• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسان جتنا فطرت سے قریب رہتا ہے، اتنا ہی وہ خود کو خوش، مطمئن، پُرسکون، آرام دہ اور ذہنی تناؤ سے آزاد محسوس کرتا ہے۔ درحقیقت انسان کو فطرت سے قریب رہنا ہی پسند ہے لیکن شہری زندگی کی مصروفیات اور بڑھتی ہوئی آبادکاری کے نتیجے میں اسے اپنے قریب کہیں فطرت سے لگاؤ کا موقع ملتا ہے اور نہ ہی وہ اس سلسلے میں کہیں جانے کا وقت نکال پاتا ہے۔

لہٰذا کوشش کرنی چاہیے کہ گھر، دفتر اور کام کی جگہوں پر کچھ پھول، پودے اور درخت لگالیے جائیں۔ اس طرح نہ صرف صاف ہوا کا حصول ممکن ہوگا بلکہ ماحول بھی خوشگوار ہوجائے گا۔ تخلیقی آئیڈیاز استعمال کرکے گھر میں لگائے گئے رنگ برنگے پھول پودے باغیچے کو ایک نئی زندگی بخشتے ہیں۔

ماہرین گھر کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے باغیچے کو اہم سمجھتے ہیں۔ لہٰذا مکان کی تعمیر یا تزئین نو کے وقت باغیچے کے لیے جگہ مختص کرنا ہرگز نہ بھولیں۔ لازمی نہیں کہ بہت بڑا باغیچہ بنایا جائے، جگہ کے حساب سے چھوٹا باغیچہ بھی بنایا جاسکتا ہے تاکہ گھر میں ہریالی اور ماحول میں تازگی رہے۔ چنانچہ گھر میں اُفقی باغیچہ کے لیے اگر بڑی جگہ دستیاب نہ بھی ہو تو کیاریوں، عمودی باغیچے، عقبی حصے، چھت، بالکونی/ٹیرس وغیرہ میں باغبانی کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔ 

اس طرح گھر کی رونق اور قدروقیمت میں اضافہ ہوگا بلکہ طبیعت اور مزاج پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔ باغیچہ نہ صرف طبی فوائد کے لحاظ سے کئی طرح سے مفید ہے بلکہ اس کے ذریعے آپ کو تازہ پھل اور سبزیاں بھی حاصل ہوسکتی ہیں۔ ذیل میں باغیچے کی تعمیر و سجاوٹ کے لیے کچھ تخلیقی آئیڈیاز بیان کیے جارہے ہیں جو گھر کے بیرونی حصے کی دلکشی بڑھانے میں اہم کردار کرسکتے ہیں۔

صحن میں باغیچہ

مکان کی تعمیر یا تزئین نو کے وقت اس کی خوبصورتی اور مکینوں کے صحت مند طرزِ زندگی کے لیےلازمی ہے کہ نقشہ سازی میں باغیچے کے لیے جگہ مختص کی جائے۔ عام طور پر متوسط طبقے کے افراد 120گزکے پلاٹ پر مکان تعمیر کرواتے ہیں۔ تعمیراتی ماہرین کے مطابق بین الاقوامی قوانین کے تحت مکان کے نقشہ میں کم ازکم 10فیصد حصہ باغبانی کے لیے مختص کرنا چاہیے۔ تاہم، اگر رقبہ اس سے زائد ہے تو ایک خوبصورت اورکشادہ باغیچہ بھی ڈیزائن کیا جاسکتا ہے۔ 

باغبانی ٹرینڈ ز کو مد نظر رکھتے ہوئے صحن میں سائبان بھی تعمیر کروایا جاسکتا ہے، جو باغیچے کو ماڈرن انداز فراہم کرے گا۔ باغیچے میں مختلف آرائشی اور سجاوٹی اشیا استعمال کرتے ہوئے اسے منفرد بنایا جاسکتا ہے جبکہ برقی روشنیوں کا مناسب استعمال کرکے رات کے وقت بھی اسے دلکش بنایا جاسکتا ہے۔ اگر گھر میں چھوٹے بچے موجود ہیں تو باغیچے میں ایک چھوٹا سا فیری لینڈ (پرستان) تخلیق کیا جاسکتا ہے، جس کے ذریعے گھرکا بیرونی حصہ ایک بہترین گیمنگ ایریا میں تبدیل ہوجائے گا۔ اس حصے میں کسی گملے یا پلانٹ کنٹینر کے ذریعے بچوں کا فیری لینڈ بنائیں۔بچوں کے کھلونے اور خوبصورت چھوٹے پھول پودے اس ضمن میں مددگار ثابت ہوں گے۔

عمودی باغیچہ

گھر میں جگہ کم ہونے کی صورت میں عمودی طرز کا باغیچہ بہترین انتخاب ثابت ہوتا ہے۔ عمودی باغیچے کی تکمیل کے لیے آپ کو اپنے آنگن میں ایک سادہ سی دیوار کی ضرورت ہوگی۔ اس سے نہ صرف کم جگہ گھرتی ہے بلکہ دیکھ بھال بھی آسانی سے ہوجاتی ہے۔ عمودی باغیچہ بنانے کے لیے پودوں کی سجاوٹ مختلف طریقوں سے کی جاتی ہے۔ 

دیوار کے ساتھ لوہے سے تیار کردہ اسٹینڈ لگا کر اس پر پودے لٹکائے جاسکتے ہیں یا پودوں کے لیے عمودی پلانٹر لگائے جاسکتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ دیوار کو ہری بیلوں سے ڈھانپ دیا جائے، اس کے لیے لمبی سبز خوردنی پھلیوں اور ڈنڈوں کی مدد سے پھولوں کی بیلوں کو افقی طور پر پھلنے پھولنے میں مدد دی جاتی ہے۔ عمودی باغیچہ گھر کے بیرونی حصے کی کسی بھی دیوار کے ساتھ بنایا جاسکتاہے۔

راہداری میں باغیچہ

اگر صحن میں باغیچے کی جگہ پکا فرش بنایا گیا ہے تو اس صورت میں صحن میں موجود رہگزر کے ارد گرد کی جگہ بھی باغبانی کے لیے بہترین انتخاب ہوسکتی ہے۔ اس کی تیاری کے لیے زیادہ محنت بھی درکار نہیں ہوگی۔ اس کے لیے صحن کا درمیانی حصہ اس انداز سے منتخب کریں کہ اطراف کی جگہ جیومیٹریکل شیپ میں آجائے۔ 

ان جگہوں پر دونوں اطراف ایک ایک درخت، رنگ برنگےچھوٹے بڑے گملے اور سجاوٹی پتھر باغیچے کو شاندار انداز فراہم کریں گے۔ یہاں بڑے پلانٹ کنٹینرز رکھ کر ان میں موسمی پھول بھی سجائے جاسکتے ہیں جبکہ ارد گرد کے حصے میںگھاس اور زیر زمین اُگنے والے پھول پودوں کا انتخاب بہترین ثابت ہوگا۔ اس طرح کے باغیچے کی تیاری کے لیے ایسے حصے کا انتخاب کرنا چاہیے جو بظاہر رہگز ر میں رکاوٹ پیدا نہ کرے۔

ہارڈ اسکیپنگ ایریا

ہارڈ اسکیپنگ کے لیے فرش یا صحن میں اینٹیں اور پتھر لگاکر باغیچے کو تخلیقی شکل دی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے گھر کے مرکزی دروازے سے اندرونی حصے تک جاتی رہگزر کے دونوں کناروں کو پتھروں سے چھوٹی باؤنڈری وال میں تقسیم کردیا جائے یا پھر پتھروں سے پودوں کے لیے ایک ایسا پلانٹر تعمیر کیا جائے، جس میں آپ باغبانی کا شوق پورا کرسکیں۔ اس جگہ رنگ برنگے پھولوں اور روشنی کا اضافہ ہارڈ اسکیپنگ ایریا کی ہیئت تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔