• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: ایک شخص دینی کتب کو بُرابھلا کہتا ہے، کیا اُسے اِمام بنا سکتے ہیں ؟

جواب: سائل نے وضاحت نہیں کی کہ مذکورہ شخص دینی کتابوں میں سے کن کتابوں کے بارے میں کیا کہتا ہے، اگر اس شخص کے الفاظ یا تحریرات کا حوالہ دے دیا جاتا تو متعینہ طور پر اس بارے میں حکم بتایا جاسکتا تھا، بہرحال اگر کوئی شخص واقعتاً دینی کتابوں کو بُرا کہتا ہے تو ایسا شخص گمراہ اور بددین ہے۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق تو ایک عام مسلمان کو بھی برابھلا کہنا فسق ہے، چہ جائیں کہ دینی کتب کو برابھلا کہنا کہ ان میں دین لکھا ہوتا ہے اور دین قرآن وسنت کانام ہے۔ 

ان کتابوں کے لکھنے والوں میں ائمۂ مجتہدین، محدثین، مفسرین، وقت کے قُطب اور اَولیاء،صوفی اور بزرگانِ دین سب شامل ہیں، لہٰذا ایسا شخص گمراہ اور بددین ہے اور اگر اسےدینی کتب کی توہین کی وجہ سے کافر کہا جائے تو بھی بے جا نہیں۔ اس کفروفسق کی وجہ سے وہ ہرگز امامت کے لائق نہیں ہے۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

masail@janggroup.com.pk