• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موجودہ NHS چارجنگ سسٹم امیگرنٹس کیلئے موزوں نہیں، تھنک ٹینک

لندن ( پی اے ) ایک تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ تارکین وطن کیلئے موجودہ این ایچ ایس چارجنگ سسٹم مقصد کیلئے غیر موزوں ہے۔ چارجنگ رولز لوگوں کو ہیلتھ کیئر تک رسائی سے روکتے ہیں اور یہ علاج میں بھی تاخیر کا باعت بنتے ہیں ۔ یہ رولز این ایچ ایس پروفیشنلز کو ان کی کیئر کی ذمہ داریوں سے بھی ہٹاتے ہیں اور جن مریضوں پر بڑے بلز کیلئے اپلائی کیے جاتے ہیں جن کی ادائیگی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔ تھنک ٹینک آئی پی پی آر کی ایک ریسرچ رپورٹ میں کہا گیا کہ حالیہ برسوں کے دوران انگلینڈ میں ہیلتھ کیئر کیلئے مایگرنٹس سے فیس وصول کرنے کا سسٹم زیادہ سخت ہو گیا ہے ۔آئی پی پی آر کی تازہ ترین رپورٹ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ کہ جو کوئی شخص اگر برطانیہ کا عام ریذیڈنٹ نہیں ہے تو اس سے برطانیہ کے ہسپتال میں کیئر کیلئے این ایچ ایس نیشنل ٹیرف کا 150 فیصد چارج کیا جاتا ہے تاوقتیکہ کچھ استثنیٰ اپلائی نہ ہوں ۔ آئی پی پی آر نے کہا کہ ان رولز سے متاثر ہونے والے بڑے گروپ میں کم مدت کیلئے وزٹ کرنے والے نان یورپی اور کسی سٹیٹس کے بغیر انگلینڈ میں رہنے والے مائیگرنٹس شامل ہیں ۔ اس ریسرچ رپورٹ کےمصنفین نے لکھا کہ این ایچ ایس کا موجودہ چارجنگ سسٹم کام نہیں کر رہا ہے اور ان ک مطابق چارجنگ رولز لوگوں کو ہیلتھ کیئر سہولتوں تک رسائی سے روک رہے ہیں اور علاج میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں۔ ان رولز کی وجہ سے این ایچ ایس پروفیشنلز کی کیئر رولز سغ توجہ بھی ہٹ جاتی ہے اور ایسے مریضوں پر بڑے بل لاگو کیے جاتے ہیں جن کی ادائیگی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ عام ریذیڈنس کی اصلاح کی تعریف میں تبدیلی جس میں امیگریشن سٹیٹس سے قطع نظر تمام رہائشی شامل ہیں، سے موجودہ چارجنگ سسٹم کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی ۔ ان کا کہنا تھاکہ یہ موجودہ نظام کا بہترین اور انتہائی موثر متبادل ثابت ہو گا ۔ مصنفین نے کہا کہ اس کے ذریعے علاج میں تاخیر کو بھی کم کیا جا سکےگا اور علاج کے میڈیکل رزلٹس بھی بہتر ہو جائیں گے۔ اور اس کے دریعے بالآخر سب کیلئے میڈیکل اینڈ ہیلتھ کوریج کے برطانوی عزم کو حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی ۔ آئی پی پی آر ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر میرلی مورس نے کہاکہ انگلینڈ میں این ایچ ایس کا موجودہ چارجنگ سسٹم مقصد کیلئے نامناسب ہے۔ ان موجودہ رولز کے مطابق طویل مدتی ریذیڈنٹس کو کریٹیکل ٹریٹمنٹ کیلئے بھاری بلز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہرولز مریضوں کیلئے پریشان کن اور تکلیف دہ ہوتے ہیں جن کو نافذ کرنے کیلئے ڈاکٹرز اور نرسز ک کو دبائو کا سامنا ہوتا ہے اور یہ پبلک ہیلتھ کیلئے بھی نقصان دہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تجاویزاس بات کو یقینی بنائیں گی کہ تمام ریذیڈنٹس کو ان کے امیگریشن سٹیٹس سے قطع نظر پوائنٹ کے استعمال پر فری سیکنڈری ہیلتھ کیئر تک رسائی ہو گی بشرطیکہ وہ مختصر مدت کے وزیٹرز نہ ہوں ۔
یورپ سے سے مزید