• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر: محمد اسلام علی شاہ۔ویکفیلڈ
یہ وہ باپ ہے جو باجوڑ میں رہتا ہے۔ جس کے ایک بیٹے کو پہلے نامعلوم افراد نے شہید کردیا تھا، اس کے بعد یہ دوسرا بیٹا جو قاری بھی تھا اور یونیورسٹی کا طالب علم بھی تھااس کو بھی نامعلوم افراد نے بے دردی سے قتل کردیا بلکہ یہ بھی کہیں پڑھا کہ گھر میں گھس کر شہید کردیا، یہ بوڑھا باپ اپنے پہلے بیٹے کی شہادت پر اس کی قبر پر اس طرح نہیں لیٹا جس طرح یہ آج اپنے دوسرے بیٹے کی قبر پر لیٹا ہوا ہے، پہلے بیٹے کی شہادت پر شاید یہ بوڑھا باپ سمجھا کہ میں ریاست مدینہ کے دعویداروں کی ریاست مدینہ میں رہ رہا ہوں یہاں تو قاتل نامعلوم ہو تو ریاست قاتل ہوا کرتی ہے۔اس لئے سیدھا کھڑا رہااور ریاست سے امید لگائی کہ یہ میرے بیٹے کے قاتل کو ڈھونڈ لے گی ،اس کو اس لئے بھی یقین تھا کہ ریاست کے موجودہ وزراء کہا کرتے تھے کہ ریاست میں کوئی قتل ہوجائے تو اس کا ذمہ دار حکمران وقت ہوا کرتا ہے تا آنکہ اس کا قاتل نہ مل جائے، یہ بوڑھا اس لئے بھی اپنے پہلے بیٹے کی قبر پر اس طرح نہیں لیٹا کہ اس نے سمجھا کہ چلو اللہ کے بعد اس کا یہ دوسرا بیٹا اس کا سہارا بن جائے گا مگر اس بے چارے کو کیا معلوم تھا کہ جس ریاست میں ، میں جی رہا ہوں اس میں انسان کی قدرو منزلت اس پرندے کی سی ہے جس کو جس کا جی چاہے شکار کر لیتا ہے بلکہ دوسرے ملکوں سے ریاست شکاری اٹھا اٹھا کر لاتی ہے اور ان پرندوں کا شکار کرواتی ہے ، جب اس بوڑھے باپ کا دوسرا جوان بیٹا بھی اس عمر میں شہید کردیا تو اس کی کمر ٹوٹ گئی، یہ اپنے قدموں پر کھڑا نہ ہوسکا، اس کی کمر ایسی جھکی کہ وہ جوان بیٹے کو قبر میں دفنا کر اٹھنا چاہتا تھا مگر وہ اٹھ نہ سکا، اپنے بیٹے کی قبر پر ہی گر پڑا، اس کو معلوم ہوگیا کہ اب میرا یہ بیٹا واپس نہیں آسکتا، اس نے اپنی تمام امیدوں کو اس جوان بیٹے کے ساتھ دفنا دیا، وہ قبرستان سے گھر واپس جانا چاہتا تھا مگر اس کے قدم اس کو روک رہے تھے کہ وہ اپنے جوان بیٹے کی ماں کو، اس کی بیوہ کو، اس کے معصوم بچوں کو ان کے سوالات کے جوابات دینے سے عاجز تھا ، اس کو معلوم تھا کہ جب وہ گھر جائے گا تو اس سے گھر والے پوچھیں گے کہ تم نے ہمارے لخت جگر کو ، زندگی کے ہمسفر کو اور ہمارے سر کی چھاؤں کو کہاں دفنا دیا، تو وہ قبر پر ہی لیٹ گیا اور ریاست سے پوچھ رہا ہے کہ اے میری ماں ریاست میرے بیٹوں کو کیوں قتل کیا گیا، مجھے میرے بیٹوں کے خون کا حساب دے ، میری ریاست میرے بیٹے نامعلوم لوگوں نے شہید کردئیے تو مجھے ان کا جرم بتا دے کیوں قتل کیا، میری کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی اور نہ ہے ، ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ میں نے اپنے بیٹوں کو دینی علوم کی تعلیم دی تھی ، کیا اس ریاست میں دینی علوم کا حاصل کرنا جرم ہے، کیا ان کا اللہ کی کتاب کو اپنے سینے میں محفوظ کرنا جرم ہے ، اس وقت ریاست کا بچہ بچہ اور خاص کر اس بوڑھے باپ کے علاقے کے لوگ سراپا احتجاج ہیں ، پورا علاقہ گھروں سے باہر نکل کر اس کے معصوم بچوں کی بے گناہی پر مہر ثبت کر رہے ہیں اور ریاست سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ریاست اس بوڑھے کوجواب دے اور اس کے بیٹوں کے قاتل ڈھونڈے، یہ دنوں کی گردش ہے اللہ بچائے کہیں آپ اس گردش میں پھنس نہ جائیں، اے ریاست کے محافظوں کے سربراہ یہ بوڑھا اس عمر میں اپنے جوان بیٹے چھن جانے پر قبر پر اپنی کمزوری کا رونا روتا ہے اس کا سہارا اور بدلہ لینے والا کوئی نہیں رہا، اس کا سہارا بن کر اس کے قاتلوں کو تختہ دار پر لٹکانے تک اس کے دست بازو بن کر ناامید بوڑھے باپ کو امید دو، بے سہاراکمزور باپ کو سہار ادو، اپنے منصب کا احساس کرو، کل قیامت میں تم سے تمہارے اس منصب کے متعلق پوچھا جائے گا اور تم سے پوچھا جائے کہ تمہارے اس عہدے پر فائز رہتے ہوئے یہ معصوم لوگ علماء اور حفاظ قرآن کیوں نامعلوم افراد کے ہاتھوں سے شہید ہوئے، آخرت میں حساب دینے سے بچنے کے لئے دنیا میں ہی اپنے منصب کا احساس کرکے قوم کیے جان ومال کی حفاظت کریں، میں نے جب سوشل میڈیا پر اس بوڑھے اور لاچار باپ کی تصویر دیکھی تو مجھے اس کی تصویر میں اپنی اولاد نظر آنے لگی تو بے ساختہ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے،کاش کہ ریاست کے رکھوالے اس بوڑھے کی تصویر میں اپنی اولاد کو دیکھیں تو شاید وہ بھی رو جائیں اور پھر ریاست کے ہر بچے کی حفاظت کرکے اپنا فرض منصبی ادا کریں اور پوری ریاست کے بچوں اور ریاست کے باسیوں کے جان ومال کے محافظ بن جائیں۔
یورپ سے سے مزید