹر میں ذاتی موجودگی ضروری ہے، مثال کے طور پر سابق لبرل ڈیموکریٹ ایم پی جو سونسن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 2018 میں کامنز مباحثے کے دوران اپنے بچے کو کریڈل میں لانے والی پہلی ایم پی تھیں۔ اسی سال نیوزی لینڈ کی پرائم منسٹر جیسنڈا ارڈرن نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فلور پر بچے کے ساتھ جانے والی دنیا کی پہلی ورلڈ لیڈر تھیں۔ ہاؤس آف کامنز کے ترجمان نے کہا کہ یہ تمام ایم پیز کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور اردگرد اپنے فرائض انجام دیں۔ ایم پیز کسی بھی وقت چیمبر یا ویسٹ منسٹر میں رہتے ہوئے سپیکر، ڈپٹی سپیکرز، کلرکس اور ڈورکیپرز سے اپنی ضروریات کے حوالے سے مشاورت کر سکتے/سکتی ہیں۔

یورپ سے سے مزید