• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرانس میں روانڈا نسل کشی میں ملوث مجرم کے مقدمے کی سماعت

پیرس ( رضا چوہدری ) پیرس کی ایک عدالت میں سابق ہوٹل ڈرائیور کلاڈ موہیمانا کے مقدمے کی سماعت شروع کر دی ہے جس پر روانڈا کی 1994 کی نسل کشی میں ملوث ہونے کا الزام ہے جس نے سیکڑوں توتسیوں کا قتل عام کرنے والے ہوتو ملیشیا کو منتقل کیا تھا۔60 سالہ موہیمانہ پر "جنگی جرائم" اور "انسانیت کے خلاف جرائم" میں مدد کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ 1994کی نسل کشی کے دوران صرف تین مہینے میں800000اقلیتی توتسی اور ہوتو اکثریت کے اعتدال پسند لوگوں کو ذبح کر دیا گیا تھا،کلاڈ موہیمانا مغربی روانڈا کے کیبوئے میں ایک سیاحتی ہوٹل میں ڈرائیور کے طور پر کام کر رہا تھا، اس پر ہوتو پولیس اور ملیشیا کے اہلکاروں کو جان بوجھ کر کیبوئے کے علاقے کے آس پاس کی پہاڑیوں میں قتل عام کرنے اور اپریل 1994 میں ایک اسکول پر حملے میں مدد کرنے کا الزام ہے۔موہیمانا جس کی شادی اس وقت ایک توتسی خاتون سے ہوئی تھی، نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب قتل عام ہوا تو وہ کیبوئے میں نہیں تھا۔ CoVID-19 کی سفری پابندیوں نے ججوں کو اس سال کے شروع میں مقدمے کی سماعت ملتوی کرنے پر مجبور کیا۔ جرم ثابت ہونے پر اسے عمر قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فرانکو،روانڈان نسل کشی کے بعد موہیمانہ بہت سے روانڈا کے باشندوں کی طرح فرانس فرار ہو گیا تھاکیونکہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان قریبی سفارتی تعلقات تھے۔ اس نے شمالی شہر روئن میں پناہ حاصل کی اور 2010 میں فرانسیسی شہریت حاصل کی۔فرانسیسی حکومت روانڈا کی نسل کشی کی ʼاہم ذمہ داریʼ برداشت کرتی ہے، امریکی رپورٹ پر اسے اپریل 2014 میں پیرس کے پراسیکیوٹرز کی تحقیقات کے بعد گرفتار کیا گیا تھا جس کا اشارہ کولیکٹیو آف سول پارٹیز فار روانڈا (CPCR) نے کیا تھا۔ پروبیشن پر رہا ہونے سے پہلے اس نے ایک سال احتیاطی حراست میں گزارا۔ اس کے بعد اس نے روئن میں سڑکوں کی مرمت کا کام شروع کیا۔ ʼعامʼ شہری فرانس میں روانڈا کی نسل کشی کے مشتبہ افراد کا یہ تیسرا مقدمہ ہے جس کا قانونی نظام انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلانے والے ججوں کو عالمی دائرہ اختیار دیتا ہے۔ سی پی سی آر کے وکیل الیگزینڈر کیابسکی، جو مدعیان میں سے ایک ہیں نے کہا کہ موہیمانا انصاف کا سامنا کرنے والا پہلا "عام" شہری ہوگا جسے قتل سے پہلے "ہر طرف قابل احترام" سمجھا جاتا تھا۔ مقدمے کی سماعت ایک ماہ تک جاری رہنے کی توقع ہے، اور تقریباً 50 گواہوں کو گواہی دینا ہے، جن میں روانڈا سے تعلق رکھنے والے 15 گواہ بھی شامل ہیں۔ روانڈا نسل کشی کے دیگر مشتبہ افراد کے تقریباً 30 مقدمات کی سماعت فرانسیسی عدالتوں میں ہونا باقی ہے۔تین افراد کو پہلے ہی سزا سنائی جا چکی ہے، ایک فوجی افسر کو 25 سال قید کی سزا سنائی گئی، اور دو میئرزکو عمر قید کی سزا سنائی گئی، فرانسیسی عدالت نے روانڈا کے سابق جاسوس کو نسل کشی کے جرم میں 25 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ روانڈا کے سابق میئرز نے فرانسیسی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل کی۔
یورپ سے سے مزید